فکسنگ الزامات، کرس کیرنز کو لندن طلب کرلیا گیا

نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کولم اور سابق بلے باز لو ونسنٹ کے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو دیے گئے بیانات ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے کے بعد اب اپنا اثر دکھا رہے ہیں۔ ایک طرف آئی سی سی فکسنگ معاملات کی سنجیدہ تحقیقات کے لیے مستعد ہوگیا تو دوسری جانب پولیس بھی پھرتیاں دکھا رہی ہے اور دونوں اداروں نے نیوزی لینڈ ہی کے سابق آل راؤنڈر کرس کیرنز کو لندن طلب کرلیا ہے۔

کرس کیرنز لندن میٹروپولیٹن پولیس کے روبرو بیان ریکارڈ کروائیں گے (تصویر: AFP)

کرس کیرنز لندن میٹروپولیٹن پولیس کے روبرو بیان ریکارڈ کروائیں گے (تصویر: AFP)

میک کولم اور ونسنٹ کے بیانات میں ایک ایسے کھلاڑی کا ذکر تھا، جس نے ان دونوں کو مقابلے فکس کرنے کے لیے اکسایا تھا۔ بقول میک کولم کے انہوں نے تو پیشکش ٹھکرا دی تھی البتہ ونسنٹ آگے بڑھتے چلے گئے۔ ذرائع ابلاغ ہی میں شبہ کا اظہار کیا گیا کہ ممکنہ طور پر وہ کھلاڑی کرس کیرنز ہیں۔ اسی الزام کی تحقیقات کے لیے کرس کیرنز آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ اور لندن میٹروپولیٹن پولیس کے روبرو پیشی کے لیے لندن روانہ ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیو رچرڈسن نے کہا ہے کہ میچ فکسنگ کیس کی تحقیقات آخری مرحلے میں ہیں اور اس یقین کا اظہار کیاکہ کرس کیرنز کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا جائے گا۔

کرس کیرنز کا نام پہلی بار گزشتہ سال دسمبر میں فکسنگ کی عالمی تحقیقات کے دوران آیا تھا جبکہ اس سے قبل انڈین پریمیئر لیگ کے سابق کمشنر للت مودی نے بھی ان پر فکسنگ کا الزام لگایا تھا البتہ ثابت نہ کرپانے کی وجہ سے وہ کیرنز کے خلاف مقدمہ ہار گئے۔ بلکہ مودی کو 90 ہزار پاؤنڈز کی خطیر رقم کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا تھا۔کیرنز نے اس وقت بھی فکسنگ کے الزامات کی شدومد کے ساتھ تردید کی تھی اور اب بھی خود کو بے گناہ ثابت کررہے ہیں۔

لو ونسنٹ کے انکشافات کے بعد اس وقت انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ونسنٹ اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے کاؤنٹی کھلاڑی نوید عارف کے خلاف تحقیقات کررہا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سسیکس کاؤنٹی کی جانب سے کھیلتے ہوئے مختلف مقابلے فکس کیے تھے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک دونوں کھلاڑیوں کو کرکٹ کی تمام سرگرمیوں سے معطل کردیا گیا ہے۔

Facebook Comments