میری زندگی کا مقصد اسلام کے بارے میں پھیلے منفی تاثر کا خاتمہ ہے: معین علی

جب رواں سال فروری میں معین علی نے انگلستان کی جانب سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا تو پاکستان میں عام افراد کی زبانوں پر دو جملے تھے، ایک تو انہیں دوسرا ہاشم آملہ قرار دیا گیا، اور دوسرا یہ کہ یہ پاکستان کی جانب سے کیوں نہیں کھیلے؟ اور یہی بات معین علی خود بھی کہتے ہیں کہ ایشیائی نژاد برطانوی باشندوں کی جانب سے یہ سوال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے کہ آخر انہوں نے پاکستان کی جانب سے کیوں نہیں کھیلا؟

بحیثیت مسلمان میری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ میں اسلام کے بارے میں موجود منفی تاثر زائل کروں: معین علی کا انٹرویو (تصویر: AFP)

بحیثیت مسلمان میری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ میں اسلام کے بارے میں موجود منفی تاثر زائل کروں: معین علی کا انٹرویو (تصویر: AFP)

برطانیہ کے اخبار 'ڈیلی میل' کو دیے گئے انٹرویو میں معین علی کا کہنا ہے کہ میں ایک برطانوی شہری ہوں، یہیں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور کرکٹ کھیلی، اور گھر کا جو احساس دل میں ہوتا ہے، وہ مجھے برمنگھم میں ہی ملتا ہے۔ اس لیے میں چاہوں گا کہ نئی نسل انگلستان سے ہی وابستہ رہے۔ پرانے لوگوں کے لیے معاملہ الگ تھا لیکن اب تبدیلی آ رہی ہے، میرے علاوہ روی بوپارا انگلستان کی جانب سے کھیلتے ہیں اور حالات مزید بدلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب آس پڑوس کے بچے انگلستان کی شرٹ پہنتے ہیں اور یہ خوشی پاکستان یا بھارت کی شرٹیں پہننے والوں کو دیکھ کر نہیں ہوتی۔

معین علی کی خوبصورت بیٹنگ اور دلکش آف اسپن باؤلنگ علاوہ ان کے چہرے پر سجی داڑھی بھی ان کی نمایاں خصوصیت ہے۔ معین علی اسلام کو اپنے لیے بہت اہم سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ داڑھی میرے لیے ایک علامت ہے اور یہ میری زندگی کا مقصد ہے کہ میں اسلام کے بارے میں موجود منفی تاثر کو زائل کروں۔ یہ بحیثیت مسلمان میری ذمہ داری ہے کہ لوگوں پر ظاہر کروں کہ میرا ایمان اصل میں ہے کیا؟ اور یہ کہ جو کچھ اسلام کے بارے میں لکھا اور کہا جا رہا ہے وہ مضحکہ خیز ہے۔

تقریباً 27 سال کے معین علی نہ صرف برطانیہ کی مسلم برادری بلکہ برمنگھم کے کثیر الثقافتی شہر میں بسنے والے تمام نوجوانوں کے لیے ایک مثال بننا چاہتے ہیں۔

انگلستان میں نسل پرستی کے حوالے سے معین علی نے کہا کہ شاید بہت سارے لوگوں کو حیرت ہو، لیکن مجھے کبھی بھی کھیلتے ہوئے نسل پرستانہ جملوں کا سامنا نہیں رہا۔ واروکشائر میں، وارسسٹرشائرمیں یا انگلستان کی جانب سے کھیلتے ہوئے کبھی ایسی صورتحال سے دوچار نہیں رہا۔

انگلستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کا باضابطہ آغاز کل اوول، لندن میں واحد ٹی ٹوئنٹی سے ہو رہا ہے جبکہ ون ڈے سیریز کے بعد 12 جون سے لارڈز میں پہلا ٹیسٹ کھیلا جائے گا، جس میں ممکنہ طور پر معین علی اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کریں گے۔
معین کہتے ہیں کہ میرے خاندان کے بہت سے افراد نے کرکٹ کھیلی ہے اور ایک طرح سے یہ کھیل میرے خون میں رچا بسا ہوا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود مجھے بھی اتنا یقین نہیں تھا، جتنا کہ میرے والد رکھتے تھے کہ میں انگلستان کی نمائندگی کروں گا۔

وارسسٹرشائر کاؤنٹی کو اس وقت نہ صرف معین علی بلکہ دنیا کے بہترین آف اسپنر سعید اجمل کی خدمات بھی حاصل ہیں اور معین اس موقع کا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ انٹرویو کے دوران معین نے بتایا کہ سعید نے مجھے کچھ چیزیں سکھائی ہیں، میں فی الوقت ان پر کام کررہا ہوں اور جلد ہی نئی مہارت ظاہر کروں گا۔ میں انگلستان کا پہلا باؤلر بننا چاہتا ہوں، جو دوسرا گیند پھینکنے کی صلاحیت رکھتا ہوں اور یہ منزل اب دور نہیں ہے۔ معین نے کہا کہ مجھے جیسے ہی اس گیند پر عبور حاصل ہوگا میں اسے استعمال کروں گا۔

Article Tags

Facebook Comments