شاہد آفریدی ٹی ٹوئنٹی قیادت کے مضبوط ترین امیدوار

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ملی جلی کارکردگی کے بعد جیسے ہی ٹیم باہر ہوئی، ہمیشہ کی طرح گدھوں اور گھوڑوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پوری ٹیم انتظامیہ کے ساتھ کپتان بھی عہدے سے فارغ کردیے گئے ہیں۔ گو کہ ظاہر یہ کیا گیا ہے کہ محمد حفیظ نے خود استعفیٰ دیا ہے۔

شاہد آفریدی کو وطن واپسی سے قبل ہی بتا دیا گیا تھا کہ وہ نئے کپتان ہوں گے: ذرائع (تصویر: AFP)

شاہد آفریدی کو وطن واپسی سے قبل ہی بتا دیا گیا تھا کہ وہ نئے کپتان ہوں گے: ذرائع (تصویر: AFP)

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دستے کی وطن واپسی کے ایک روز بعد تمام انتظامیہ کو لاہور طلب کیا، جہاں اجلاس میں ذاکر خان، ظہیر عباس اور معین خان تینوں نے شکست کا ملبہ کپتان محمد حفیظ پر ڈالا اور کہا کہ ان کی منفی سوچ نے پاکستان پر سخت دباؤ ڈالا اور بالآخر ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست کے بعد شاہد خان آفریدی کو بنگلہ دیش ہی میں اشارہ دے دیا گیا تھا کہ وہ اگلے کپتان ہوں گے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کراچی کے ہوائی اڈے پر اترتے ہی اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ وہ ہر ذمہ داری لینے کو تیار ہیں اور ساتھ ساتھ محمد حفیظ کے اقتدار کو ڈوبتا ہوا دیکھ کر ان کی قیادت پر تنقید بھی کر ڈالی۔

اس کی تصدیق محمد حفیظ کے ڈھاکہ میں دیے گئے بیان اور چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی آج کی گفتگو سے ہوسکتی ہے۔ محمد حفیظ نے ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں واضح کردیا تھاکہ شکست کے ذمہ دار تمام کھلاڑی ہیں اور وہ تن تنہا شکست کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ لیکن وطن واپسی کے ایک روز بعد وہ نہ صرف تن تنہا اس ذمہ داری کو قبول کرتے ہیں بلکہ اپنا عہدہ بھی چھوڑ دیتے ہیں، وہ بھی یہ کہہ کر کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں۔ پھر نجم سیٹھی بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محمد حفیظ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ ساتھ ساتھ آفریدی کے بیان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دیکھ رہا ہوں کہ انہوں نے ایسے بیان کی اجازت لی بھی تھی یا نہیں، اور اگر نہیں بھی لی تھی تو مسئلہ میڈیا کو نہیں بلکہ مجھے ہونا چاہیے۔ "کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے" کے مصداق یہ صفائیاں اور پھر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے باوجود شاہد آفریدی کا دفاع بہت کچھ بیان کررہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک جو صورتحال سامنے آئی ہے اس کے تحت شاہد آفریدی قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت کے لیے سب سے مضبوط امیدوار ہیں، پر دیکھنا یہ ہے کہ ان کی تقرری کے اعلان میں کتنے روز لگائے جاتے ہیں، کیونکہ فی الوقت پاکستان کا مستقبل قریب میں کوئی بین الاقوامی مقابلہ نہیں ہے اس لیے بورڈ گرد بیٹھنے کا انتظار کرے گا اور درست وقت پر اہم اعلانات کیے جائیں گے۔

Facebook Comments