ہیلز کی طوفانی سنچری، انگلستان لنکا ڈھانے میں کامیاب

کرکٹ کے شائقین ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں "گیل طوفان" کا انتظار کرتے ہی رہ گئے، لیکن توقعات کے برخلاف "ہیلز طوفان" آ گیا، جس نے آتے ہی لنکا ہی ڈھا دی۔ 190 رنز کے ریکارڈ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے انگلستان ہیلز کی طوفانی سنچری اور ایون مورگن کے بہترین ساتھ کی بدولت ایک ایسا مقابلہ جیت چکا ہے، جس نے ان تمام ناقدین کے منہ بند کردیے ہیں جو انگلستان کو کمزور قرار دے رہے تھے۔ فیلڈنگ میں بھیانک کارکردگی اور صفر پر دو کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد یہ غیر متوقع فتح انگلستان کے حوصلوں کو بھی بلند کرے گی۔

ایلکس ہیلز انگلستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی سنچری بنانے والے پہلے کھلاڑی بنے (تصویر: Getty Images)

ایلکس ہیلز انگلستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی سنچری بنانے والے پہلے کھلاڑی بنے (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ کے خلاف بارش کی وجہ سے شکست کھانے کے بعد اب انگلستان کے لیے ضروری تھا کہ وہ سری لنکا کو زیر کرے، وہ ٹیم جو اب تک ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہی ہے اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل بھی انہی میدانوں پر ہونے والے ایشیا کپ میں کوئی ٹیم اس کو ہرا نہیں پائی تھی۔ اس لیے ہدف تو بڑا تھا لیکن انگلستان کے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ قسمت نے یاوری کی اور اس نے ٹاس جیت لیا اور سری لنکا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

ظہور احمد چودھری اسٹیڈیم، چٹاگانگ میں اوس کو مدنظر رکھتے ہوئے انگلستان نے ہدف کے تعاقب کا فیصلہ کیا کیونکہ اس مرحلے پر حریف باؤلرز کے لیے گیند پر گرفت رکھنا بہت بڑا مسئلہ ہوتا۔ بعد میں یہ فیصلہ درست ثابت ہوا بھی لیکن اس سے قبل انگلستان کے لیے ابتداء بہت بری تھی۔ اننگز کے دوسرے اوور میں کوشال پیریرا کی وکٹ لینے کے بعد مقابلہ اس طرح انگلستان کے ہاتھوں سے نکلا کہ اس کے واپس آنے کی کوئی امید نہ بچی۔

سب سے پہلے امپائر آڑے آئے۔ مہیلا جے وردھنے آتے ہی پوائنٹ پر کھڑے مائیکل لمب کو کیچ دے گئے جنہوں نے آگے کی جانب جست لگا کر ایک زبردست کیچ تھاما لیکن مہیلا، حسب معمول، کریز پر کھڑے رہے اور کہا کہ یہ گیند براہ راست ہاتھوں میں نہیں گئ، بلکہ زمین سے لگی ہے۔ امپائروں نے تیسرے امپائر سے رجوع کیا، جنہوں نے درجنوں بار مختلف زاویوں سے ری پلے دیکھنے کے بعد مہیلا جے وردھنے کو ناٹ آؤٹ قرار دیا۔ مائیکل لمب اور جیڈ ڈرنباخ غصے سے لال پیلے ہوگئے، خود اسٹورٹ براڈ بھی پیچ و تاب کھا رہے تھے، لیکن گزشتہ مقابلے کے بعد زبان کھولنے کا نتیجہ جرمانے کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا، اس لیے زہر کا گھونٹ پی گئے۔

اس کے بعد فارم کے متلاشی دونوں بلے باز مہیلا جے وردھنے اور تلکارتنے دلشان انگلش فیلڈرز کی مدد سے مقابلے پر چھا گئے۔ دونوں نے دوسری وکٹ پر 145 رنز کی شاندار شراکت داری قائم کی جس میں مہیلا کے 89 اور دلشان کے 55 رنز شامل تھے۔ اس طویل شراکت داری میں انگلش فیلڈرز کی کمال مہربانی شامل ہے جنہوں نے جے وردھنے کو 19، 42 اور 80 کے انفرادی مجموعوں پر زندگیاں عطا کیں۔ دوسرے اینڈ پر کھڑے دلشان بھی انگلش فیلڈرز کی نااہلی سے فیضیاب ہوئے اور 21 رنز کے انفرادی اسکور پر ایک زندگی پائی۔ ان دونوں کے علاوہ آخری اوور میں روی بوپارہ کی جانب سے چھوڑا گیا تھیسارا پیریرا کا کیچ بھی اس فہرست میں شامل ہوا۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے مہیلا جے وردھنے نے ان مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت کھل کر کھیلا ۔ نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد تو وہ آپے سے ہی باہر ہوگئے اور اگلی 18 گیندوں پر 37 رنز داغ ڈالے۔ یہاں تک کہ اپنے ٹی ٹوئنٹی کیریئر کی دوسری سنچری کے قریب پہنچے لیکن کرس جارڈن نے بولڈ کرکے ان کی 89 رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔اس باری میں تین چھکے اور 11 چوکے شامل تھے اور یہ محض 51 گیندوں پر کھیلی گئی۔

دوسرے اینڈ سے تلکارتنے دلشان گو کہ نسبتاً بجھے بجھے دکھائی دیے۔ البتہ انہوں نے 47 گیندوں پر 55 رنز کا بھرپور حصہ ڈالا جس میں دو چھکے اور 4 چوکے شامل رہے۔ ان کے بعد آخری لمحات میں تھیسارا پیریرا کے 12 گیندوں پر 23 رنز، جن میں آخری گیند پر لگایا گیا چھکا بھی شامل تھا، سری لنکا کو 189 رنز کے بھاری مجموعے تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔

انگلستان کے باؤلرز میں ٹم بریسنن اور جیڈ ڈرنباخ کا حال بہت برا رہا۔ ٹم کو 4 اوورز میں 48 اور ڈرنباخ کو 42 رنز کی مار سہنا پڑی۔ البتہ ڈرنباخ کو دو وکٹیں ضرور ملیں جبکہ بریسنن تو اس سے بھی محروم رہے۔ کرس جارڈن نے بہت اچھی باؤلنگ کروائی اور 4 اوورز میں28 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

اب ریکارڈ 190 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلستان کا حال یہ تھا کہ وہ پہلے ہی اوور میں نووان کولاسیکرا کے ہاتھوں ایلکس لمب اور معین علی کی قیمتی وکٹیں گنوا بیٹھا۔ صفر پر دو مستند بلے بازوں کے آؤٹ ہونے کے بعد ایلکس ہیلز اور ایون مورگن نے تیسری وکٹ پر 152 رنز کی ناقابل یقین شراکت داری بنا ڈالی جو انگلستان کو مقابلے میں واپس لائی۔ مہیلا جے وردھنے نے کچھ ادھار ضرور لوٹایا اور ایلکس ہیلز کا اس وقت کیچ چھوڑا جب وہ 55 رنز پر کھیل رہے تھے اور اس کے بعد انہیں مزید کسی موقع کی ضرورت نہیں رہی۔ اننگز کے پندرہویں اوور میں انہوں نے اجنتھا مینڈس کو ایک ہی اوور میں 25 رنز رسید کردیے جس میں تین شاندار چھکے بھی شامل تھے اور یوں انگلستان کو آخری 5 اوورز میں درکار 48 رنز تک پہنچا جو وکٹوں کی موجودگی میں بالکل ممکن تھا۔

لیکن سری لنکا اتنی آسان سے ہار ماننے والا نہیں تھا۔ کولاسیکرا کو ایک مرتبہ پھر واپس لایا گیا اور انہوں نے ایون مورگن اور جوس بٹلر کی قیمتی وکٹیں حاصل کرکے سنسنی پھیلا دی۔ مورگن 38 گیندوں پر 57 رنز بنانے کے بعد میدان سے لوٹے جبکہ بٹلر صرف دو رنز بنا سکے۔ لیکن سری لنکا کو جس وکٹ کی ضرورت تھی، وہ انہیں نہ ملی۔ کولاسیکرا کو اگلے اوور میں ہیلز نے دو شاندار چھکے رسید کرکے مقابلے کا گویا خاتمہ ہی کردیا۔ آخری اوور، جو اینجلو میتھیوز نے پھینکا، کی دوسری گیند کو انہوں نے میدان سے باہر پھینک کر مقابلے کا فیصلہ کردیا۔

ایلکس ہیلز 64 گیندوں پر 116 رنز کے ساتھ ناقابل شکست میدان سے لوٹے اور مرد میدان کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی اننگز میں 6 چھکے اور 11 چوکے شامل تھے۔ یہ کسی بھی انگلش بلے باز کی جانب سے تاریخ کی سب سے بڑی ٹی ٹوئنٹی اننگز اور پہلی سنچری تھی۔ اس سے قبل سب سے بڑی اننگز کا ریکارڈ بھی ہیلز ہی کو حاصل تھا جنہوں نے 99 رنز بنائے تھے۔

قیمتی دو پوائنٹس حاصل کرنے کے بعد اب ٹورنامنٹ میں انگلستان کی امیدیں خاصی حد تک برقرار ہیں۔

Facebook Comments