ملک کی ”خدمت“ بھاری معاوضے پر ہی کیوں؟

پاکستان کی”خدمت“ ہر کوئی کرنا چاہتا ہے، ملک کا سب کچھ لوٹ کر کھا جانے والے سیاستدان بھی اس ملک کی خدمت کررہے ہیں ، شوبز اسٹارز بھی ملکی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنی صلاحیتیں دکھا رہے ہیں، کھلاڑی بھی میدان میں پسینہ بہانے کے عوض بھاری معاوضے لیتے ہیں جبکہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجی جوان بھی اپنے ملک کی خدمت کررہے ہیں۔اس ملک میں لفظ ”خدمت“ کا استعمال کبھی بھی درست طریقے سے نہیں ہوا بلکہ اس کے معنی ہی بدل دیے گئے ہیں۔ وطن کی خدمت کرنے کے لیے کسی صلے یا ستائش کی پرواہ نہیں کی جاتی بلکہ وطن کی محبت اس کی خدمت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

ثقلین کے پاس بہترین موقع تھا کہ وہ صحیح معنوں میں ملک کی خدمت کرکے پاکستان کو کچھ لوٹاتے، لیکن انہوں نے یہ موقع ضائ‏ کردیا (تصویر: Cricinfo)

ثقلین کے پاس بہترین موقع تھا کہ وہ صحیح معنوں میں ملک کی خدمت کرکے پاکستان کو کچھ لوٹاتے، لیکن انہوں نے یہ موقع ضائ‏ کردیا (تصویر: Cricinfo)

راشد لطیف اسی خدمت کی چھوٹی سی جھلک اگلے ماہ دکھانا چاہتے ہیں جب وہ کراچی میں ملک بھر سے وکٹ کیپرز کی مفت کوچنگ کریں گے۔ اگر راشد کی اس مفت کوچنگ سے پاکستانی وکٹ کیپرز کی صلاحیتوں میں نکھار آجائے تو یہ یقینی طور پر ملک کی چھوٹی سی ”خدمت“ ہی ہوگی مگر راشد لطیف کے سابق ٹیم میٹ مشتاق احمد بھی ملک کی خدمت کا جذبہ لے کر پاکستان آگئے ہیں جنہیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپن بالنگ کنسلٹنٹ کا عہدہ دے دیا ہے اور باریش مشتاق احمد نہایت فخر کےساتھ یہ بیانات دے رہے ہیں کہ ملک کی ”خدمت“ کرنے کی خاطر انہوں نے تمام غیر ملکی معاہدے ختم کردیے ہیں حالانکہ سچ یہ ہے انگلش ٹیم نے نئے کوچنگ اسٹاف میں اپنی جگہ خطرے میں دیکھتے ہوئے مشتاق احمد نے پی سی بی سے رابطے کرنے شروع کردیے تھے اور اس سے قبل انگلش کرکٹ بورڈ مشی کو لال جھنڈی دکھاتا پاکستان کرکٹ بورڈ میں مشتاق احمد کے ”استقبال“ کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں۔

مشتاق احمد کے ایک اور ساتھی ثقلین مشتاق بھی جذبہ حب الوطنی اور ملک کی خدمت کرنے کے لیے اسپن بالنگ کوچ کا عہدہ حاصل کرنا چاہتے تھے جس کے لیے انہوں نے اپنے ایک صحافی ”دوست“ کی مدد سے اخباری مہم بھی چلائی مگر یہ عہدہ مشتاق احمد کو مل گیا۔ اب اسی دوست نے برینکنگ نیوز دی ہے کہ پی سی بی ثقلین مشتاق کےساتھ معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا اور چیئرمین پی سی بی نے ثقلین کو فون بھی کیا لیکن معاوضہ اورپی سی بی کی شرائط اس معاہدے کی راہ میں آڑے آگئیں۔ شرائط کے مطابق معاہدے میں دس دس دن کے بریک اپ کے ساتھ تیس سالانہ چھٹیاں تھیں جبکہ ثقلین مشتاق کی فیملی انگلینڈ میں مقیم ہے اور ان کے لیے یہ چھٹیاں اور اس کا بریک اپ ناکافی تھا۔ اس سے بڑا مسئلہ معاوضے کا تھا کیونکہ ثقی کی خواہش تھی کہ انہیں ”ملکی خدمت“کے عوض ہیڈ کوچ وقار یونس کے مساوی یا کم از کم دس لاکھ ماہانہ ادا کیے جائیں جبکہ پی سی بی زیادہ سے زیادہ چھ لاکھ ادا کرنے کے حق میں تھا۔آف اسپنر کے صحافی دوست نے دعوی کیا ہے کہ معاوضے پر ہونے والے اختلاف کے سبب ثقلین مشتاق پاکستان کے اسپن بالنگ کوچ نہ بن سکے ورنہ سابق آف اسپنر ملک کی ”خدمت“ کرنے کے لیے بے چین تھا۔

ثقلین مشتاق پاکستان کرکٹ کا بہت بڑا نام ہے جنہوں نے آف اسپن بالنگ کے دم توڑتے فن کو نئی زندگی دی ۔ ثقلین مشتاق کی صلاحیتوں کی پوری دنیا معترف ہے اور یہی وجہ ہے کہ ثقلین کئی انٹرنیشنل ٹیموں کے ساتھ بطور اسپن بالنگ کوچ رہ چکے ہیں جہاں انہیں بھاری معاوضہ بھی دیا جاتا ہے لیکن ملک کی خدمت کی خاطر کیا ثقلین مشتاق اپنی شرائط میں نرمی نہیں کرسکتے تھے؟ کیونکہ انہیں پہلی مرتبہ اس ملک میں کوچنگ کی پیشکش کی گئی تھی جس نے انہیں یہ نام دیا ہے۔ دو عشرے قبل ایک گمنام سے کلب کرکٹر کو ثقلین مشتاق بنانے میں اس ملک کا بہت بڑا ہاتھ ہےاور ”ثقی“ کے پاس یہ بہترین موقع تھا کہ وہ صحیح معنوں میں ملک کی خدمت کرکے پاکستان کرکٹ کو کچھ لوٹانے کی کوشش کرتے جس نے انہیں بہت کچھ دیا ہے لیکن افسوس ثقلین مشتاق نے یہ موقع ضائع کردیا جس سے پاکستان کرکٹ کا بھی نقصان ہوگا کیونکہ اگر ثقلین مشتاق دیگر ممالک کے واجبی سے اسپنرز کی کارکردگی میں نکھا لاسکتے ہیں تو پھر پاکستانی اسپنرز کی صلاحیتوں کو کس قدر جلا بخش سکتے تھے اس کے بارے میں صرف سوچا ہی جاسکتا ہے۔

ثقلین مشتاق نے اپنے ایک پیغام میں نئے کوچنگ اسٹاف کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی ”خدمت“ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن ”دوسرا“ کے موجد کو چاہیے کہ وہ اپنی شرائط میں نرمی کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں پاکستان کرکٹ کی خدمت کرے ورنہ ثقلین مشتاق کے پاس بھی دوسرے آپشن موجود ہیں اور پی سی بی کے پاس بھی کوچنگ کے خواہشمند امیدواروں کی کمی نہیں ہے۔

Facebook Comments