[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی] بھارت اعزاز کا سب سے بڑا امیدوار

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے آغاز سے قبل قرار دیا جا رہا تھا کہ عالمی اعزاز کی دوڑ میں بھارت کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ اس کی باؤلنگ ہوگی اور گیندبازوں کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط بھی نہیں تھا۔ دورۂ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ میں ایک مقابلہ بھی جیتنے میں ناکامی اس کا واضح ثبوت تھا اور پھر بنگلہ دیش میں اسپنرز کے لیے سازگار حالات میں ایشیا کپ فائنل تک رسائی میں ناکامی بھی پریشان کن امر رہی۔

اب تک کھیلے گئے تینوں مقابلوں میں بھارت کے اسپنرز کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا ہے (تصویر: Getty Images)

اب تک کھیلے گئے تینوں مقابلوں میں بھارت کے اسپنرز کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا ہے (تصویر: Getty Images)

گو کہ طاقتور بیٹنگ کی وجہ سے بھارت کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جارہا تھا لیکن پھر بھی باؤلرز کی فہرست پر نظر ڈالی جاتی تو 'مور کے پاؤں' والا معاملہ نظر آتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت نے ٹورنامنٹ کا آغاز فیورٹ کی حیثیت سے نہیں کیا لیکن روایتی حریف پاکستان، دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز اور پھر میزبان بنگلہ دیش کے خلاف تین شاندار فتوحات نے تمام اندازوں کو غلط ثابت کردیا ہے کیونکہ بھارت نے یہ تینوں مقابلے اپنی باؤلنگ کے بل بوتے پر جیتے۔

پہلے ڈھاکہ میں پاکستان کو 130 رنز تک محدود کیا، پھر ویسٹ انڈیز کو 129 رنز سے زیادہ نہیں بنانے دیے اور آخر میں بنگلہ دیش بھی بمشکل 138 رنز تک پہنچ پایا اور بھارت نے تینوں مقابلوں میں فتوحات حاصل کیں اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کے سیمی فائنل تک پہنچنے والی پہلی ٹیم بن گیا۔

یہ 2007ء میں کھیلے گئے اولین ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد پہلا موقع ہے کہ بھارت سیمی فائنل تک پہنچا ہے ورنہ پہلی بار چیمپئن بننے کے بعد ہر مرتبہ وہ ابتدائی مرحلے ہی میں باہر ہوا۔ وطن میں کرکٹ معاملات پر بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود مہندر سنگھ دھونی کے جوان ڈھاکہ کے محاذ پر بخوبی ڈٹے ہوئے ہیں اور بالخصوص ان کے باؤلرز کمالات دکھا رہے ہیں۔

اب تک کھیلے گئے تینوں مقابلوں میں بھارت کے اسپنرز ہی میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے ہیں اور اسپن 'مثلث' نے بھارت کو عالمی اعزاز کا سب سے بڑا امیدوار بنا دیا ہے۔ اگر وہ آئندہ مقابلوں میں بھی اس کارکردگی کا تسلسل جاری رکھنے میں کامیاب ہوا تو 2007ء کے بعد اسے پہلی بار ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بننے سے کوئی نہیں روک سکتا اور وہ بھی شاید اس طرح جیسے آسٹریلیا نے 2003ء اور 2007ء میں عالمی کپ جیتے تھے، یعنی بغیر کوئی مقابلہ ہارے!

Facebook Comments