پی سی بی میں عہدوں کی بندر بانٹ کا سلسلہ دراز ہونے کا امکان

جب کوئی ادارہ تباہی کی جانب گامزن ہوتا ہے تو وہ اپنے ملازمین کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے، انہیں فارغ نہ بیٹھنے دینے اور منظور نظر افراد کو نوازنے کی حکمت عملی اپناتا ہے۔ بالکل وہی، جو اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ اختیار کرنے جارہا ہے۔ ایک جانب معین خان کو دہری ذمہ داری دی گئی ہے تو وہیں محمد اکرم سمیت دیگر کئی عہدیداران کے فرائض منصبی میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب من پسند افراد کو نوازنے کے لیے نت نئے عہدے بھی تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں تربیتی عملے کی خالی آسامیوں کے لیے شائع ہونے والے اشتہار میں اسپن باؤلنگ مشیر کا عہدہ اس کی ایک بہترین مثال تھی جبکہ اب اسسٹنٹ کوچ کی باتیں کی جا رہی ہیں، جس پر ممکنہ طور پر ایک سابق عہدیدار کا تقرر عمل میں آئے گا۔

ممکنہ ہیڈ کوچ وقار یونس کو ایک نائب بھی فراہم کیا جائے گا (تصویر: AP)

ممکنہ ہیڈ کوچ وقار یونس کو ایک نائب بھی فراہم کیا جائے گا (تصویر: AP)

دو عہدوں کا معاملہ پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے خاصہ نزاع کا معاملہ رہا ہے۔ پہلے اپنے وقت کے صدر پرویز مشرف کو افواج پاکستان کی سربراہی پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو ان کے بعد آصف علی زرداری کو حکمران جماعت کی سربراہی اور صدارت کے عہدے رکھنے پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن پی سی بی اہم اعلانات سے قبل ہی ہر اہم امیدوار کو دو، دو عہدے دے کر 'سب کو خوش کرنے' کی پالیسی پر عمل پیرا دکھائی دیتا ہے۔

حال ہی میں محمد اکرم کو باؤلنگ کوچ کے عہدے سے ہٹا کر قومی کرکٹ اکیڈمی کا ہیڈ کوچ اور سلیکٹر بنایا گیا تو وہیں اعجاز احمد کو بھی دہری ذمہ داری ملنے کا امکان ہے۔ سابق بلے باز سلیکشن کمیٹی کے رکن تو قرار پائے ہی لیکن اب امید لگائے بیٹھے ہیں کہ انضمام الحق کے انکار کی صورت میں فیلڈنگ و بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے قومی ٹیم سے وابستہ ہوجائیں۔

اب صرف انتظار ہے اگلے ہفتے ممکنہ نئے ہیڈ کوچ وقار یونس کی آمد اور ان کی چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے ساتھ رسمی ملاقات کا، جس کے بعد تمام خالی عہدوں پر تعیناتیاں ہوں گی۔ یہ سارا عمل 5 مئی سے قبل مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ اس دن قومی کھلاڑیوں کا یک ماہی تربیتی کیمپ شروع ہوگا۔

Article Tags

Facebook Comments