فکسنگ معاملہ: آئی سی سی ایک پاکستانی سمیت 12 کھلاڑیوں کی تحقیقات کرے گا

نیوزی لینڈ کے سابق بلے باز لو ونسنٹ کے انکشافات نے فکسنگ کے معاملے پر دنیائے کرکٹ کو 'ایک اور دریا کے سامنے' کھڑا کردیا ہے۔ ایک جانب جہاں انڈین پریمیئر لیگ میں راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں کی گرفتاری کو آج ایک سال مکمل ہوا، اور اب بھارت میں فکسنگ معاملات پر عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے، تو دوسری جانب اس نئے قضیے نے کھلاڑیوں اور عہدیداران کو نئی پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

ونسنٹ کے اب تک کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیائے کرکٹ بالخصوص انگلش کاؤنٹی فکسنگ کے نرغے میں ہے (تصویر: Getty Images)

ونسنٹ کے اب تک کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیائے کرکٹ بالخصوص انگلش کاؤنٹی فکسنگ کے نرغے میں ہے (تصویر: Getty Images)

برطانیہ کے اخبار ٹیلی گراف نے اپنی ایک اور رپورٹ میں کہا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ اس وقت 12 کھلاڑیوں کے حوالے سے تحقیقات کررہا ہے، جن میں مبینہ پر ایک سابق پاکستانی کھلاڑی بھی شامل ہے۔ ان کھلاڑیوں کو فکسنگ میں ملوث ہونے یا پھر سٹے بازوں کی جانب سے رابطہ کرنے کے باوجود آئی سی سی کو مطلع نہ کرنے پر تحقیقات کا سامنا ہے۔ موخر الذکر جرم کی زیاد ہ سے زیادہ سزا پانچ سال کی پابندی ہے جبکہ فکسنگ کی صورت میں کم ا زکم پانچ سال کی پابندی اور ساتھ ساتھ عدالتی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اخبار نے اپنی نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ تحقیقات کے معاملے پر لو ونسنٹ کے علاوہ دیگر کھلاڑی آئی سی سی کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ اب تک پیش کردہ شواہد میں کھلاڑیوں کو بینکوں کے ذریعے رقوم کی فراہمی کے دستاویزی ثبوت بھی شامل ہیں، جو جرائم پیشہ سٹے بازوں کا پتہ لگانے میں مدد دیں گے جن میں سے بیشتر کا تعلق بھارت سے ہے۔

برطانوی اخبار نے ایک حالیہ تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فٹ بال اور کرکٹ کے کھیل کو اس وقت غیر قانونی سٹے بازی سے سب سے زیادہ خطرہ ہے اور دونوں کھیلوں سے غیر قانونی سٹے باز 80 ارب یورو کماتے ہیں۔

حالیہ چند سالوں میں فکسنگ کے رازوں سے جتنا پردہ اٹھا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انگلستان سٹے بازوں کے خاص نشانے پر ہے۔ 2010ء میں پاک-انگلستان ٹیسٹ میں پاکستانی باؤلرز کی جانب سے جان بوجھ کر نو بالز پھینکنے سے لے کر کاؤنٹی اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں دانش کنیریا اور مروین ویسٹ فیلڈ پر پابندی تک اور اب لو ونسنٹ کے انکشافات سے یہی ظاہر ہورہا ہے۔

Facebook Comments