بگ تھری کو نہ مانتے تو دیوالیہ نکل جاتا: نجم سیٹھی

اصولی موقف تک عرصے تک ڈٹے رہنے کے بعد بالآخر پاکستان بھی 'بگ تھری' کی قوت کے سامنے جھک گیا اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس کے لیے تمام عذر ہائے لنگ تراشنے شروع کردیے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اگر ''بگ تھری' کو قبول نہ کرتے تو دو سال کے اندر بورڈکا دیوالیہ نکل جاتا۔

پاکستان کرکٹ پہلے ہی خسارے میں ہے، اس لیے بہرصورت اپنا مفاد مدنظر رکھنا ہوگا: چیئرمین پی سی بی (تصویر: AP)

پاکستان کرکٹ پہلے ہی خسارے میں ہے، اس لیے بہرصورت اپنا مفاد مدنظر رکھنا ہوگا: چیئرمین پی سی بی (تصویر: AP)

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بعد پہلی بار لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ملک میں کرکٹ اسی صورت میں چل سکتی ہے کہ کوئی ہم سے کھیلنے آئے ، اور ملک میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ عرصے سے نہیں ہو رہی اور بورڈ کو اس کا خاصا نقصان ہو رہا ہے، اگر اس صورتحال میں کوئی ہم سے تیسرے مقام پر بھی نہ کھیلے تو صورتحال مزید گمبھیر ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ اس وقت پہلے ہی سے خسارے میں ہے اس لیے ہمیں بہرصورت اپنے فائدے کو مدنظر رکھنا ہوگا ۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ منافع بخش سیریز منعقد ہوں اور گزشتہ کئی سالوں سے بھارت کا کھیلنے پر راضی نہ ہونا پاکستان کے لیے مالی طور پر بڑا نقصان تھا لیکن اب پڑوسی ملک کے ساتھ بھی معاملات طے پا گئے ہیں اور نہ صرف یہ کہ پاکستانی ٹیم بھارت کا دورہ کرے گی بلکہ خود بھارت بھی پاکستان آئے گا یا کسی تیسرے مقام پر کھیلے گا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ کچھ کرکٹ بورڈز کی خواہش تھی کہ ہم یہ تحریری طور پر لکھ کر دیں گے کہ یہ مقابلے پاکستان میں نہیں ہوں گے لیکن ہم نے رضامندی نہیں دکھائی اس لیے ایک دن ضرور پاکستان میں کرکٹ دوبارہ شروع ہوگی اور بورڈ اس کے لیے بھرپور کوششیں کررہا ہے۔

2015ء سے 2023ء تک کے اگلے فیوچر ٹورز پروگرام کے بارے میں نجم سیٹھی نے کہا کہ آئندہ 8 سالوں میں پاکستان کو 30 ارب روپے کا فائدہ ہوگا اور اس سے ملک میں کرکٹ کے کھیل کو مزید فروغ ملے گا۔

Facebook Comments