[آج کا دن] جب پاکستان 'بھاری پتھر' نہ اٹھا سکا

کرکٹ تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا کارنامہ ہے جو پاکستان نے انجام نہ دیا ہو، سوائے ویسٹ انڈیز کو اس کے میدانوں میں شکست دینے کے۔ یہ وہ 'بھاری پتھر' ہے جو پاکستان اس وقت بھی نہیں اٹھا سکا جب عمران خان کی زیر قیادت عالمی نمبر ایک تھا۔

عبد القادر نے دن کی آخری پانچ گیندیں کھیل کر پاکستان کو شکست سے بچایا، ایک سنسنی خیز مقابلہ (تصویر: AFP)

عبد القادر نے دن کی آخری پانچ گیندیں کھیل کر پاکستان کو شکست سے بچایا، ایک سنسنی خیز مقابلہ (تصویر: AFP)

پاکستان 1988ء میں آج ہی کے دن یعنی 19 اپریل کو اس ہدف کے بہت قریب پہنچا، اور پورٹ آف اسپین میں ایک یادگار مقابلے کے بعد بمشکل ہی شکست سے بچ سکا۔ یہ ایک ایسا مقابلہ تھا جس کے اختتام پر دونوں ٹیمیں ناخوش دکھائی دیں، کیونکہ دونوں بیک وقت فتح و شکست کے بہت قریب پہنچیں اور مقابلہ بالآخر بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوا۔

کوئنز پارک اوول میں دونوں ٹیموں کے قائدین عمران خان اور ویوین رچرڈز کی شاندار کارکردگی مقابلے کی سب سے اہم جھلک رہی اور جب پاکستان 372 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آخری 84 رنز کے لیے اپنی تمام تر امیدیں جاوید میانداد سے لگائے بیٹھا تھا، لیکن محض اپنا دوسرا ٹیسٹ کھیلنے والے کرٹلی ایمبروز کے ہاتھوں میانداد کا آؤٹ پاکستان کو مقابلے سے باہر کرگیا۔

ساڑھے 7 گھنٹے پر محیط جاوید میانداد کی سنچری اننگز نے پاکستان کے امکانات کو زندہ رکھا اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار سبز رنگ کالی آندھی پر غالب آ جائے گا لیکن جاوید کی واپسی کے بعد پاکستان کی امیدوں پر شکست کے سیاہ بادل چھانے لگے۔ اس موقع پر سلیم یوسف نے سیریز برابر ہونے سے بچائی۔ انہوں نے 59 گیندوں پر 35 رنز کی میچ بچاؤ باری کھیلی لیکن اس وقت آؤٹ ہوگئے جب مقابلہ آخری اوور میں داخل ہوا۔ اس اوور کی پہلی گیند پرویوین رچرڈز نے سلیم کو ایل بی ڈبلیو کردیا اور یوں معاملہ آخری وکٹ تک پہنچ گیا۔ نئے آنے والے بیٹسمین عبد القادر کو ہر صورت میں آخری پانچ گیندیں بچانی تھیں اور انہوں نے دھڑکتے دل لیکن بلند حوصلوں کے ساتھ بقیہ اوور بغیر کسی نقصان کے پورا کرلیا اور یوں پاکستان فتح سے محض 31 رنز لیکن شکست سے صرف ایک وکٹ کے فاصلے پر دیکھتا رہ گیا۔

سلیم یوسف کے علاوہ آخری لمحات میں اعجاز فقیہ کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے نویں وکٹ پر ایک گھنٹے سے بھی زیادہ تک سلیم کا بھرپور ساتھ دیا اور 51 گیندیں بھی کھیلیں۔ گو کہ ان کا حصہ صرف 10 رنز کا تھا لیکن وہ ویسٹ انڈیز کو فتح کی جانب پیشقدمی سے روکنے میں ضرور کامیاب ہوئے۔

قبل ازیں، پاکستان عمران خان اور عبد القادر کی تباہ کن باؤلنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں صرف 174 رنز پر ڈھیر ہوا۔ ان دونوں باؤلرز نے 4، 4 وکٹیں سمیٹ کر پاکستان کو پہلے ہی دن بالادست مقام تک پہنچا دیا لیکن بہترین کارکردگی کا یہ نشہ محض ایک سیشن میں ہرن ہوگیا کیونکہ چائے کے وقفے اور دن کے اختتام کے درمیان محض 55 رنز پر پاکستان 5 وکٹوں سے محروم ہوچکا تھا اور رہی سہی کسر اگلی صبح اعجاز احمد اور عمران خان کی وکٹوں نے پوری کردی۔ اسکور بورڈ پر صرف 68 رنز پر 7 آؤٹ کا ہندسہ پاکستان کا منہ چڑا رہا تھا۔

اس موقع پر سلیم ملک اور سلیم یوسف نے پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے معمولی اسکور کے جواب میں خسارے میں جانے سے روکا۔ آٹھویں وکٹ پر دونوں کے 94 رنز پاکستان کو میزبان کے اسکو رکے بہت قریب لے گئے۔ یوسف نے 39 اور ملک نے 66 رنز بنائے اور پاکستان کی پہلی اننگز 194 رنز پر مکمل ہوئی یعنی کہ 20 رنز کی برتری۔

گو کہ یہ کوئی حوصلہ افزاء برتری نہ تھی لیکن 81 رنز تک ویسٹ انڈیز کی چار وکٹیں ٹھکانے لگانے کے بعد پاکستان کو ایک مرتبہ پھر مقابلے پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ یہ چاروں وکٹیں عمران خان کو ملیں جنہوں نے ڈیسمنڈ ہینز، گورڈن گرینج، گس لوگی اور رچی رچرڈسن کو ٹھکانے لگایا۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان ویوین رچرڈز نے 'جارج مزاجی، بہترین دفاع' کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوئے اور پھر پاکستان کو جائے پناہ نہ ملی۔ انہوں نے پہلے کارل ہوپر کے ساتھ مل کر 94 رنز کا اضافہ کیا اور پھر وکٹ کیپر جیفری ڈیوجون کے ساتھ مل کر مزید 97 رنز جڑ ڈالے۔ ان کی 134 گیندوں پر سنچری کی خاص وجہ وہ غصہ تھا جو انہیں وکٹوں کےپیچھے بے جا اپیل کرتے سلیم یوسف پر آیا۔ جس پر انہوں نے سلیم کی جانب غصے میں بلّا بھی گھمایا لیکن معاملہ رفع دفع ہوگیا ۔ لیکن ویو کو جوش دلانے کی سزا پاکستان کو بھگتنا پڑی۔ 22 ویں ٹیسٹ سنچری بنانے کے بعد ویو 169 گیندوں پر 123 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے لیکن پاکستان کا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ جیفری ڈیوجون نے آخری دو وکٹوں کے ساتھ 90 قیمتی رنز کا اضافہ کر ڈالا اور یہی رنز بعد ازاں ویسٹ انڈیز کو مقابلے بچانے میں کلیدی ثابت ہوئے۔ ڈیوجون 106 رنز بنا کر ناقابل شکست میدان سے لوٹے تو ویسٹ انڈیز کا مجموعہ 391 رنز تھا یعنی پاکستان کو 372 رنز کا بڑا ہدف درپیش تھا۔

اوپنرز مدثر نذر اور رمیز راجہ کے درمیان 60 رنز کی ساجھے داری جہاں بہترین آغاز تھی تو اس کے بعد محض 7 رنز کے اضافے سے تین وکٹوں کا نقصان پستی کی جانب اشارہ۔

یہ مقابلہ زبردست نشیب و فراز کا حامل تھا، میچ کبھی ایک حریف کی جانب جھکتا تو کبھی دوسرا غالب آجاتا۔ جیسا کہ 67 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد سلیم ملک اور جاوید میانداد کی 86 رنز کی شراکت داری اور اس کے بعد پے در پے سلیم ملک اور عمران خان کی وکٹیں گرنا۔ تمام تر ذمہ داری جاوید میانداد کے کاندھوں پر آئی جنہوں نے اعجاز احمد کے ساتھ مل کر پاکستان کو درست سمت میں گامزن کیا۔ چھٹی وکٹ پر 113 رنز کی شراکت داری پاکستان کو ہدف سے محض 90 رنز کے فاصلے تک پہنچا گئی جبکہ 20 سے زیادہ اوورز کا کھیل باقی تھا۔ یہاں ویوین رچرڈز نے باؤلنگ میں اپنا جادو دکھایا، انہوں نے اعجاز احمد کو آؤٹ کرکے اہم شراکت داری کا خاتمہ کیا اور پھر کرٹلی ایمبروز نے جاوید میانداد کو ٹھکانے لگا کر گرتی دیوار کو زبردست دھچکا پہنچایا۔ پھر پاکستان سر دھڑ کی بازی لگا کر بھی مقابلہ محض ڈرا ہی کر پایا۔ لیکن آخر میں دونوں ٹیمیں سکون کا ٹھنڈا سانس لینے کے بجائے مایوسی کے ساتھ میدان سے لوٹیں کہ فتح دونوں کے بہت قریب آئی، لیکن وہ اسے گرفت میں نہ لے سکے لیکن دونوں شکست کے دہانے تک بھی پہنچے، اور اس سے بچ بھی گئے۔

ویوین رچرڈز کو میچ بچاؤ اننگز کھیلنے پر بہترین کھلاڑی کے اعزاز سے نوازا گیا۔

پاکستان اس کے بعد 2000ء میں ویسٹ انڈیز کو ٹیسٹ سیریز ہرانے کی پوزیشن میں آیا جب معین خان کی زیر قیادت اینٹیگا میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں امپائرز پاکستان کی راہ میں حائل ہوگئے اور انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد ویسٹ انڈیز ایک وکٹ سے مقابلے کے ساتھ ساتھ سیریز بھی جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔

Facebook Comments