[آج کا دن] کرٹلی ایمبروز بمقابلہ اسٹیو واہ

ویسٹ انڈیز کے کرٹلی ایمبروز کو Raging Bull یعنی 'غضب ناک بیل' کہا جاتا تھا۔ کرٹلی ایمبروز کو آنکھیں دکھانا تو درکنار کوئی بیٹسمین ان سے آنکھیں ملانے کی بھی جرات نہیں رکھتا تھا، لیکن یہ کام 1995ء میں آج ہی کے روز یعنی 21 اپریل کو آسٹریلیا کے اسٹیو واہ نے انجام دیا۔

پورٹ آف اسپین، ٹرینیڈاڈ کے کوئنز پارک اوول میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میں جب آسٹریلیا محض 18 رنز پر اپنی تین وکٹوں سے محروم تھا تو اسٹیو واہ نے کرٹلی ایمبروز کے جملوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ یہ بات ایمبروز کو بالکل نہیں بھائی اور وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسٹیو واہ کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ تندوتیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اس سے پہلے کہ معاملہ مزید خطرناک صورت اختیار کرتا کپتان رچی رچرڈسن درمیان میں آئے اور ایمبروز کو کلائی سے پکڑ کر زبردستی اسٹیو واہ سے دور ہٹایا۔

رچی رچرڈسن نے کرٹلی ایمبروز کو اسٹیو واہ سے الجھنے سے روکا، بلکہ زبردستی انہیں پیچھے ہٹایا (تصویر: Getty Images)

رچی رچرڈسن نے کرٹلی ایمبروز کو اسٹیو واہ سے الجھنے سے روکا، بلکہ زبردستی انہیں پیچھے ہٹایا (تصویر: Getty Images)

اس کے بعد اسٹیو واہ اور کرٹلی ایمبروز کے درمیان زبردست مقابلے کا آغاز ہوا۔ ایمبروز کے باؤنسرز اسٹیو واہ کے صبر کا امتحان لینے لگے لیکن وہ پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے۔ ایک ایسے مقابلے میں جہاں چار اننگز میں بننے والا سب سے بڑا مجموعہ 136 رنز تھا، اسٹیو واہ نے میچ کی واحد نصف سنچری بنائی بلکہ 63 رنز کے ساتھ ناقابل شکست میدان سے لوٹے لیکن ایمبروز کو چھیڑنے کی آسٹریلیا کو بہت بھاری قیمت چکانی پڑی۔

پہلی اننگز میں کرٹلی ایمبروز نے 45 رنز دے کر 5 اور دوسری میں 20 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور ویسٹ انڈیز کو مقابلہ جتوا کر سیریز ایک-ایک سے برابر کروائی۔ اس شاندار کارکردگی پر انہیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔

تند خو کرٹلی ایمبروز کی غصے میں کی گئی زبردست باؤلنگ اور گیند پھینکنے کے بعد اسٹیو واہ پر قہر ڈھاتی نگاہیں بلاشبہ ٹیسٹ کرکٹ کا ایک یادگار لمحہ ہیں۔ آپ بھی ان لمحات سے لطف اندوز ہوں۔

Facebook Comments