” فکسنگ“ خطرے کی ایک اور گھنٹی بج اٹھی

نیوزی لینڈ کے سابق بلے باز لو ونسنٹ کے منظرعام پر آنے والے تازہ ترین بیانات نے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں کے کھلاڑیوں میں ہلچل پیدا کردی ہے جس میں انہوں نے وعدہ معاف گواہ بننے کی شرط پر 2008ء سے 2012ء کے عرصے میں فکس ہونے والے مقابلوں کے بارے میں اپنی معلومات بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ کو فراہم کردی ہیں۔

ونسنٹ کی گواہی کو بنیاد بناتے ہوئے آئی سی سی ایک پاکستانی کھلاڑی کے گرد گھیرا تنگ کررہا ہے، جسے جلد ہی دھر لیا جائے گا (تصویر: Getty Images)

ونسنٹ کی گواہی کو بنیاد بناتے ہوئے آئی سی سی ایک پاکستانی کھلاڑی کے گرد گھیرا تنگ کررہا ہے، جسے جلد ہی دھر لیا جائے گا (تصویر: Getty Images)

برطانیہ کے معروف روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق لو ونسنٹ نے کم از کم پانچ ممالک میں بڑے پیمانے پر "فکسنگ" کی نشاندہی کی ہے اور اس حوالے سے خاصی معلومات آئی سی سی کو فراہم کردی ہیں، جن میں ملوث کھلاڑیوں کے نام بھی شامل ہیں۔

2007ء میں آخری بین الاقوامی مقابلہ کھیلنے والے ونسنٹ کے مطابق انگلش کاؤنٹی کے مقابلے بھی فکسنگ کی زد سے باہر نہیں اور انہوں نے اس پورے عرصے کے شواہد پیش کیے ہیں جب وہ لنکاشائر اور سسیکس کی جانب سے کھیلا کرتے تھے اور اخبار کے مطابق انہوں نے کم از کم چار کاؤنٹی ٹیموں کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کیے ہیں۔

ونسنٹ کے بیانات کے مطابق ایک بدعنوان کھلاڑی نے ایک بین الاقوامی ٹیم کے موجودہ کپتان سے رابطہ کیا تھا، لیکن نہ صرف یہ کہ ان کی پیشکش ٹھکرا دی گئی بلکہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کو بھی مطلع کردیا گیا۔ ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آئی سی سی کی انسداد بدعنوانی پولیس ونسنٹ کی گواہی کو بنیاد بناتے ہوئے ایک پاکستانی کھلاڑی کے گرد گھیرا تنگ کررہی ہے، اور جلد ہی انہیں دھر لیا جائے گا۔

پاکستان کے تین کھلاڑی سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر اس وقت بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی کم از کم پانچ سال کی پابندی بھگت رہے ہیں۔ ان تینوں کے علاوہ مذکورہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں کامران اکمل اور وہاب ریاض کے نام بھی بڑی شدومد کے ساتھ سامنے آئے تھے لیکن ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سزا نہيں دی گئی۔

اخبار کے مطابق بین الاقوامی کرکٹ کونسل اگلے ایک سے ڈیڑھ سال میں ان تمام الزامات کی تحقیق کرکے نتائج تک پہنچے گی اور پھر فیصلے کیے جائیں گے۔

فکسنگ کے متعدد الزامات انڈین کرکٹ لیگ کے مقابلوں پر ہیں، جس پر بعد ازاں پابندی عائد کردی گئی تھی۔ ونسنٹ کے مطابق کھلاڑیوں کو فکسنگ کے لیے بھاری رقوم کے ساتھ ساتھ طوائفیں بھی فراہم کی جاتی تھیں۔ ونسنٹ کا کہنا ہے کہ آئی سی ایل اور سی ایل ٹی20 کے علاوہ ہانگ کانگ سکسز ٹورنامنٹ کے مقابلے بھی فکسنگ کی زد میں رہے ہیں۔

لو ونسنٹ اپنے آبائی وطن کے علاوہ انگلستان، بھارت، زمبابوے اور جنوبی افریقہ میں مقامی و لیگ کرکٹ کھیل چکے ہیں اور ان کے کیریئر کا دائرہ جہاں جہاں تک پھیلا ہے، اب ان ٹیموں اور وابستہ کھلاڑیوں کی حالت 'کاٹو تو لہو نہیں' والی ہوگی۔

دوسری جانب، رپورٹ میں ایک پاکستانی کھلاڑی کی جانب واضح اشارہ بھی ملکی کرکٹ کے حلقوں میں درون خانہ خاصی ہلچل مچا چکا ہے کیونکہ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی گردن اتنی پتلی ہوتی ہے کہ ہر قانون کے پھندے میں باآسانی پھنس جاتی ہے۔ دیگر ملکوں کے کھلاڑی اپنے بورڈ کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ بچا لیے جاتے ہیں بلکہ اپنا بین الاقوامی کیریئر تک دوبارہ شروع کرلیتے ہیں، جیسا کہ مارلون سیموئلز۔ لیکن پاکستان اپنے کھلاڑیوں کو بے سہارا چھوڑ دیتا ہے اور پھر ان کا حال محمد عامر کی طرح ہوتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے پر آئندہ کیا پیشرفت ہوتی ہے، ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ خاصا بڑا ہے اور یہ آئی سی سی کے انسداد بدعنوانی کے نظام کی خامیوں اور سست روی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

Facebook Comments