اب سخت فیصلے کرنا ہوں گے: کوچ معین خان

پاکستان کے ہیڈ کوچ معین خان نے کہا ہے کہ کپتان اور کوچ کا کھلاڑی کو فائٹر بنانے میں بلاشبہ بڑا کردار ہوتا ہے لیکن درحقیقت کھلاڑی نے میدان میں جاکر خود لڑنا ہوتا ہے۔

کوچ کپتان فائٹر بناتا ہے لیکن لڑنا میدان میں کھلاڑی نے خود ہوتا ہے: ہیڈ کوچ (تصویر: AFP)

کوچ کپتان فائٹر بناتا ہے لیکن لڑنا میدان میں کھلاڑی نے خود ہوتا ہے: ہیڈ کوچ (تصویر: AFP)

سابق کپتان معین خان کو 'سر منڈاتے ہی اولے پڑے' کے مصداق بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان ان کی زیر تربیت اپنے ابتدائی دونوں امتحانوں میں ناکام ہوا۔ پہلے ٹیم ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا سے ہاری اور اس کے بعد ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بدترین شکست کھا کر سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئی۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں مایوس کن شکست کے بعد وطن واپس آمد پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے کہا کہ ہمیں کچھ سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف مقابلے میں ٹیم کی کارکردگی پر انہوں نے کہا کہ آخری تین اوورز میں جتنے رنز بنے، اتنے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں بننا کوئی انہونی بات نہیں۔ اتنے رنز بن جاتے ہیں اور ٹیمیں اس کا جواب بھی بھرپور دیتی ہیں لیکن ہمارے کھلاڑی اس صدمے سے نہیں نکل پائے۔ بیٹسمینوں نے حد سے زیادہ دباؤ اپنے سر لے لیا اور اس کا نتیجہ مایوس کن صورت میں نکلا۔

پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی بار سیمی فائنل کی رسائی حاصل کرنےمیں ناکام رہا ہے۔ 2007ء سے 2012ء تک کھیلے گئے چاروں ایونٹس میں پاکستان کم از کم سیمی فائنل تک ضرور پہنچا تھا بلکہ ایک بار تو اعزاز جیتنے میں بھی کامیاب ہوا لیکن اس مرتبہ گروپ مرحلے ہی میں اس کا سفر تمام ہوا۔

Facebook Comments