پیٹر مورس ایک مرتبہ پھر انگلستان کے کوچ مقرر

انگلستان نے کیون پیٹرسن کے عہد کے خاتمے کے ساتھ ہی پیٹر مورس کو ایک مرتبہ پھر ہیڈ کوچ مقرر کردیا ہے۔ یہ وہی مورس ہیں جو 2009ء میں اس وقت کے کپتان پیٹرسن کے ساتھ سخت تنازع کے بعد کوچنگ سے علیحدہ کر دیے گئے تھے لیکن اب اینڈی فلاور اور ایشلے جائلز کی جگہ ایک مرتبہ پھر انگلش کرکٹ ٹیم کے اہم عہدے پر فائز ہوگئے ہیں۔

پیٹر مورس کو پانچ سال قبل ہیڈ کوچ کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا (تصویر: PA Photos)

پیٹر مورس کو پانچ سال قبل ہیڈ کوچ کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا (تصویر: PA Photos)

حالیہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بدترین شکستوں، بالخصوص نیدرلینڈز کے خلاف ہار، کے بعد ایشلے جائلز کے عہد کا بھی خاتمہ ہوا، جنہیں 2012ء کے اواخر میں محدود اوورز کی ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ سوائے چیمپئنز ٹرافی کے نتیجے کے، کہ جہاں انگلستان فائنل تک پہنچا تھا، ٹیسٹ اور محدود اوورز کی کرکٹ میں الگ الگ کوچ آزمانے کا تجربہ ناکام ہوا، اتنا بری طرح کہ انگلستان ایک مرتبہ پھر اس شخص کو کوچ بنانے پر آمادہ ہوگیا ہے جسے پانچ سال قبل خود نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر پال ڈاؤنٹن نے کہا کہ اس عہدے کے لیے مورس اور جائلز کے علاوہ مک نیویل، مارک رابنسن اور ٹریور بیلس کے انٹرویوز لیے گئے تھے البتہ ہماری نظر میں مورس بہترین امیدوار رہے۔

مورس نے 2007ء سے 2009ء کے دوران انگلستان کی کوچنگ کی تھی لیکن آسٹریلیا کے ہاتھوں ایشیز سیریز میں پانچ-صفر کی شکست اور اس وقت کے کپتان کیون پیٹرسن کے ساتھ تعلقات کی خرابی کے باعث عہدے سے نکال دیے گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے لنکا شائر کاؤنٹی کی کوچنگ سنبھالی اور ٹیم کو 77 سال بعد پہلی بار چیمپئن بنایا۔ شاید یہی کارکردگی انہیں تینوں طرز کی کرکٹ میں ایک مرتبہ پھر انگلستان کا کوچ بنا گئی۔

نائب کوچ کی حیثیت سے سری لنکا کے موجودہ کوچ پال فاربریس کا نام بھی تقریباً یقینی ہوچکا ہے، جو سری لنکا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا جس نے اگلے ماہ انگلستان ہی کے خلاف پانچ ون ڈے، ایک ٹی ٹوئنٹی اور دو ٹیسٹ مقابلوں پر مشتمل سیریز کھیلنی ہے۔ اس کے بعد جولائی سے بھارت-انگلستان اہم سیریز کا آغاز ہوگا جس میں پانچ ٹیسٹ، پانچ ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی مقابلہ کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments