کپتانی سمیت ہر چیلنج قبول کرنے کو تیار ہوں: شاہد آفریدی

پاکستان کے مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ وہ کپتانی سمیت ہر چیلنج کو قبول کرنے کو تیار ہیں البتہ تبدیلیوں کا فیصلہ بورڈ نے کرنا ہے۔

اپنی منفی سوچ کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کے خلاف ہارے، شاہد خان (تصویر: AFP)

اپنی منفی سوچ کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کے خلاف ہارے، شاہد خان (تصویر: AFP)

پاکستان کا دستہ مایوس کن انداز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء سے باہر ہونے کے بعد ٹکڑیوں میں وطن واپس پہنچ رہا ہے اور اس سلسلے میں شاہد آفریدی کے علاوہ چند اراکین کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے وطن عزیز واپس پہنچے۔

اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد نے کہا کہ ہدف کے تعاقب میں جب ہمارے بیٹسمین بغیر رنز بنائے صرف گیندیں ضائع کررہے تھے، اس وقت مجھے سخت غصہ آرہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کا شکست کا بڑا سبب ہی ہماری منفی سوچ تھی۔ بلے بازوں نے غیر ضروری دباؤ کو خود پر طاری کیا اور اس کا نتیجہ بھیانک نکلا۔

پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اپنے گروپ کے آخری مقابلے میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں 84 رنز کی بدترین شکست سے دوچار ہوا اور 167 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پوری ٹیم محض 82 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی جس میں دونوں اوپنرز صفر پر آؤٹ ہوئے۔

شاہد نے کہا کہ ہم نے گروپ میچ میں جس طرح آسٹریلیا کے خلاف کارکردگی دکھائی تھی، پورے ٹورنامنٹ میں ویسی ہی پرفارمنس کی ضرورت تھی جو بدقسمتی سے ہم ویسٹ انڈیز کے خلاف نہیں دہرا پائے ۔

ماضی میں پاکستان کی قیادت کے فرائض سرانجام دینے والے آل راؤنڈر نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے اچھا دستہ منتخب کیا گیا تھا لیکن انہیں مقابلوں میں اچھی طرح لڑایا نہیں گیا۔ میں خود بھی اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ بہت ضرورت تھی کہ میں ایشیا کپ والی کارکردگی دہراتا۔

ٹیم میں اصلاحات کے حوالے سے ایک سوال پر شاہد آفریدی نے کہا کہ اب اگر ٹیم کو فتوحات کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور اسے گمبھیر صورتحال سے نکالنا ہے تو کڑوی گولی لینا پڑے گی۔ ہماری ٹیم میں دنیا کے چند بہترین کھلاڑی موجود ہیں، بس ان پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ خوش قسمتی سے ہمیں پانچ، چھ مہینے کا وقت حاصل ہے جو خاصی مہلت ہے کہ ہم بھرپور تیاری کریں اور اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف نئے حوصلوں کے ساتھ میدان میں اتریں۔

Facebook Comments