پاکستان کو وقار یونس سے بہتر کوئی کوچ نہیں ملے گا: انضمام الحق

اب جبکہ پاکستان کے نئے ہیڈ کوچ کی تقرری میں محض چند روز رہ گئے ہیں، کئی نام واضح ہو کر سامنے آئے ہیں اور چند کے امکانات معدوم ہونے لگے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جو نام بڑی شدومد کے ساتھ ابھرا ہے وہ وقار یونس کا ہے۔ معین خان کے ٹیم مینیجر اور چیف سلیکٹر بننے کے بعد کوئی مضبوط امیدوار وقار کے مدمقابل نہیں دکھائی دیتا اور اب تو پاکستان کرکٹ کے اہم نام بھی ان کا نام لینے لگے ہیں، جیسا کہ انضمام الحق۔ جو کہتے ہیں کہ نئے ہیڈ کوچ کے لیے وقار یونس سے بہترین کوئی امیدوار نہیں ہو سکتا ۔

انضمام عالمی کپ میں وقار کو بطور کوچ اور مصباح کو کپتان کی حیثیت سے دیکھنے کے خواہاں ہیں  (تصویر: PCB)

انضمام عالمی کپ میں وقار کو بطور کوچ اور مصباح کو کپتان کی حیثیت سے دیکھنے کے خواہاں ہیں (تصویر: PCB)

عالمی کپ 2015ء کی شروعات میں اب 10 ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے اور اس حوالے سے عالمی کپ 1992ء کے فاتح دستے کے رکن انضمام کہتے ہیں کہ "یہی موقع ہے کہ عالمی کپ کے لیے ٹیم کی تیاری کی جائے اور اس مقصد کو بہترین اندازمیں حاصل کرنے کے لیے کپتانوں اور کھلاڑیوں کو بار بار بدلنے کی روش سے چھٹکارہ پانا ہوگا۔" انضمام کے اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مصباح الحق ہی کو عالمی کپ میں پاکستان کا کپتان دیکھنا چاہتے ہیں جو اس وقت پاکستان کی ٹیسٹ اور ایک روزہ ٹیم کے قائد ہیں۔

وقار یونس عالمی کپ 2011ء میں بھی پاکستان کے کوچ کے عہدے پر فائز تھے او رپاکستان توقعات کے برعکس سیمی فائنل تک پہنچ گیا تھا اور اس مرتبہ بھی انضمام سمجھتے ہیں کہ ملکی و غیر ملکی کوچ کے چکر سے چھٹکارہ حاصل کرلینا چاہیے اور یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ مقامی کوچ ہی کھلاڑیوں کی نفسیات کو بہترین انداز میں سمجھ سکتا ہے۔

انضمام الحق نے کہا کہ انہیں اب تک کوچ کا کوئی بھی عہدہ سنبھالنے کی پیشکش نہیں کی گئی، اگر بورڈ میری خدمات لینے کا خواہشمند ہوگا تو میں ضرور اس بارے میں سوچوں گا۔

ہیڈ کوچ کے علاوہ پاکستان کے بیٹنگ، فیلڈنگ اور اسپن باؤلنگ کوچ کے عہدے خالی ہیں اور متعدد حلقے انضمام الحق کو بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

Facebook Comments