چیف سلیکٹر سمیت کسی بھی عہدے پر کام کرنے کے لیے تیار ہوں: معین خان

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کی ناکام مہم مکمل ہوتے ہی پاکستان کرکٹ بورڈ میں کافی اتھل پتھل ہوچکی ہے اور تقریباً ٹیم انتظامیہ فارغ ہوجانے کے بعد جیسے ہی نیا سیٹ اپ بننے لگا، راشد لطیف کی جانب سے چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالنے سے انکار نے معاملات کو پٹری سے اتار دیا ہے۔ اب ایک جانب وہ اپنے مسائل نہیں بتا رہے تو دوسری جانب بورڈ کے اہم عہدے کی خالی کرسی پر کئی نگاہیں جمی ہوئی ہیں جن میں حال ہی میں ہیڈ کوچ کے عہدے سے فارغ ہونے والے معین خان بھی شامل ہیں۔

بورڈ سے کبھی کوئی عہدہ طلب نہیں کیا، بغیر عہدے کے بھی قومی کرکٹ کے لیے خدمات انجام دوں گا (تصویر: Getty Images)

بورڈ سے کبھی کوئی عہدہ طلب نہیں کیا، بغیر عہدے کے بھی قومی کرکٹ کے لیے خدمات انجام دوں گا (تصویر: Getty Images)

ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں قومی ٹیم کی کوچنگ کے فرائض انجام دینے والے معین خان کہتے ہیں کہ چیف سلیکٹر، کوچ یا کسی بھی عہدے پر ٹیم کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور ان کا واحد مقصد قومی کرکٹ کی خدمت کرنا ہے۔

کراچی کی معین خان اکیڈمی میں کیمپس کرکٹ ٹورنامنٹ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم خطے کی باصلاحیت ترین ٹیموں میں شمار ہوتی ہے لیکن ہمارا صرف ایک مسئلہ ہے، وہ ہے فٹنس۔ اگر ہمارے کھلاڑیوں کی فٹنس بہتر ہوجائے تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا کی سب سے مضبوط ٹیم بن جائے گی۔

سابق وکٹ کیپر کپتان نے کہا کہ میں نے کبھی پاکستان کرکٹ بورڈ میں کسی عہدے کی خواہش ظاہر نہیں کی، میرا مقصد صرف قومی کرکٹ کی خدمت کرنا ہے اور اس لیے بورڈ جہاں چاہے اور جیسے چاہے ان کی خدمات حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ اگر بغیر عہدے کے بھی کام کرنا پڑا تو وہ اس سے دریغ نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ نجم سیٹھی نے گزشتہ سال معین خان کو چیف سلیکٹر کے عہدے پر فائز کیا تھا لیکن عدالت نے مداخلت کرکے انہیں عہدہ سنبھالنے سے روک دیا۔ بعد ازاں وہ ٹیم مینیجر کی حیثیت سے مختلف دوروں میں قومی ٹیم کے ساتھ رہے یہاں تک کہ ڈیو واٹمور کے عہدے کی میعاد مکمل ہونے کے بعد انہیں ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ہیڈ کوچ بنا دیا گیا۔ اب دیکھنا یہ ہےکہ معین خان اب کس حیثیت سے پاکستان کرکٹ کی خدمات انجام دیتے ہیں۔

Facebook Comments