ڈنکن فلیچر بھارت کے نئے کوچ مقرر

بھارت نے انگلستان کے سابق کوچ ڈنکن فلیچر کو قومی کرکٹ ٹیم کا نیا کوچ نامزد کر کے ہفتوں جاری رہنے والی بحث کا خاتمہ کر دیا ہے۔ فلیچر جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے گیری کرسٹن کی جگہ یہ اہم ذمہ داری سنبھالیں گے۔

بھارت کے نئے کوچ ڈنکن فلیچر

زمبابوے سے تعلق رکھنے والے ڈنکن فلیچر کے ساتھ بھارت کی کوچنگ کا دو سالہ معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس بات کا اعلان ممبئی میں بدھ کو بھارتی کرکٹ بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔

تاہم اس امر کے امکانات نہیں ہیں کہ وہ دورۂ ویسٹ انڈیز کے دوران اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس کی وجہ ان کا موجودہ ذمہ داریوں کو مکمل کرنا بتایا گیا ہے۔

62 سالہ فلیچر کی زیر تربیت انگلستان نے 2005ء میں ایک یادگار سیریز کے بعد آسٹریلیا سے ایشیز جیتی تھی۔ ان ہی زیر نگرانی انگلستان کی ٹیم شکست کے بھنور سے نکلی اور ٹیسٹ کرکٹ میں اہم مقام حاصل کیا۔ وہ 8 سال تک انگلستان کے کوچ کے عہدے پر فائز رہے۔ 1999ء میں ذمہ داری سنبھالنے کے بعد انگلستان نے سری لنکا اور پاکستان کو انہی کی سرزمین پر زیر کیا تاہم اسے ایشیز 2001ء میں آسٹریلیا سے منہ کی کھانی پڑی اور 4-1 سے سیریز میں شکست کھائی۔ تاہم بعد ازاں مائیکل وان کی قیادت میں انگلستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف اس کی سرزمین پر پہلی فتح حاصل کی اور پھر 2005ء میں انگلستان نے ایشیز میں یادگار فتوحات حاصل کیں۔

ڈنکن فلیچر کی زیر تربیت انگلش ٹیم نے 42 ٹیسٹ فتوحات حاصل کیں اور 30 مرتبہ شکست کھائی تاہم ایک روزہ کرکٹ میں ان کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ انگلستان نے ان کی زیر نگرانی 75 فتوحات حاصل کیں جبکہ 82 مرتبہ اسے شکست کھانی پڑی۔ ان کی کوچنگ کا سب سے برا لمحہ 2006-07ء میں ایشیز میں آسٹریلیا سے 5-0 کی بدترین شکست اور 2007ء کے عالمی کپ میں مایوس کن کارکردگی تھی۔

انگلش ٹیم کی کوچنگ چھوڑنے کے بعد انہوں نے عالمی سطح پر متعدد ذمہ داریاں نبھائیں جن میں 2008ء میں بیٹنگ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے جنوبی افریقہ کی مدد بھی شامل ہے۔ وہ 2011ء کے عالمی کپ میں بھی جنوبی افریقہ کے بیٹنگ مشیر تھے۔ گزشتہ سال نیوزی لینڈ کے دورۂ بھارت کے موقع پر بھی انہوں سے اسی عہدے سے نیوزی لینڈ کے لیے خدمات انجام دیں۔

دوسری جانب بھارت نے موجودہ باؤلنگ کوچ ایرک سیمنز کے عہدے کی میعاد میں توسیع کر دی ہے۔

Facebook Comments