[وڈیوز] ڈی ولیئرز بمقابلہ ڈیل اسٹین

آخر ابراہم ڈی ولیئرز کو مختصر طرز کی کرکٹ میں دنیا کے بہترین بلے بازوں میں کیوں شمار کیا جاتا ہے؟ اس کی ہلکی سی جھلک 'اے بی' نے گزشتہ شب بنگلور میں دکھائی۔

ڈی ولیئرز نے دو سال پرانی یادیں دہرا دیں، جب انہوں نے اسی میدان پر اسٹین کو 23 رنز مارے تھے (تصویر: BCCI)

ڈی ولیئرز نے دو سال پرانی یادیں دہرا دیں، جب انہوں نے اسی میدان پر اسٹین کو 23 رنز مارے تھے (تصویر: BCCI)

جب حیدرآباد کی مضبوط باؤلنگ کے خلاف 156 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے محض 38 رنز پر بنگلور ویراٹ کوہلی اور کرس گیل جیسے بلے بازوں سمیت تین وکٹوں سے محروم ہوچکا تھا، تو بہت کم لوگوں کو امید تھی کہ مقابلہ یہاں سے بنگلور کے حق میں جھک پائے گا۔ صورتحال اس وقت مزید گمبھیر ہوئی جب 100 رنز سے پہلے پہلے یووراج سنگھ سمیت مزید دو کھلاڑی میدان بدر ہو چکے تھے۔ اب درکار تھے 33 گیندوں پر 61 رنز اور بنگلور کو سامنا تھا ڈیل اسٹین، بھوونیشور کمار، ایشانت شرما، عرفان پٹھان اور ڈیرن سیمی کے مضبوط باؤلنگ اٹیک کا، اور واحد امید تھے ابراہم ڈی ولیئرز!

گو کہ سترہویں اور اٹھارہویں اوور میں ڈیل اسٹین اور بھوونیشور کمار نے محض 12 رنز دے کر معاملے کو خاصی حد تک حیدرآباد کے حق میں جھکا دیا تھا لیکن یہ انیسواں اوور تھا جس نے منظرنامہ ہی بدل دیا۔ دنیا کا بہترین بلے باز بمقابلہ دنیا کا بہترین گیند باز یعنی کہ 'اے بی' کا سامنا ڈیل اسٹین سے، جس میں جنوبی افریقی کپتان نے اپنے ہم وطن کھلاڑی کو تین چھکے اور ایک چوکا رسید کرکے 24 رنز لوٹے اور آخری اوور میں بنگلور نے ایک شاندار فتح سمیٹی۔

دو سال پہلے اسی میدان پر ڈی ولیئرز نے اسٹین سے 23 رنز لوٹے تھے اور آج ایک مرتبہ پھر بنگلور کے تماشائیوں کو یادگار لمحات دیے۔ بالخصوص آخری گیند پر ڈیل اسٹین کو اسکوپ پر لگایا گیا چھکا اتنا شاندار تھا کہ خود اسٹین بھی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔

آئیے آپ بھی ان لمحات سے لطف اندوز ہوں:

Facebook Comments