[ورلڈ ٹی ٹوئنٹی] سیمی فائنل تک رسائی کیسے؟

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ٹیموں کی پیشرفت کا فیصلہ ہونے جارہا ہے۔ گزشتہ روز بھارت نے میزبان بنگلہ دیش کو باآسانی زیر کرکے سیمی فائنل میں پہلی نشست حاصل کرلی اور اب باقی ٹیمیں بھی 'فائنل 4' میں جگہ پانے کے لیے پر تول رہی ہیں۔

پاکستان کے لیے واضح ہدف یہ ہے کہ اسے سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے بقیہ دونوں مقابلے جیتنے ہیں (تصویر: AP)

پاکستان کے لیے واضح ہدف یہ ہے کہ اسے سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے بقیہ دونوں مقابلے جیتنے ہیں (تصویر: AP)

جب ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا تو اسی وقت سے گروپ 2 کو "گروپ آف ڈیتھ" کہا جا رہا تھا۔ دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز کے علاوہ اس گروپ میں ہاٹ فیورٹ آسٹریلیا، روایتی حریف پاکستان و بھارت اور میزبا ن بنگلہ دیش کا ٹاکرا ہے اور تمام تر امتحانات پر پورا اترنے کے بعد اب بھارت کی کشتی تو کنارے لگ گئی ہے جبکہ باقی ٹیمیں جدوجہد کرتی دکھائی دے رہے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ گروپ 2 میں سے کون سی ٹیم کس طرح سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔

پاکستان

پاکستان کے لیے مساوات بالکل سیدھی سی ہے، اسے آنے والے مقابلوں میں بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کو شکست دینی ہے اور یوں اپنا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے سیمی فائنل تک رسائی کا ریکارڈ برقرار رکھنا ہے۔ اگر وہ ایک مقابلے میں بھی شکست کھاگیا تو نہ صرف اسے دوسری ٹیموں کے نتائج کا محتاج ہونا پڑے گا بلکہ رن ریٹ کا مسئلہ بھی آڑے آ جائے گا۔ اس لیے پاکستان کے سامنے صاف راستہ یہ ہے کہ وہ اگلے دونوں مقابلے جیتے۔

ویسٹ انڈیز

ویسٹ انڈیز گزشتہ روز آسٹریلیا کے خلاف جیتنے کے بعد اب یکسو ہوچکا ہے کہ اسے اگلے مقابلے میں پاکستان کو شکست دے کر اعزاز کے دفاع کی جانب اہم قدم بڑھانا ہے۔ یعنی ایک طرح سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے لیے آخری گروپ مقابلہ کوارٹر فائنل کی حیثیت رکھتا ہے۔

آسٹریلیا

آسٹریلیا کو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں پے در پے شکستوں نے اب ٹورنامنٹ سے تقریباً باہر کردیا ہے۔ البتہ اس کے دو مقابلے ابھی باقی ہیں اور اگر وہ ان میں ناقابل شکست بھارت اور پھر بنگلہ دیش کو اچھے رن اوسط کے ساتھ زیر کرنے میں کامیاب ہوگیا اور دوسری جانب پاکستان ویسٹ انڈیز کو زیر کرے اور بنگلہ دیش سے ہار جائے تو رن ریٹ کی بنیاد پر آسٹریلیا سیمی فائنل تک پہنچ سکا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اتنی پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے قسمت کی یاوری بہت ضروری ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کی قسمت کا تارہ چمک جائے۔

بنگلہ دیش

میزبان بنگلہ دیش کو بڑا امتحان درپیش ہے، اسے بھی آسٹریلیا جیسی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ وہ بھی ابتدائی دونوں مقابلوں میں شکست سے دوچار ہوا ہے۔ اب اسے بقیہ دو مقابلوں میں پہلے ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی کامیاب ترین ٹیم پاکستان کو زیر کرنا ہوگا اور پھر آسٹریلیا کو شکست دینے کے بعد پاک-ویسٹ انڈیز مقابلے کے نتیجے کا بھی انتظار کرنا ہوگا تاکہ ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہونے کی وجہ سے معاملہ رن ریٹ پر جائے۔ گو کہ یہاں بھی بنگلہ دیش کے لیے امکانات موہوم ہیں کیونکہ اس وقت گروپ میں سب سے کم رن ریٹ اسی کا ہے۔ اس لیے اسے آئندہ دونوں مقابلے بہت اچھے رن ریٹ سے جیتنے ہوں گے۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کا پہلا سیمی فائنل 3 اپریل کو گروپ 1 میں نمبر ایک اور گروپ 2 میں دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا جبکہ اگلے روز گروپ 1 میں دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم گروپ 2 کے فاتح سے ٹکرائے گی۔ فائنل ان دونوں مقابلوں کے فاتحین کے درمیان 6اپریل کو ہوگا۔

Facebook Comments