ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کا ارادہ نہیں؛ شاہد آفریدی

پاکستان کے کپتان شاہد آفریدی نے واضح کیا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ واپس نہیں لیں گے اور وہ اپنی تمام تر توجہ مختصر طرز کی کرکٹ پر مرکوز رکھیں گے۔

گزشتہ سال شاہد آفریدی کو تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کا کپتان مقرر کیا گیا تھا اور انہوں نے ٹیسٹ سے اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے کر آسٹریلیا کے خلاف لارڈز میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت کی تھی۔ لیکن آسٹریلیا کے ہاتھوں بدترین شکست اور ناقص انفرادی کارکردگی کے مظاہرہ کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی اور اس کے بعد سے اب تک کسی ٹیسٹ میچ میں حصہ نہیں لیا۔

شاہد آفریدی ٹیسٹ میچز میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں

پاکستان کے سابق کپتان عمران خان سمیت متعدد ماہرین چاہتے ہیں کہ شاہد آفریدی تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کی قیادت کریں لیکن شاہد آفریدی نے معروف پاکستانی انگریزی اخبار 'دی نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ٹیسٹ کرکٹ میں واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ وہ خود کو اس فارمیٹ کے لیے بہتر کھلاڑی تصور نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دورۂ حالیہ ویسٹ انڈیز میں اپنی بلے بازی کے جوہر دکھانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے اپنی بلے بازی کو بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ انہوں نے ازراہ مذاق کہا کہ اب تو میری بیٹی بھی مجھے بابا بوم بوم آؤٹ کہنے لگی ہے۔

2011ء کے عالمی کپ میں شاہد آفریدی کی زیر قیادت پاکستانی ٹیم نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے ماہرین کو حیران کر دیا۔ فائنل 4 تک پہنچنے کے اس سفر میں پاکستان نے تین سابق عالمی چمپیئن ٹیموں سری لنکا، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کو بھی شکست دی البتہ سیمی فائنل میں اسے روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست ہو گئی اور یوں عالمی کپ میں اس کا سفر تمام ہو گیا۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ ٹیم میں بہت بہتری آئی ہے اور عالمی کپ میں کارکردگی اس کی عکاس تھی ، اور مجھے یقین ہے کہ اگر اس سمت میں سفر جاری رہا تو پاکستان آسٹریلیا جیسی عظیم ٹیم بن سکتا ہے جسے چند سال قبل ناقابل شکست سمجھا جاتا تھا۔

آسٹریلیا کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد سلمان بٹ کو قومی کرکٹ ٹیم کا قائد مقرر کیا گیا تھا جن کی زیر قیادت پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز برابر کی لیکن انگلستان کے خلاف سیریز کے دوران اسپاٹ فکسنگ تنازع میں ملوث ہونے کے بعد سلمان بٹ پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد مصباح الحق کو ٹیسٹ کپتان بنایا گیا جنہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز برابر کھیلی اور نیوزی لینڈ کو اس کی سرزمین پر شکست دے کے عرصہ بعد پاکستان کی جانب سے کوئی ٹیسٹ سیریز جیتی۔ اب ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں بھی امکان یہی ہے کہ مصباح الحق ہی قومی ٹیم کی قیادت کریں گے جبکہ شاہد آفریدی ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی مقابلوں میں قائدانہ فرائض انجام دیں گے۔

Article Tags

Facebook Comments