بڑے نام والے بڑا کام کب کریں گے؟

پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں آسٹریلیا کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بعد کچھ مطمئن ہے کیونکہ اس کے آئندہ مقابلے بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ہیں، جن کے مقابلے میں پاکستان کی حالیہ کارکردگی بہت اچھی ہے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے ابتدائی دونوں مقابلوں ہی سے پاکستان کے منتخب کردہ دستے کی اہلیت کا اندازہ ہو گیا ہے۔ بالخصوص ان کھلاڑیوں کی کارکردگی کے بارے میں جن کی شمولیت پر خاصے اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔

شعیب ملک ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنے والے اسپیشلسٹ بیٹسمین کی حیثیت سے شامل ہیں (تصویر: AFP)

شعیب ملک ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنے والے اسپیشلسٹ بیٹسمین کی حیثیت سے شامل ہیں (تصویر: AFP)

جب راشد لطیف کو چیف سلیکٹر کا عہدہ دیا گیا تو امید ہوئی کہ اگر سابق کپتان کو کچھ عرصہ اس عہدے پر رہنے کا موقع مل گیا تو شاید قومی ٹیم کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب کے طریقے میں بہتری آ جائے کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ ابھی تک سلیکشن کے متعلق کوئی پالیسی وضع نہیں کرسکا۔ کھلاڑیوں کا انتخاب صرف دو بنیادوں پر ہوتا ہے، ایک جذباتی اور دوسری خوف۔ کبھی تو عالمی کپ میں شکست پر 8 سپر اسٹارز کو نکال کر باہر کردیا جاتا ہے تو کبھی ایک نوجوان کے سر پر کپتانی کا تاج سجا کر اسے اگلے تین عالمی کپ ٹورنامنٹس تک قیادت کے خواب دکھائے جاتے ہیں یا پر کبھی ایک عمر رسیدہ کھلاڑی کو گھر سے بلا کر کپتانی تھما دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ جذباتی پن کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے قومی ٹیم منتخب کرتے ہوئے سلیکٹر خوف کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 2012ء میں عبد الرزاق او رعمران نذیر کو اچانک ٹیم میں شامل کرکے احمد شہزاد جیسے نوجوان کے ساتھ ناانصافی برتی گئی تو حالیہ ٹی ٹوئنٹی میں کامران اکمل اور شعیب ملک کو واپسی کی نوید سنا دی گئی۔

جب پاکستان نے 2009ء میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا تو اس وقت ٹیم میں محمد عامر، احمد شہزاد اور شاہزیب حسن جیسے نوجوان شامل تھے جنہیں ملک کی نمائندگی کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ ان کے ساتھ ساتھ شاہد آفریدی، شعیب ملک، کامران اکمل اور عمر گل جیسے سینئرز بھی تھے جو اس وقت بہترین کارکردگی دکھا رہے تھے۔ یہ الگ بات کہ اس وقت کے چیف سلیکٹر نے ٹورنامنٹ کے وسط ہی میں یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ ’’یہ میری بنائی ہوئی ٹیم نہیں ہے‘‘۔ لیکن اس یادگار جیت کے باوجود ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے حوالے سے قومی سلیکٹر کی سوچ میں خوف کا عنصر شامل ہوگیا۔ ہر مرتبہ جب بھی اس اہم ٹورنامنٹ کے لیے سلیکشن کمیٹی بیٹھتی تو تجربہ کار کھلاڑیوں کو ان کی حالیہ فارم سے قطع نظر ٹیم میں شامل کرلیا جاتا کہ شاید ان کھلاڑیوں کا تجربہ پاکستان کو ٹائٹل جتوا دے۔ گزشتہ دو ایونٹس سے تو ایسا نہيں ہوسکا، آگے بھی اللہ ہی خیر کرے۔

کامران اکمل نے آسٹریلیا کے خلاف مقابلے میں بہترین بلے بازی کرکے اپنی واپسی کو درست ثابت کریدا ہے لیکن یہاں نوجوان شرجیل خان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے جو چند ماہ قبل قومی ٹیم میں شالم ہوا، ابتداء میں اچھی کارکردگی دکھائی تو اسے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھلانے کا خواب دکھایا گیا مگر میگا ایونٹ میں فائنل الیون سے دور کرکے اس کے اعتماد کو متزلزل کیا جارہا ہے کیونکہ کامران کے اچانک وارد ہوجانے سے اب شرجیل کو موقع نہیں مل رہا۔

دوسری طرف شعیب ملک ہیں جن کی ٹیم میں جگہ بالکل نہیں بن رہی، مگر سابق کپتان کو دونوں میچز میں کھپانے کی کوشش کی گئی جو ناکام ثابت ہوئی۔ بھارت کے خلاف شعیب ملک کا آغاز بہتر تھا مگر وہ گرین شرٹس کو مشکلات سے نہ نکال سکے۔ شعیب کی وجہ سے باصلاحیت صہیب مقصود کو ساتویں نمبر پر بھیجا گیا جبکہ اگلے مقابلے میں خود شعیب کو اس نمبر پر بیٹنگ کرنا پڑی اور ان کی باری بھی آخری اوور میں آئی۔

پاکستان کی موجودہ ٹیم دیکھ کر یہی محسوس ہورہا ہے کہ کھلاڑیوں کو صرف سینئر ہونے کا صلہ دیا جا رہا ہے، چاہے ان کی جگہ کسی نوجوان کھلاڑی کو ضائع کیا جائے یا وہ سینئر چاہے کیسی بھی کارکردگی کیوں نہ دکھائے۔ شعیب ملک محدود اوورز کی کرکٹ کا بہترین کھلاڑی ہے، جس کا موازنہ موجودہ ٹیم کے کسی اور کھلاڑی کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا، ان کے پاس تجربہ ہے، مہارت ہے لیکن وہ خراب فارم کا شکار ہیں۔ باؤلنگ نہ کروانے کے باعث انہیں آل راؤنڈر بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے یہی کہنا بہتر ہے کہ انہیں اسپیشلسٹ بیٹسمین کی حیثیت سے کھلایا جا رہا ہے اور وہ بھی ایسا جو ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بڑے نام والا یہ بڑا کھلاڑی بڑی کارکردگی کب دکھائے گا؟ اور کب تک شعیب ملک اور دیگر سینئر کھلاڑیوں کی بڑی کارکردگی کے انتظار میں نوجوان کھلاڑیوں کی قربانی دی جاتی رہے گی؟

Facebook Comments