ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء، اعدادوشمار کی نظر میں

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء ایک یادگار مقابلے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچا اور سری لنکا بالآخر تیسری کوشش میں عالمی چیمپئن بن گیا۔ دو عظیم بلے باز مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا بالآخر ایک عالمی اعزاز کے ساتھ دنیائے ٹی ٹوئنٹی سے رخصت ہوئے۔

سری لنکا تیسری کوشش میں کامیاب ٹھہرا اور ایک یادگار ٹورنامنٹ کا اختتام ہوا (تصویر: ICC)

سری لنکا تیسری کوشش میں کامیاب ٹھہرا اور ایک یادگار ٹورنامنٹ کا اختتام ہوا (تصویر: ICC)

21 دن تک جاری رہنے والا ٹورنامنٹ کئی لحاظ سے یادگار رہا۔ کھیلے گئے 35 میں سے متعدد مقابلے بہت کانٹے کے ہوئے اور شائقین کرکٹ نے ان کا بھرپور لطف اٹھایا۔ اب ٹورنامنٹ گزرجانے کے بعد اعدادوشمار کی نظر سے دوبارہ جائزہ لیتے ہیں کہ آخر کس کی انفرادی و اجتماعی کارکردگی ٹیم کی پیشرفت میں اہم ثابت ہوئی۔

بنگلہ دیش میں کھیلے گئے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء میں مجموعی طور پر 35 مقابلے کھیلے گئے اور ہمیشہ کی طرح بیٹسمینوں کے بلے خوب چلے جنہوں نے 9 ہزار 125 رنز بنائے۔ مختصر ترین طرز کی کرکٹ میں بھی دو بلے باز تہرے ہندسے کی انفرادی اننگز تک پہنچ گئے جن میں ایلکس ہیلز سب سے آگے رہے۔ انہوں نے سری لنکا کے خلاف 116 رنز کی ناقابل شکست و فاتحانہ اننگز کھیلی۔ یہ انگلستان کے کسی بھی بلے باز کی ٹی ٹوئنٹی طرز میں پہلی سنچری تھی۔ ویسے یہ ٹورنامنٹ میں انگلستان کے لیے واحد خوشی کا لمحہ تھا۔ اس سے قبل نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں ڈک ورتھ لوئس پر شکست اور پھر نیدرلینڈز کے ہاتھوں اپ سیٹ ہار نے ان کے رہے سہے حوصلے بھی تمام کردیے۔ بہرحال، ہیلز کی اس طوفانی اننگز کی بدولت 190 رنز کا ریکارڈ ہدف حاصل کیا۔

ٹورنامنٹ کی دوسری سنچری پاکستان کے احمد شہزاد نے بنگلہ دیش کے خلاف بنائی۔ 62 گیندوں پر 111 رنز کی اس ناقابل شکست باری کی بدولت پاکستان باآسانی 50 رنز سے میچ جیتا تھا البتہ بعد ازاں ویسٹ انڈیز نے اس کے آگے بڑھنے کے امکانات کا خاتمہ کردیا۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء: سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی

بلے باز ملک مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچری نصف سںچری چوکے چھکے
ویراٹ کوہلی  بھارت 6 319 77 106.33 0 4 24 10
ٹام کوپر نیدرلینڈز 7 231 72* 57.75 0 1 22 10
اسٹیفن مائی برگ نیدرلینڈز 7 224 63 32.00 0 3 26 13
روہیت شرما بھارت 6 200 62* 40.00 0 2 19 6
ژاں-پال دومنی جنوبی افریقہ 5 187 86* 62.33 0 1 14 8

ان دو سنچریوں کےعلاوہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں 37 نصف سنچریاں بھی بنیں، جن میں سے سب سے زیادہ یعنی 4 ویراٹ کوہلی نے بنائیں جنہیں آخر میں ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا بھی اعزاز ملا۔ ویراٹ نے ٹورنامنٹ میں 6 میچز کھیلے اور 106.33 کے اوسط اور 129.14 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 319 رںز بنائے، جو کسی بھی بلے باز سے زیادہ تھے۔ ان کی بہترین اننگز 77 رنز کی تھی جو انہوں نے سری لنکا کے خلاف فائنل میں بنائی لیکن یہ اننگز بھارت کو مقابلہ نہ جتوا سکی۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں شائقین سب سے زیادہ چوکے اور چھکے پسند کرتے ہیں اور اس لحاظ سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء نے شائقین کو بالکل مایوس نہیں کیا۔ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 853 چوکے اور 300 چھکے لگائے گئے جن میں چھکے لگانے والوں میں سب سے آگے نیدرلینڈز کے اسٹیفن مائی برگ رہے۔ نیدرلینڈز کے بلے بازوں کے لیے یہ ایک شاندار ٹورنامنٹ رہا، سوائے سری لنکا کے خلاف مایوس کن مقابلے کے، اور اس میں مائی برگ کا نام بہت نمایاں ہے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں 13 چھکے لگائے جس میں آئرلینڈ کے خلاف اہم مقابلے میں 7 چھکوں پر مشتمل 23 گیندوں پر 63 رنز کی دھواں دار باری بھی شامل تھی جس کی بدولت نیدرلینڈز آئرلینڈ کو زیر کرتے ہوئے سپر10 مرحلے میں پہنچا۔ اس کے بعد گلین میکس ویل کا نام آتا ہے جنہوں نے 12 چھکے لگائے لیکن ان کا ایڑی چوٹی کا زور بھی آسٹریلیا کو سیمی فائنل تک نہیں پہنچا پایا۔ البتہ پاکستان کے خلاف 6 چھکوں سے مزین 33 گیندوں پر 74 رنز کی اننگز ٹورنامنٹ کے یادگار لمحات میں سے ایک تھی، گو کہ یہ باری بھی آسٹریلیا کو مقابلہ نہ جتوا سکی۔ ان دونوں بلے بازوں کے علاوہ 'مین آف دی ٹورنامنٹ' ویراٹ کوہلی اور نیدرلینڈز کے ٹام کوپر نے 10، 10 چھکے لگائے۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء: سب سے زیادہ چھکے لگانے والے کھلاڑی

بلے باز ملک مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط اسٹرائیک ریٹ چوکے چھکے
اسٹیفن مائی برگ نیدرلینڈز 7 224 63 32.00 154.48 26 13
گلین میکس ویل آسٹریلیا 4 147 74 36.75 210.00 13 12
ویراٹ کوہلی بھارت 6 319 77 106.33 129.14 24 10
ٹام کوپر نیدرلینڈز 7 231 72* 57.75 137.50 22 10
شکیب الحسن بنگلہ دیش 7 186 66 37.20 129.16 15 9

چوکے لگانے میں بھی اسٹیفن مائی برگ سب سے آگے رہے۔ 7 مقابلوں کی اتنی ہی اننگز میں انہوں نے 13 چھکوں کے علاوہ حریف باؤلرز کو 26 چوکے بھی رسید کیے اور 154 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ مجموعی طور پر 224 رنز بنائے۔ ان کے بعد بھارت کے ویراٹ کوہلی کے نصیب میں 24 چوکے رہے۔

ایک اننگز میں سب سے بڑا مجموعہ اکٹھا کرنے کا کارنامہ جنوبی افریقہ نے انجام دیا جس نے انگلستان کے خلاف چٹاگانگ میں کھیلے گئے مقابلے میں 20 اوورز میں 196 رنز جوڑے جبکہ نیدرلینڈز نے سلہٹ میں ہونے والے مقابلے میں آئرلینڈ کے خلاف 190 رنز کا ہدف محض 14 ویں اوور میں حاصل کرکے نہ صرف اگلے مرحلے میں جگہ پائی بلکہ آئرلینڈ کے ساتھ زمبابوے کو بھی ٹورنامنٹ سے باہر کردیا۔

نیدرلینڈز کے اسٹیفن مائی برگ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ چھکے اور چوکے لگانے والے کھلاڑی رہے (تصویر: Getty Images)

نیدرلینڈز کے اسٹیفن مائی برگ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ چھکے اور چوکے لگانے والے کھلاڑی رہے (تصویر: Getty Images)

بدقسمتی سے ٹورنامنٹ کا کم ترین مجموعہ بھی نیدرلینڈز ہی کے نام رہا جو سری لنکا کے خلاف میچ میں صرف 39 رنز پر ڈھیر ہوا۔ گو کہ یہی ایک میچ ایسا تھا جس میں نیدرلینڈز کی کارکردگی مایوس کن رہی لیکن ساتھ ہی یہ کارکردگی میں عدم تسلسل کو بھی ظاہر کررہی ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

اگر باؤلنگ کی طرف نظر دوڑائیں تو جنوبی افریقہ کے عمران طاہر اور نیدرلینڈز کے احسن ملک سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں، جنہوں نے ٹورنامنٹ میں 12، 12 وکٹیں حاصل کیں۔ البتہ عمران طاہر اس لیے آگے قرار پائیں گے کیونکہ انہوں نے صرف 5 مقابلے کھیلے جبکہ احسن کو ابتدائی مرحلہ کھیلنے کی وجہ سے 7 میچز کھیلنے کو ملے۔

لیگ اسپنرز کے لیے بہترین قرار پانے والے ٹورنامنٹ میں عمران نے کل 20 اوورز پھینکے اور 131 رنز دے کر 12 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کی بہترین باؤلنگ 21 رنز دے کر 4 کھلاڑی آؤٹ کرنا رہی جو انہوں نے نیدرلینڈز کے خلاف اس میچ میں کروائی جب جنوبی افریقہ ایک اپ سیٹ شکست کے قریب تھا۔ ان کی اسی باؤلنگ کی بدولت جنوبی افریقہ مقابلہ 6 وکٹوں سے جیتا۔ دوسری جانب نیدرلینڈز کے احسن ملک نے بھی اسی مقابلے میں جنوبی افریقہ کے خلاف 19 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور انہیں 145 رنز کے معمولی اسکور تک محدود کیا۔

انفرادی طور پر بہترین باؤلنگ سری لنکا کے رنگانا ہیراتھ نے کی جنہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف کوارٹر فائنل نما مقابلے میں صرف 3 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور سری لنکا کو سیمی فائنل میں پہنچایا۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء: سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلرز

گیندباز ملک مقابلے اوورز میڈنز رنز وکٹیں بہترین باؤلنگ اوسط اکانمی ریٹ
عمران طاہر جنوبی افریقہ 5 20.0 0 131 12 4/21 10.91 6.55
احسن ملک نیدرلینڈز 7 24.5 0 166 12 5/19 13.83 6.68
سیموئل بدری ویسٹ انڈیز 5 20.0 0 113 11 4/15 10.27 5.65
روی چندر آشون بھارت 6 23.1 0 124 10 4/11 11.27 5.35
امیت مشرا بھارت 6 22.0 1 147 10 3/26 14.70 6.68

ٹورنامنٹ میں باؤلرز نے 559 فاضل رنز بھی دیے جن میں سب سے زیادہ رنز وائیڈز کے تھے جو 282 تھے۔

رنز کے لحاظ سے سب سے بڑی فتح ویسٹ انڈیز نے حاصل کی جس نے پاکستان کے خلاف گروپ کے آخری و اہم ترین میچ میں 84 رنز کی جیت اپنے نام کی۔ پاکستان کی مایوس کن بلے بازی اس کے ٹورنامنٹ سے اخراج کا سبب بنی۔

اگر فیلڈنگ کی بات کی جائے تو مجموعی طور پر ٹورنامنٹ میں 253 کیچ پکڑے گئے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ 84 کیچز ضائع بھی کیے گئے جن میں سے کئی بہت آسان تھے۔ اس کی وجوہات کا تو اب تک علم نہیں ہوسکا لیکن متعدد عوامل جیسا کہ اوس گرنے کوسبب قرار دیا جا رہا ہے۔

یوں انفرادی و اجتماعی دونوں لحاظ سے یہ ایک یادگار ٹورنامنٹ رہا، گو کہ میزبان بنگلہ دیش توقعات پر پورا نہیں اتر پایا اور ابتدائی مرحلے ہی میں ہانگ کانگ کے خلاف اپ سیٹ شکست سے دوچار ہوا اور پھر سپر10 میں اپنے تمام مقابلے ہار گیا لیکن اس کے باوجود تماشائیوں کا جوش وخروش آخری میچ تک اپنے عروج پر رہا۔

Facebook Comments