"نہ چھیڑ ملنگاں نوں!" فاکنر کے بیان کا جواب میدان میں

آخر آسٹریلیا کے خلاف جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی اتنا پرجوش کیوں تھے؟ کرس گیل، جن کے چہرے پر شاذونادر ہی کوئی احساس نمودار ہوتا ہے، زیادہ تر وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ میدان میں موجود رہتے ہیں، آخری دو چھکوں کے بعد اتنا کیوں اچھل رہے تھے؟ ویسٹ انڈیز نے ابھی سیمی فائنل میں بھی جگہ نہیں مضبوط کی، اس کے باوجود؟

ویسٹ انڈین کرکٹ پسند نہیں، فاکنر کا بیان۔ سیمی کا بہترین جواب: یہ لو دو چھکے (تصویر: Getty Images)

ویسٹ انڈین کرکٹ پسند نہیں، فاکنر کا بیان۔ سیمی کا بہترین جواب: یہ لو دو چھکے (تصویر: Getty Images)

اس کی وجہ تھے جیمز فاکنر، جی ہاں! وہی باؤلر جن کی جانب سے پھینکے گئے آخری اوور میں ڈیرن سیمی نے تیسری اور چوتھی گیند کو چھکے کے لیے روانہ کیا اور پھر اپنے ساتھی کھلاڑیوں میں گھل مل گئے۔

جیمز فاکنر نے گزشتہ روز ایک آسٹریلیا کے قومی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز کو پسند نہیں کرتے اور شدت سے منتظر ہیں کہ جمعے کو انہیں شکست دے کر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے باہر کردیں۔

23 سالہ آل راؤنڈر کو اپنے کیریئر کے ابتدائی ایام میں کرس گیل کو آؤٹ کرنے کے بعد آپے سے باہر ہونے پر 10 فیصد میچ فیس کا جرمانہ بھگتنا پڑا تھا لیکن اس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کے چند کھلاڑی ایسے ہیں، جن کو میں ٹھکانے لگانا چاہتا ہوں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں انہیں ہرانے کا خواہاں ہوں۔

اس بیان ہی کا شاخسانہ تھا کہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی مقابلے کے دوران سخت غصے میں نظر آئے۔ جیسا کہ گلین میکس ویل کے آؤٹ ہونے کے بعد ڈیوین براوو اور سیموئل بدری کا جشن اور بعد ازاں کرس گیل کے آؤٹ ہونے کے بعد گلین میکس ویل کا آپے سے باہر ہوجانا۔ مقابلہ بہت ہی تناؤ بھری صورتحال میں کھیلا گیا اور سنسنی خیز بھی ثابت ہوا۔ ڈیرن سیمی فاکنر کو سزا دینے کے لیے اس قدر بے تاب تھے کہ انہوں نے آخری اوور کی پہلی گیند پر لیگ بائے کا رن دوڑنے سے انکار کردیا حالانکہ دوسرے اینڈ پر ڈیوین براوو 12 گیندوں پر 27 رنز کے بہترین اسکور پر کھیل رہے تھے۔ لیکن سیمی خود سبق سکھانا چاہتے تھے جو انہوں نے اوور کی تیسری اور چوتھی گیند پرکر دکھایا۔

مزیدار بات یہ ہے کہ ڈھاکہ میں دونوں ٹیمیں ایک ہی ہوٹل میں مقیم ہیں اور یہ سوال آسٹریلوی ریڈیو نے بھی فاکنر سے کیا کہ آپ کا ہوٹل میں گیل سے ٹکراؤ ہوا؟ تو فاکنر کا کہنا تھا کہ مجھے وہاں گیل نظر تو نہیں آئے، اگر آئے بھی تو سلام دعا کروں گا، میں اتنا بداخلاق نہیں ہوں لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں خیر نہیں۔

ماضی میں انگلستان کے کپتان ٹونی گریگ کے اس بیان کو کہ ' ہم ویسٹ انڈیز کو ذلیل کردیں گے' جزائر غرب الہند کی ٹیم نے بہت زیادہ سنجیدہ لیا تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس بیان ہی کا نتیجہ تھا کہ کلائیو لائیڈ اور ویون رچرڈز کی زیر قیادت 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں ویسٹ انڈیز ایک بہت بڑی عالمی قوت بنا۔ اس لیے "نہ چھیڑ ملنگاں نوں!"

میچ کے بعد کرس گیل کا ٹوئٹر پر جواب

Facebook Comments