محمد اکرم کا دور، پاکستان باؤلنگ کے لیے مایوس کن عہد

دنیائے کرکٹ میں پاکستان کا نام ذہن میں آتے ہی پہلا تصور خطرناک تیز باؤلرز کا ابھرتا ہے۔ عمران خان اور سرفراز نواز سے لے کر وسیم اکرم اور وقار یونس تک ایک طویل سلسلہ ہے جو پاکستان کی کامیابی کی کنجی تھا، لیکن اب یہ بھولی بسری یادیں سی لگتی ہیں۔ پاکستان کی باؤلنگ کو کسی کی نظر لگ گئی یا باؤلرز کی لگام جس ہاتھ میں آئی وہ بھاری پڑ گیا کہ اس کے زیرنگیں پاکستان کے باؤلرز وکٹیں لینا بھول گئے، ایسی درگت بننے لگی کہ گویا ٹیسٹ رکنیت رکھنے والے ملک کے نہیں بلکہ کسی ایسوسی ایٹ رکن کے نوآموز گیندباز ہوں۔ پٹنے والے باؤلرز میں کیا تجربہ کار اور کیا نئے نویلے، سب ہی پاکستان کو منزل کے بجائے شکست کے گڑھے کی طرف دھکیلتے دکھائی دیے۔

پاکستان نے گزشتہ ہفتے محمد اکرم کو باؤلنگ کوچ کے عہدے سے ہٹا کر انہیں قومی کرکٹ اکیڈمی میں ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سونپ دی اور ساتھ ساتھ سلیکشن کمیٹی کا رکن بھی بنا دیا۔ 24 اگست 2012ء کو پاکستان کے باؤلنگ کوچ کے عہدے پر فائز ہونے والے محمد اکرم کا ڈیڑھ سالہ عہد پاکستان کے باؤلرز بالخصوص تیز گیندبازوں کے لیے بہت مایوس کن رہا۔ وقار یونس کی زیر تربیت جن گیندبازوں نے دنیا کے بہترین بلے بازوں کو ناکوں چنے چبوائے، لیکن پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

محمد اکرم کی تربیت میں پاکستان نے 18 ٹیسٹ، 47 ایک روزہ اور 27 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے جن میں سے محض تین ٹیسٹ، 21 ون ڈے اور 16 ٹی ٹوئنٹی مقابلے ہی جیت پایا۔

پاکستان کی باؤلنگ کے لیے محمد اکرم کا دور بہت مایوس کن رہا (تصویر: AFP)

پاکستان کی باؤلنگ کے لیے محمد اکرم کا دور بہت مایوس کن رہا (تصویر: AFP)

کرکٹ کی سب سے بہترین طرز یعنی ٹیسٹ میں پاکستان کے لیے یہ پورا عرصہ انتہائی مایوس کن رہا، کیونکہ ٹیم نے صرف 3 فتوحات حاصل کی۔ جن میں سے ایک زمبابوے کے خلاف تھی جبکہ باقی دو فتوحات جنوبی افریقہ اور سری لنکا کےمقابلے میں لیکن ماضی کے مقابلے میں پاکستان نے یہ تینوں مقابلے اپنی باؤلنگ کے بل بوتے پر نہیں بلکہ بیٹنگ کے ذریعے جیتے۔ ہرارے ٹیسٹ میں خسارے میں جانے کے بعد یونس خان کی ڈبل سنچری پاکستان کو مقابلے میں واپس لائی جبکہ جنوبی افریقہ کے خلاف ابوظہبی میں خرم منظور اور مصباح الحق کی سنچریوں نے پاکستان کو بالادست پوزیشن پر پہنچایا۔ پھر شارجہ کا وہ تاریخی ٹیسٹ جس میں پاکستان نے سری لنکا کے خلاف 302 رنز کا ہدف محض 57.3 اوورز میں حاصل کیا، اظہر علی، سرفراز احمد اور مصباح الحق کی شاندار بلے بازی کی مرہون منت تھا۔ باقی شکستوں کا کیا حال؟ باؤلرز کی یہی کارکردگی تھی جس کی وجہ سے پاکستان اس پورے عرصے میں ایک سیریز بھی نہ جیت سکا، یہاں تک کہ زمبابوے کے خلاف سیریز بھی برابر ٹھہری۔ باؤلنگ کوچ محمد اکرم کے زیر تربیت پاکستان کے باؤلرز نے مجموعی طور پر 1772 اوورز پھینکے اور 5051 رنز کی مار کھائی، اور بدلے میں وکٹیں؟ صرف 150۔ علاوہ ازیں 247 اضافی رنز بھی ظاہر کرتے ہیں کہ باؤلرز کی تربیت درست خطوط پر نہیں ہو رہی تھی۔

انفرادی سطح پر دیکھا جائے تو اس پورے عرصے میں سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے والے سرفہرست 10 باؤلرز میں کوئی پاکستانی موجود نہیں۔ جہاں ڈیل اسٹین 75 اور مچل جانسن 74 وکٹوں کے ساتھ سب سے آگے رہے، وہیں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے تیز باؤلر جنید خان صرف 29 وکٹیں سمیٹ سکے۔

ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی ویسے ہی مایوس کن رہی۔ محمد اکرم کے زمانے کا اہم ترین ٹورنامنٹ چیمپئنز ٹرافی پاکستان کے لیے بھیانک خواب رہا جہاں ٹیم کوئی مقابلہ جیتے بغیر خالی دامن وطن واپس لوٹی۔ کو کہ انفرادی سطح پر سعید اجمل کی کارکردگی بہت نمایاں رہی لیکن اسپن باؤلنگ پاکستان کے لیے تشویش کا مسئلہ ہے ہی نہیں، پاکستان کو اصل تشویش تیز باؤلنگ کے حوالے سے تھی اور محمد اکرم کو کوچ کی ذمہ داری دینے کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ اپنے کھیل اور کوچنگ کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے تیز گیندبازوں کو ناقابل شکست بنائیں۔ لیکن ٹیسٹ کے بعد ایک روزہ میں بھی وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ ون ڈے میں پاکستان کے باؤلرز نے 47 مقابلوں میں کل 2003 اوورز پھینکے، 9426 رنز دیے اور صرف 305 وکٹیں حاصل کیں۔ 596 رنز فاضل رنز کا 'تمغہ امتیاز' بھی باؤلرز کو حاصل رہا۔ اکرم کے پورے عہد میں 2012-13ء کا دورۂ بھارت اور 2013ء کا دورۂ جنوبی افریقہ ایسے لمحات تھے، جس میں تیز باؤلنگ پاکستان کی روایتی جارحیت نظر آئی۔خود اپنے، یعنی متحدہ عرب امارات کے، میدانوں میں پاکستان آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز ہارا ۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی اسپنرز ہی جتوانے میں کامیاب ہوئے ،ورنہ تیز باؤلرز کا حال پتلا تھا۔

محمد اکرم پاکستان کو کوئی نیا تیز باؤلر نہ دے سکے، بلکہ پرانوں کی کارکردگی بھی رو بہ زوال ہے (تصویر: AFP)

محمد اکرم پاکستان کو کوئی نیا تیز باؤلر نہ دے سکے، بلکہ پرانوں کی کارکردگی بھی رو بہ زوال ہے (تصویر: AFP)

سعید اجمل اس عرصے میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ وکٹیں لے کے پاکستانی باؤلنگ کی لاج رکھ گئے لیکن یہ بات سب پر عیاں ہے کہ سعید کی کارکردگی میں کم از کم کوچ کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ جن گیندبازوں کو عالمی معیار کا بنانا تھا، جیسا کہ جنید خان، ان کی کارکردگی میں عدم تسلسل دکھائی دیا، تجربہ کار عمر گل تو اپنے کیریئر کے تابوت میں آخری کیلیں ٹھونک رہے ہیں اور مستقبل قریب میں کوئی ایسا باؤلر نظر نہیں آتا جو پاکستان کو ماضی کی عظمتوں کی جانب واپس لائے۔ صرف ایک میچ کی کارکردگی کی بنیاد پر عثمان شنواری کو بین الاقوامی کرکٹ میں طلب کرکے، کیریئر کے ابتدائی لمحات میں ان کے ساتھ جو زیادتی کی گئی ، اس کا اندازہ جلد ہوجائے گا لیکن راحت علی، وہاب ریاض اور سہیل تنویر کی مایوس کن کارکردگی اور انو رعلی اور بلاول بھٹی کی کارکردگی میں عدم تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ کھلاڑیوں کی تربیت میں کوئی بہت بڑی کمی رہی۔

شاید یہی وجہ رہی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد اکرم کو قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا لیکن انہیں قومی کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری دے کر آنے والے گیندبازوں کی تربیت کا ذمہ سونپ کر کہیں اور بڑی غلطی تو نہیں کردی گئی؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

Facebook Comments