[آج کا دن] اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارنے والے محمد عامر کا یوم پیدائش

ایک طرف سزا یافتہ کھلاڑیوں پر عائد پابندیوں کو کچھ نرم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری جانب ان قوانین کا بدترین نشانہ بننے والے نوجوان آج محمد عامر عمر کی 22 ویں دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں۔

اس غلطی پر عامر کو معافی ملے گی یا وہ نشان عبرت بنائے جائیں گے، یہ اگلے سال واضح ہوجائے گا (تصویر: Sky Sports)

اس غلطی پر عامر کو معافی ملے گی یا وہ نشان عبرت بنائے جائیں گے، یہ اگلے سال واضح ہوجائے گا (تصویر: Sky Sports)

گزشتہ ایک دہائی میں منظرعام پر آنے والے نئے باؤلرز میں بلاشبہ سب سے باصلاحیت محمد عامر پر بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے اس وقت بند ہوئے جب ساڑھے تین سال قبل وہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں دھر لیے گئے تھے۔ اپنی زندگی کے اس بدترین دن سے محض ایک روز قبل انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ تاریخ میں سب سے چھوٹی عمر میں 50 وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن اگلے ہی دن برطانیہ کے مصالحہ اخبار 'نیوز آف دی ورلڈ' نے "رنگ میں بھنگ" ڈال دی کہ محمد عامر کے علاوہ ان کے ہم وطن باؤلر محمد آصف نے انگلستان کے خلاف جاری لارڈز ٹیسٹ میں جان بوجھ کر نو بالز پھینکیں اور اس کے بدلے میں سٹے باز مظہر مجید سے رقوم حاصل کیں اور اس سازش میں کپتان سلمان بٹ بھی ملوث ہیں۔

کرکٹ تاریخ کے اس سب سے بڑے تنازع کے منظرعام پر آتے ہی محمد عامر پر گویا آسمان ٹوٹ پڑا۔ جب کرکٹ کیریئر کا سورج نصف النہار پر تھا عامر کو کرکٹ کھیلنے سے روک دیا گیا، یہاں تک کہ چند ماہ بعد بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے تینوں کھلاڑیوں پر کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندی عائد کردی جس کے مطابق وہ اس عرصے میں کسی بھی سطح پر کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بعد ازاں برطانیہ میں تینوں کھلاڑیوں پر بدعنوانی و دھوکہ دہی کا مقدمہ بھی چلا جو پاکستان کے علاوہ ان کی جگ ہنسائی کا باعث بنا کیونکہ تینوں کو قید کی سزائیں بھی بھگتنا پڑیں۔ محمد عامر کے لیے نوعمر مجرموں کے لیے اصلاحی جیل میں 6 ماہ گزارنے کی سزا قرار پائی۔

جس وقت محمد عامر پر پابندی عائد کی گئی اس وقت تک وہ 14 ٹیسٹ ، 15 ون ڈے اور 18 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے تھے اور بالترتیب 51، 25 اور 23 وکٹیں حاصل کیں۔ اس عرصے میں پاکستان کی متعدد یادگار فتوحات میں عامر کا کردار کلیدی تھا جیسا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009ء کے فائنل میں سری لنکا کے خلاف شاندار جیت، جس میں عامر نے ٹورنامنٹ کے بہترین بلے باز تلکارتنے دلشان کو اپنی بے دست و پا کرکے آؤٹ کیا۔

اس کے بعد انگلستان میں آسٹریلیا اور پھر میزبان کے خلاف اپنی ٹیسٹ سیریز میں عامر اپنے عروج پر دکھائی دیے۔ جولائی 2010ء میں ہیڈنگلے، لیڈز میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں کیریئر کی بہترین باؤلنگ کی اور میچ میں 106 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں۔ اس مقابلے میں پاکستان نے آسٹریلیا کو پہلی اننگز میں محض 88 رنز کے مجموعے پر ڈھیر کیا اور پھر تین وکٹوں سے ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کی۔ اس میچ میں عامر نے سائمن کیٹچ، رکی پونٹنگ اور مائیکل ہسی جیسی بڑی مچھلیاں بھی شکار کیں، بالخصوص پہلی اننگز میں انہوں نے مسلسل دو گیندوں پر جس طرح اسٹیون اسمتھ اور مچل جانسن کو کلین بولڈ کیا، وہ منظر مدتوں شائقین کے ذہنوں میں تازہ رہے گا۔ اس کارکردگی پر وہ میچ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔

لیکن محض ایک ماہ بعد لارڈز کا وہ بدنام زمانہ ٹیسٹ آیا، جس میں محمد عامر سمیت تین پاکستانی کھلاڑی دھر لیے گئے۔ اس ٹیسٹ میں بھی عامر کی کارکردگی شاندار تھی۔ پہلی اننگز میں انہوں نے 86 رنز دے کر 6 بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا تھا جن میں ایلسٹر کک، کیون پیٹرسن، پال کولنگ ووڈ، ایون مورگن اور میٹ پرائیر جیسے شہرۂ آفاق بیٹسمینوں کی وکٹیں بھی شامل تھیں اور گو کہ پاکستان کی بدترین کارکردگی اور اسپاٹ فکسنگ میں پکڑ لیے جانے کی خبر ان کی روح فنا کرنے کے لیے کافی تھی، لیکن پھر بھی انہیں چار ٹیسٹ مقابلوں میں 19 وکٹیں حاصل کرنے پر سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ضرور ملا لیکن تقریب میں جس شرمندگی کے ساتھ انہوں نے وہ اعزاز لیا، وہ تصویروں سے آج بھی ظاہر ہوتا ہے۔

پھر عدالت کچہریوں کے چکر چلے، پہلے آئی سی سی نے کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات کیں اور بالآخر جرم کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے تینوں کھلاڑیوں کے کرکٹ کھیلنے پر کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندیاں عائد کردیں۔ اس مرحلے پر محمد عامر سمیت کسی کھلاڑی نے اعتراف جرم نہیں کیا لیکن جب معاملہ برطانیہ کی عدالت میں پہنچا، جہاں تینوں کھلاڑیوں کے خلاف دھوکہ دہی اور بدعنوانی کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا عامر نے پہلی پیشی سے قبل ضمیر کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور اعتراف جرم کردیا۔ البتہ اب کافی دیر ہوچکی تھی، نہ ہی آئی سی سی نے سزا کم کی اور نہ ہی برطانوی عدالت نے ان سے کوئی نرمی برتی۔ (رہائی کے بعد عامر کا پہلا انٹرویو اس لنک پر دیکھیں

اب جبکہ پلوں کے نیچے سے کافی پانی گزر چکا ہے، اور سب کی نظریں جون میں ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اجلاس پر مرکوز ہیں جہاں ممکنہ طور پر انسداد بدعنوانی (اینٹی کرپشن) قوانین میں ترامیم کی منظوری دی جائے گی جس کے نتیجے میں محمد عامر رواں سال اگست کے اواخر سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل پائیں گے۔ گو کہ بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی فوری واپسی کے امکانات نہیں، کیونکہ آئی سی سی نے واضح کردیا ہے کہ کسی کھلاڑی کو پابندی کے خاتمے تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی، اور ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دینے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کھلاڑی پابندی کے خاتمے کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لیے تیار ہو۔ اس لیے عالمی کپ 2015ء میں محمد عامر کی شرکت کے امکانات تو ختم ہوہی چکے لیکن اگست 2015ء سے وہ قومی کرکٹ ٹیم کے لیے دستیاب ہوں گے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا وہ اس وقت بھی اتنے فٹ ہوں گے کہ ملک کی نمائندگی کر سکیں؟ پھر کیا پاکستان انہیں دوبارہ سبز شرٹ اور کیپ پہننے کے لیے دے گا؟ کیا محمد عامر اپنی 24 ویں سالگرہ اس حال میں منائیں گے کہ وہ قومی کرکٹ ٹیم کا مستقل حصہ ہوں؟ یا پاکستان کرکٹ کے کرتا دھرتا انہیں عبرت کی مثال بناتے ہوئے دوبارہ کھیلنے کا موقع نہیں دیں گے؟ یہ فیصلہ مستقبل ہی کرے گا۔

آپ کے خیال میں کیا اگست 2015ء کے بعد محمد عامر کو ٹیم میں جگہ دی جانی چاہیے؟ اپنی رائے کا اظہار تبصروں میں ضرور کیجیے۔

Facebook Comments