کوئی تو روکو؟ میکس ویل کی ایک اور طوفانی اننگز

گزشتہ ماہ 'یوم پاکستان' کو گلین میکس ویل اپنی دھواں دار بیٹنگ کی بدولت 'یوم آسٹریلیا' بنانے پر تلے ہوئے تھے کہ پاکستان نازک مرحلے پر مقابلے کو اپنی گرفت میں لے گیا اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا اہم مقابلہ جیت گیا۔ میکس ویل آسٹریلیا کو تو سال کے اہم ترین ٹورنامنٹ میں گروپ مرحلے سے آگے نہ لے جا سکے لیکن اب انڈین پریمیئر لیگ میں وہ جیسی کارکردگی دکھا رہے ہیں، کنگز الیون پنجاب کو بڑی امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں۔

چنئی کے خلاف 95 اور راجستھان کے خلاف 89 رنز کی طوفانی اننگز، کیا کوئی 'میکس' کو روک پائے گا؟ (تصویر: BCCI)

چنئی کے خلاف 95 اور راجستھان کے خلاف 89 رنز کی طوفانی اننگز، کیا کوئی 'میکس' کو روک پائے گا؟ (تصویر: BCCI)

ابھی چنئی سپر کنگز کے باؤلرز ہی اپنا سبق نہ بھولے ہوں گے کہ راجستھان رائلز کے گیندباز 'میکس ویل زدگان' کی فہرست میں تازہ اضافہ بن گئے اور کنگز الیون پنجاب نے میکس ویل اور ملر کی طوفانی بیٹنگ کی بدولت 192 رنز کا ہدف باآسانی انیسویں اوور میں حاصل کرلیا۔

میکس ویل کی صرف 45 گیندوں پر 89 رنز کی اننگز، گو کہ ایک مرتبہ پھر تہرے ہندسے تک نہ پہنچ سکی، لیکن دونوں مرتبہ فتح گر ضرور ثابت ہوئی۔ چنئی سپر کنگز جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف 43 گیندوں پر 95 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہونے والے میکس گزشتہ شب 89 رنز تک پہنچے۔ جب وہ کریز پر آئے تھے تو تیسرے اوور میں محض 10 رنز پر پنجاب کے دو بیٹسمین آؤٹ ہو چکے تھے اور 192 رنز تک پہنچنے کے لیے اسے میکس ویل سے وہی کارکردگی دہرانے کی امید تھی جو چند روز پہلے ابوظہبی میں چنئی کے خلاف دکھائی گئی اور میکس نے شارجہ میں سلسلہ وہیں سے جوڑا، جو پچھلے مقابلے میں ٹوٹا تھا۔ محض اپنی چوتھی گیند پر انہوں نے کین رچرڈسن کو ڈیپ اسکوائر لیگ پر ایک زبردست چھکا اور اگلی گیند پر چوکا لگا کر اعلان کیا کہ راجستھانی یہ نہ سمجھیں کہ 191 رنز بنانے کے بعد وہ محفوظ ہیں۔ کچھ دیر بعد اپنے ہم وطن جیمز فاکنر کو دو چھکے لگانے کے کچھ دیر بعد میکس نے راجت بھاٹیا کو ایک اوور میں تین چوکے اور اگلے میں دو شاندار چھکے رسید کیے۔ درمیان میں انہوں نے دھاول کلکرنی کے ایک اوور کی چار گیندوں کو چوکے کی راہ دکھائی۔ ان کی شاندار اننگز چودہویں اوور میں اختتام کو پہنچی جب وہ 89 رنز بنانے کے بعد رچرڈسن کی واحد وکٹ بنے۔

ڈیوڈ ملر نے اس ذمہ داری کو بخوبی سرانجام دیا جو میکس ویل ان کے کاندھوں پر ڈال گئے تھے اور اٹھارہویں اوور میں، کہ جب پنجاب کو تین اوورز میں 37 رنز کی ضرورت تھی، ملر نے کلکرنی کو ایک ہی اوور میں چار چھکے لگا کر راجستھان کی رہی سہی امیدوں کا بھی خاتمہ کردیا۔ انیسویں اوور میں فاکنر کی چوتھی گیند پر چھکا وہ فاتحانہ شاٹ تھا جو پنجاب کو ایک اور شاندار فتح سے نواز گیا۔

میکس ویل اور ڈیوڈ ملر کی صورت میں کیا پنجاب کو وہ جوڑی میسر آ گئی ہے کہ جس کے بل بوتے پر وہ آئی پی ایل میں مراحل طے کرتا جائے گا؟ یہ بات اس وقت کہنا تو ناممکن ہے لیکن یہ یقینی ہے کہ اگر ان دونوں کے بلّے یونہی رنز اگلتے رہے تو کنگز الیون کو روکنے والا کوئی نہ ہوگا۔ یہی دونوں بیٹسمین تھے جنہوں نے چند روز قبل چنئی سپر کنگز کے خلاف ریکارڈ 206 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور اب راجستھان کے خلاف بھی ایک بڑے مجموعے کو بائیں ہاتھ کا کھیل بنایا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کل سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف شارجہ کے اسی میدان پر دونوں بلے باز کیا کر دکھاتے ہیں، جبکہ ان کے مقابلے ڈیل اسٹین، بھوونیشور کمار، ایشانت شرما اور ڈیرن سیمی جیسے زبردست گیندباز ہوں گے۔

Facebook Comments