’’جگاڑ‘‘ سے بگاڑ ختم نہیں ہوتے!!

جب وطن عزیز پر طفیلی قابض ہوں اور بونے اشرف المخلوقات کے حاکم بن کر انہیں محض ’’مخلوق‘‘ سمجھیں تو ہر ادارے مسلسل بگاڑ کا سبب بننے والے جگاڑیے ہی دکھائی دیں گے۔ جب میرٹ کی دھجیاں اڑا کر ٹٹ پونجیوں کو نوازنے کا دور شروع ہوجائے تو بگاڑ کا ننھا سا پودا محض دنوں میں تناور درخت بن جاتا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ میں بالکل یہی صورتحال ہے۔ متنازع شخصیت کے حامل ایک صحافی کو اس ادارے کی سربراہی سونپی گئی، جس کی ابجد سے بھی موصوف واقف نہیں ہیں۔ مگر عام انتخابات میں’’شاہوں‘‘ کے مددگار بننے والے وزیر اعلیٰ کو پاکستان کرکٹ بورڈ سونپ دیا گیا۔

ظہیر عباس کی انتظامی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لیے اوول 2006ء ٹیسٹ ہی کافی ہے، جب وہ ٹیم مینیجر تھے اور پاکستان پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگا تھا (تصویر: Getty Images)

ظہیر عباس کی انتظامی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لیے اوول 2006ء ٹیسٹ ہی کافی ہے، جب وہ ٹیم مینیجر تھے اور پاکستان پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگا تھا (تصویر: Getty Images)

جس طرح نجم سیٹھی چیئرمین پی سی بی بنے، بالکل اسی طرح وہ اپنے منظور نظر افراد کو عہدوں پر بٹھا رہے ہیں۔ اپنی ’’چڑیا‘‘ کی مدد سے حکومتی ایوانوں کی ’’سن گن‘‘ لینے والے کہنہ مشق صحافی یہی ’’پریکٹس‘‘ اب پی سی بی کے ایوانوں میں بھی کررہے ہیں تاکہ بڑے عہدوں پر بیٹھی ہر ’’چڑیا‘‘ ان کی جی حضوری کرتے ہوئے انہیں خفیہ معلومات بھی فراہم کرتی رہے اور ’’حضور کا اقبال بلند ہو‘‘جیسی صدائیں لگانے والوں کے سر پر ان کا اقتدار مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے۔

ظہیر عباس بلاشبہ ماضی کے بہت بڑے بیٹسمین ہیں، جنہیں انگریزوں نے ایشین بریڈمین کے خطاب سے نوازا اور جب بھی پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے سرفہرست بلے بازوں کی بات کی جائے گی تو اس فہرست میں ظہیر عباس کا نام ضرور آئے گا۔ مگر ظہیر عباس کس حیثیت سے پہلے مینجمنٹ کمیٹی کے رکن بنے، پھر انہیں بیٹنگ کنسلٹنٹ بنا کر قومی ٹیم کے ساتھ روانہ کیا گیا؟ اور جب اس حیثیت سے انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو ظہیر عباس کو چیئرمین کا مشیر خاص بنا دیا گیا ۔کیا یہ عہدے من پسند افراد کو دی جانے والی مراعات نہیں ہیں۔ جب 2006ء کے اوول ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ تنازع پیدا ہوا تھا تو اس وقت یہی ظہیر عباس ٹیم کے مینیجر تھے۔ تنازع کو حل کروانا تو درکنار وہ کپتان کو کوئی ’’قیمتی‘‘مشورہ بھی نہ دے سکے کیونکہ ’’زیڈ‘‘خود بھی قوانین سے ناآشنا تھے۔

دوسری جانب رانا فیملی اور رشید برادران بھی کئی سالوں سے پاکستان کرکٹ پر مسلط ہیں اور ان دونوں خاندانوں کے پاس نجانے کون سی ایسی گیدڑ سنگھی ہے کہ ہر دور میں کسی نہ کسی حیثیت سے بورڈ سے چمٹے رہتے ہیں۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ڈائریکٹر ہارون رشید ہی کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بور راشد لطیف جیسے چیف سلیکٹر سے محروم ہونا پڑا اور شاید اسی کے انعام کے طور پر انہیں کوچ فائنڈنگ کمیٹی کا رکن بھی بنا دیا گیا۔ اپنا تمام کیریئر یو بی ایل میں گزارنے والے ہارون رشید نے چیئرمین پی سی بی کو مشورہ دیا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ سے ڈپارٹمنٹس کا کردار ہی ختم کردیا جائے۔ اس ایک مشورے ہی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چیئرمین نے اپنے گرد جن لوگوں کو اکٹھا کررکھا ہے وہ پاکستان کرکٹ کے لیے کتنے مخلص ہیں۔

معین خان پہلی بار پاکستان کرکٹ بورڈ میں آئے ہیں، بلکہ آتے ہی چھا گئے ہیں۔ نجم سیٹھی کا بس نہیں چل رہا کہ ہر عہدہ معین کی جھولی میں ڈال دیں مگر اس کے باوجود معین کو چیف سلیکٹر کے ساتھ ساتھ ٹیم مینیجر کا عہدہ بھی عنایت کرکے انہیں حقیقی معنوں میں ’’باس‘‘ بنا دیا گیا ہے ۔ حالانکہ اس سے قبل معین خان اور ظہیر عباس کی جوڑی نے قومی کرکٹ کو جو نتائج دیے ہیں، وہ سب کے سامنے ہیں۔

وزیر اعظم کی نظر کرم سے چيئرمین پی سی بی بننے والے نجم سیٹھی اس نظر کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں اور جگاڑی اور طفیلی بھرتی کرکے پاکستان کرکٹ کی بہتری کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن ایسی جگاڑوں سے صرف بگاڑ ہی پیدا ہوتا ہے، سنورتا کچھ نہیں۔

Facebook Comments