آسٹریلیا کا بنگلہ دیش کے خلاف کلین سویپ، آخری ایک روزہ بھی کینگروز کے نام

آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کے خلاف تین میچوں کی سیریز کے آخری ایک روزہ مقابلے میں 66 رنز سے فتح حاصل کرتے ہوئے کلین سویپ کر لیا ہے۔ مائیکل ہسی کی شاندار سنچری اور شین واٹسن کی دھواں دار اننگ نے آسٹریلیا کی فتح کی بنیاد رکھی جس کی بدولت آسٹریلیا نے 361 رنز کا بڑا مجموعہ حاصل کیا. بعد ازاں ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش نے جم کر کھیلنے کی کوشش کرتے ہوئے بڑی ٹیموں کے خلاف اپنا دوسرا بہترین اسکور یعنی 295 بنایا۔

ما ئیکل ہسی کو 86 گیندوں پر شاندار سنچری بنانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (اے پی)

بنگلہ دیش کی جانب سے تمیم اقبال اور امر القیس نے اننگ کا تیز آغاز کیا خصوصا تمیم نے مختصر اور بہت تیز اننگ کھیلی جس میں ایک چھکے اور 6 چوکوں کی مدد سے 17 گیندوں پر 32 رنز بنائے۔ جب وہ پانچویں اوور میں مچل جانسن کو مسلسل تیسرا چوکا لگانے کی کوشش میں بولڈ ہوئے تو بنگلہ دیش کا اسکور 43 تھا۔ اس کے بعد امرالقیس نے شہریار نفیس کے ساتھ اسکور کو آگے بڑھانے کی مہم کا آغاز کیا۔ گو کہ دونوں کھلاڑیوں نے منصوبے کے مطابق بہترین بلے بازی کی اور دوسری وکٹ پر 136 رنز کی کارآمد شراکت بنائی۔ انہوں نے ایسی بنیاد ڈالی جس پر بنگلہ دیشی مڈل آرڈر تھوڑی سی محنت کر کے میچ کو مشکل مرحلے میں لے جا سکتا تھا لیکن آسٹریلیا جیسے سخت حریف کے خلاف 20 اوور میں 183 رنز بنانے کے لیے انتہائی غیر معمولی کارکردگی درکار تھی جو کوشش کے باوجود بنگلہ دیشی بلے باز پیش نہ کر سکے۔ امر القیس بدقسمتی سے اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے اور 95 گیندوں پر 93 رنز بنانے کے بعد اپنا پہلا ایک روزہ میچ کھیلنے والے جیمز پیٹن سن کا شکار بنے۔ ان کی اننگ میں 2 چھکے اور 10 چوکے بھی شامل تھے۔ شہر یار نفیس 197 کے مجموعی اسکور پر 86 گیندوں پر 60 رنز کی نسبتا سست اننگ کھیلنے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگ میں محض 4 چوکے شامل تھے۔

اس موقع پر محمود اللہ نے لوئر مڈل آرڈر کے ساتھ ہدف کی جانب پیش قدمی کی لیکن ہر گیند کے بعد بڑھتا ہوا رن ریٹ بنگلہ دیش کو فتح سے دور کرتا رہا اور بالآخر ایسا موقع آ گیا کہ بنگلہ دیش کے لیے اس ہدف تک پہنچ پانا ممکن ہی نہ رہا۔ایک اینڈ پر تو محمود اللہ ڈٹے رہے لیکن دوسرے اینڈ سےوکٹوں کاگرنا بنگلہ دیش کو مہنگا پڑ گیا۔ کپتان شکیب الحسن ایک مرتبہ پھر ناکام رہے اور 9 رنزبنا کر شین واٹسن کا شکار بنے جبکہ وکٹ کیپر مشفق الرحیم کی وکٹ پر ایک کے انفرادی اسکور پر واٹسن ہی نے حاصل کی۔ بنگلہ دیش کی چھٹی اور میچ میں گرنے والی آخری وکٹ الوک کپالی کی تھی جنہوں نے 13 رنز بنائے۔ اننگ کے آخری اوور میں محمود اللہ نے جانسن کو دو چوکے رسید کر کے اپنا انفرادی اسکور 68 تک پہنچا دیا۔ انہوں نے 2 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 61 گیندوں پر اتنے رنز بنائے۔ آسٹریلیا کی جانب سے مچل جانسن نے3 جبکہ شین واٹسن نے دو وکٹیں حاصل کی۔ ایک وکٹ جیمز پیٹن سن کو ملی۔

اس سے قبل آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور شین واٹسن کے ساتھ رکی پونٹنگ کے اوپننگ کے لیے میدان میں اتارا۔ واٹسن نے روایتی انداز میں تیز رفتاری سے اسکور کو آگے بڑھایا اور دونوں بلے بازوں نے محض 12 اوورز میں ٹیم کو 110 رنز کی شاندار شراکت داری فراہم کی۔ پہلی گرنے والی وکٹ شین واٹسن کی تھی جو 40 گیندوں پر 3 چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے 72 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے اپنی نصف سنچری محض 25 گیندوں پر مکمل کی اور گزشتہ میچ میں اپنی برق رفتاری کے سلسلے کو جاری رکھا۔ رکی پونٹنگ عبد لرزاق کا دوسرا نشانہ بنے انہوں نے 50 گیندوں پر 47 رنز بنائے۔ اسٹیون اسمتھ ایک مرتبہ پھر جلد آؤٹ ہو گئے اور محض 5 رنز بنا کر سہروردی شووو کا نشانہ بنے۔ اس موقع پر مائیکل ہسی نے کپتان مائیکل کلارک کے ساتھ ذمہ داری سنبھالی اور دونوں کھلاڑیوں نے چوتھی وکٹ پر 89 رنز جوڑے۔

مائیکل کلارک بھی بدقسمتی سے اپنی نصف سنچری مکمل نہ کر سکے اور پونٹنگ کی طرح 47 رنز بنا کر مشرفی مرتضی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ کیلم فرگوسن جنہیں سیریز میں پہلی مرتبہ موقع دیا محض 3 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ اس موقع پر مچل جانسن نے ہسی کا بھرپور ساتھ دیا اور دونوں کھلاڑیوں نے چھٹی وکٹ پر محض 7.2 اوورز میں 70 رنز جوڑے۔ مچل جانسن 24 گیندوں پر 2 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 41 رنز بنانے کے بعد مشرفی مرتضی کی تیسری وکٹ بنے۔ آخری 3 اوورز میں مائیکل ہسی اور جان ہیسٹنگز کی برق رفتاری آسٹریلیاکے اسکور کو 320 سے 362 تک پہنچایا۔ مائیکل ہسی آخری اوور کی پہلی گیند پر شفیع الاسلام کے ہاتھوں بولڈ ہوئے۔ انہوں نے 2 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے 91 گیندوں پر 108 رنز بنائے۔ یہ گزشتہ چار سالوں میں مائیکل ہسی کی پہلی اور مجموعی طور پر کیریئر کی تیسری سنچری تھی۔ ہیسٹنگز 9 گیندوں پر 21 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے مشرفی مرتضی اور عبد الرزاق نے 3،3 اور شفیع الاسلام اور سہروردی شووو نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ مشرفی نے ان تین وکٹوں کے حصول کے لیے 80 رنز دیے جس میں جانسن کی جانب سے مسلسل گیندوں پر لگائے گئے چھکے بھی شامل تھے۔

ما ئیکل ہسی کو شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ سیریز میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی کا اعزاز شین واٹسن کو ملا۔

گزشتہ ماہ عالمی کپ کے دوران دو ایشیائی ممالک پاکستان اور بھارت سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوجانے والی آسٹریلوی ٹیم اس شاندار فتح کے بعد فتوحات کے نئے سفر پر گامزن ہوچکی ہے تو دوسری ہی جانب بنگلہ دیش کی ٹیم مسلسل ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے عالمی کپ اور اب کینگروز کے ہاتھوں شرم سار ہوچکی ہے.

Facebook Comments