نیوزی لینڈ نے ڈچ خطرے پر باآسانی قابو پا لیا

نیوزی لینڈ ڈیل اسٹین کے ہاتھوں یقینی فتح سے محروم ہوجانے کے بعد آج نیدرلینڈز کے خلاف سنبھل کر کھیلا اور مقابلہ باآسانی 6 وکٹوں سے جیت اپ سیٹ کے امکانات کا خاتمہ کیا۔ آخری مقابلے میں نیدرلینڈز کو ناکوں چنے چبوانے والے نیدرلینڈز نے گو کہ 151 رنز بنائے لیکن یہ مجموعہ نیوزی لینڈ کو روکنے کے لیے کافی نہیں تھا، جس نے کپتان برینڈن میک کولم کی 65 رنز کی بدولت 19 اوورز میں ہدف کو جا لیا۔

برینڈن میک کولم نے قائدانہ باری کے دوران 2 ہزار ٹی ٹوئنٹی رنز کا سنگ میل بھی عبور کیا (تصویر: Getty Images)

برینڈن میک کولم نے قائدانہ باری کے دوران 2 ہزار ٹی ٹوئنٹی رنز کا سنگ میل بھی عبور کیا (تصویر: Getty Images)

چٹاگانگ میں ہونے والے گروپ 1 کے مقابلے میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج نسبتاً گرم دن میں کھیلے گئے مقابلے میں نیدرلینڈز کے بلے بازوں کو خاصے مواقع ملے۔ نیوزی لینڈ کے فیلڈرز نے کیچ بھی ضائع کیے اور رن آؤٹ کے موقع بھی گنوائے۔ یہ اوپنرز اسٹیفن مائی برگ اور مائیکل سوارٹ کے لیے بہترین موقع تھا کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنی کارکردگی کا رنگ جمائیں لیکن ڈچ شائقین کے یہ ارمان پورے نہ ہوسکے۔ مائی برگ 23 گیندوں پر 16 جبکہ سوارٹ 26 گیندوں پر اتنے ہی رنز بنا کر میدان سے لوٹ آئے جبکہ ان دونوں وکٹوں کے درمیان نیوزی لینڈ نے وکٹ کیپر ویزلے باریسی کو بھی آؤٹ کیا۔ اس کے باوجود 12 اوورز میں 81 رنز اسکور بورڈ پر موجود تھے اور نیدرلینڈز کی 7 وکٹیں باقی تھیں۔ یعنی کہ کپتان پیٹر بورین اور کوپر برادران کے لیے بہترین پلیٹ فارم تھا کہ وہ بقیہ 8 اوورز کا پورا پورا فائدہ اٹھائیں۔

جب تک پیٹر بورین کریز پر موجود تھے، اس وقت تک تو ٹام کوپر بھی خوب چل رہے تھے اور دونوں نے 35 گیندوں پر 60 رنز جوڑے۔ لیکن 18 ویں اوور کی آخری گیند پر کپتان کے آؤٹ ہونے کے بعد نیدرلینڈز حواس باختہ ہوگیا۔ 35 گیندوں پر ایک شاندار چھکے اور 7 چوکوں کی مدد سے پیٹر بورین نے 49 رنز کی کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی۔ ان کے جانے کے باقی دو اوورز میں کوپر برادران صرف 10 رنز سمیٹ پائے اور بعد ازاں یہی مرحلہ فیصلہ کن ثابت ہوا جس کے بارے میں خود پیٹر بورین نے کہا کہ ہم نے 15 سے 20 رنز کم بنائے ہیں۔ ٹام کوپر 23 گیندوں پر 40 جبکہ بین کوپر 6 گیندوں پر صرف 1 رن کے ساتھ ناقابل شکست لوٹے۔

152 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کے آؤٹ آف فارم بلے باز مارٹن گپٹل ایک مرتبہ پھر ناکامی سے دوچار ہوئے۔ وہ صرف 9 رنز بنانے کے بعد وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں کیچ دے کر چلتے بنے۔ اس مرحلے پر کین ولیم سن اور برینڈن میک کولم کے درمیان دوسری وکٹ پر 42 رنز کا اضافہ ہوا۔ ولیم سن وان بیک کی ایک دھیمی گیند پر آؤٹ ہوئے تو اس وقت اسکور 88 رنز کو چھو رہا تھا اور تیرہواں اوور جاری تھا۔ یعنی تقریباً وہی صورتحال تھی جو نیدرلینڈز کو درپیش تھی۔ لیکناس وقت نیوزی لینڈ کو برینڈن میک کولم اور روز ٹیلر کی تجربہ کار جوڑی کا ساتھ حاصل تھا اور دونوں کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ مقابلے کو اختتام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے۔

لیکن نیدرلینڈز کہانی میں موڑ ضرور لایا۔ وان دیر گوگتن کو مسلسل دوسرا چھکا رسید کرنے کی کوشش میں روز ٹیلر گیند کو فضا میں اچھال بیٹھے اور وکٹ کیپر باریسی نے پیچھے کی جانب دوڑتے ہوئے بہت عمدہ کیچ لیا۔ ٹیلر نے 18 رنز بنائے۔ برینڈن میک کولم منزل مقصود کے بہت قریب پہنچ کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی 45 گیندوں پر 65 رنز کی باری نے انہیں ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں 2 ہزار رنز بنانے والا پہلا بیٹسمین بھی بنایا۔ جب وہ آؤٹ ہوئے تو نیوزی لینڈ کو صرف 18 رنز کی ضرورت تھی جو اس نے 19 ویں اوور کی آخری گیند پر حاصل کرلیے۔

برینڈن میک کولم کو میچ کی سب سے بڑی اننگز کھیلنے پر بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

اس فتح کے ساتھ ہی گروپ 1 میں سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے بعد نیوزی لینڈ کے پوائنٹس کی تعداد بھی 4 ہوچکی ہے جبکہ اس کا ایک مقابلہ باقی ہے جو سری لنکا کے خلاف کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments