بڑھکیں اور تڑکے!

پاکستان کی فلمی تاریخ سلطان راہی کے بغیر مکمل نہیں ہوگی، فلموں میں ان کا انداز، مزا ج اور بڑھکیں گویا اب ہمارے مزاج کا حصہ بن گئی ہیں۔ کوئی چھ مہینوں میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی بڑھک مار کر پانچ سال کے لیے حکومت اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے اور کوئی بورڈ میں آکر قومی کرکٹ کو درست کرنے کی بڑھکیں مارتا ہے لیکن نتیجہ دونوں ہی کا صفر نکلا ہے۔ بند کمروں میں بھارت کے ’’چرنوں‘‘ میں بیٹھنے والے یہ بڑھکیں مار رہے ہیں کہ انہوں نے بھارت سے بہت کچھ منوالیا ہے۔ پاک-بھارت کرکٹ قحط ختم ہوجائے گا، کروڑوں روپے کرکٹ بورڈ کی جھولی میں آگریں گے۔ یعنی مسائل کے پہاڑ کے سامنے آنکھیں بند کرکے ’’سب اچھا ہے‘‘کا تڑکہ لگایا جارہا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ میں کچھ بھی اچھا نہیں ہورہا ،مسائل کے سمندر میں پی سی بی کی کشتی ہچکولے کھارہی ہیں اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس کشتی کے ملاح نے اس سے قبل کبھی ’’سمندر‘‘ میں قدم نہیں رکھا تھا لیکن اب ساری توقعات ان سے وابستہ کرلی گئی ہیں۔

بھارت سے کرکٹ روابط کی بحالی ’ہنوز دہلی دور است‘ کی منہ بولتی مثال ہے۔ پانچ سال سے ملکی میدان ویران پڑے ہیں لیکن کہا جارہا ہے کہ ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان سپر لیگ کا انعقاد شایان شان انداز سے کروایا جائے گا جس کے مقابلے متحدہ عرب امارات میں کھیلے جائیں گے مگر بڑا مقابلہ یعنی فائنل میں لاہور میں کروایا جائے گا۔ ابھی یہ فیصلہ تو ہو نہیں پارہا کہ ورلڈ کپ میں کپتان کون ہوگا مگر جس عمارت کی ابھی بنیاد ہی نہیں رکھی گئی اس کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہ چند ماہ میں تیار ہوجائے گی۔جن کے ماضی ’’گندے‘‘ ہیں ان کے منہ پر نوکریوں کی ’’ٹیپ‘‘لگائی جارہی ہے حالانکہ ان کے کارناموں کی ’’ٹیپیں‘‘ اب بھی پی سی بی کی خفیہ الماریوں میں محفوظ ہیں۔ جن سے ڈر تھا ان کے منہ بند کروائے گئے ہیں لیکن جن پر تکیہ تھا اب وہی پتے ہوا دینے لگے ہیں بلکہ اپنی ہی ٹیم ،اپنے ہی کھلاڑیوں اور کپتان کیخلاف سازشوں کا عمل شروع ہوچکا ہے مگر ’’چہیتوں‘‘ کو صرف ایک چپت لگا کر معاف کردیا جاتا ہے جبکہ پندرہ سال کی ’’قید‘‘ کاٹنے والوں کی اب بھی گلو خلاصی نہیں ہورہی۔ جو گند اچھالتے ہیں انہیں گلے سے لگایا جارہا ہے اور ’’صفائی‘‘ کا عزم لیے آتے ہیں انہیں دروازے سے ہی رخصت کردیا جاتا ہے۔

شعبدہ بازوں کا بس ایک میلہ لگا ہوا ہے جو ہاتھ کی صفائی دکھانے اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے ماہر ہیں۔پہلے میرٹ کے ذریعے تقرریوں کی بڑھک ماری جاتی ہے مگر پھر خود ہی چوروں کی پچھلے دروازے سے رابطے استوار کرلیے جاتے ہیں اور پھر یہ تڑکا کہ کوچز کی تقرری کوچ فائنڈنگ کمیٹی درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد کرے گی۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا انہیں پسند نہیں ہے اس لیے پورے ملک سے 36کھلاڑیوں کو لاہور کی گرمی میں اکھٹا کرلیا گیا ہے تاکہ فٹنس کا معیار بہتر بنایاجائے۔سلیکٹرز کا ’’چھکا‘‘چھ گھنٹوں کی میٹنگ کے بعد 36 کھلاڑیوں کو سامنے لاسکا اور جب مجلس انتخاب کی نااہلی پر شور مچا تو فرمایا گیا کہ کسی کو نطر انداز نہیں کیا گیا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کا کیمپ اگلے مرحلے میں لگے گا لیکن 36کھلاڑیوں کا کیمپ شروع ہونے سے پہلے ہی ان چار کھلاڑیوں کو مدعو کرلیا گیا جن کے انخلاء پر بہت شور اٹھا تھااور گرمی میں بے حال ہونے والوں کھلاڑیوں پینتھرز اور ٹائیگرز کا نام دے دیا گیا۔سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی نوجوان کھلاڑیوں کا کیمپ الگ سے لگے گا؟

ابھی عدالت کے ایک حکم نے ’’چہیتے‘‘ کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس سے بھی بڑا تماشہ لگے گا جس میں بڑھکیں لگانے والوں کا پھکڑ پن اور واضح ہوگا۔

Facebook Comments