متنازع کیریئر احمد شہزاد کی ٹی ٹوئنٹی قیادت تک پہنچنے میں رکاوٹ

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں مایوس کن شکست اور اس کے بعد کپتان محمد حفیظ کے استعفے نے پاکستان کرکٹ کو ایک مرتبہ پھر دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ گو کہ حفیظ کا استعفیٰ ایک اچھی مثال ہے، بالخصوص ایسے ملک میں جہاں اپنی ذمہ داری کو قبول کرکے عہدہ چھوڑنے کا رواج سرے سے نہیں پایا جاتا، لیکن اب جبکہ کوئی قیادت کا تجربہ رکھنے والا سینئر کھلاڑی ٹیم میں موجود نہیں، پاکستان کو نئے کپتان کی تقرری کے لیے سخت فیصلہ درپیش ہے۔

احمد شہزاد نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور بدمزاجی کی خاصی شہرت رکھتے  ہیں (تصویر: Getty Images)

احمد شہزاد نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور بدمزاجی کی خاصی شہرت رکھتے ہیں (تصویر: Getty Images)

ایک جانب جہاں بھارت میں تند مزاج ویراٹ کوہلی موجودہ کپتان مہندر سنگھ دھونی کے ممکنہ جانشیں ہیں تو کچھ حلقے پاکستان میں احمد شہزاد کو ٹی ٹوئنٹی طرز کے نئے کپتان کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں۔

میدان میں جارحانہ رویے اور جوشیلے پن کی وجہ سے (بری) شہرت رکھنے والے احمد شہزاد متعدد بار حریف کھلاڑیوں سے الجھ پڑے ہیں اور اس کی طویل تاریخ رکھتے ہیں لیکن بورڈ میں ان کے حامی حلقے کہتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی جس طرز کی کرکٹ اس میں ایسے ہی جذباتی کپتان کی ضرورت ہے۔

احمد شہزاد کے پاس قیادت کا تجربہ تو موجود ہے۔ 2007ء میں انڈر19 کے کپتان کی حیثیت سے وہ دورۂ آسٹریلیا پر گئے تھے۔ دورے میں روا رکھی گئی بدتمیزی و بدتہذیبی کی وجہ سے مینیجر عبد الرقیب نے سینئر عہدیداران سے احمد شہزاد کی شکایت کی اور انہیں قیادت سے ہاتھ دھونے پڑے۔

مقامی کرکٹ میں تو ایک جانب لیکن عالمی سطح پر بھی وہ متعدد بار ایسی حرکات کر چکے ہیں کہ امپائروں کو مداخلت کرنا پڑے۔ یہاں تک کہ ان پر جرمانے بھی لگے۔ 2011ء کے عالمی کپ میں کینیڈا کے خلاف مقابلے میں حریف بلے باز کو تنگ کرنے، پھر سری لنکا کے خلاف حالیہ ہوم سیریز میں تلکارتنے دلشان سے الجھنے اور میدان سے باہر آنے کے بعد عمر اکمل سے جھگڑے نےان کی جیبیں تک ہلکی کر ڈالیں۔ نظم و ضبط کا ایسا ریکارڈ رکھنے کے باوجود احمد شہزاد قیادت کے لیے خاصے مضبوط امیدوار ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments