ثابت قدم مصباح نے پاکستان کو ایک اور سیریز جتا دی

مصباح الحق نے پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ میں اپنی اہمیت ثابت کرتے ہوئے پاکستان کو اک مشکل صورتحال سے نکال کر منزل تک پہنچادیا۔ محض 172 رنز کے تعاقب کرنے والے پاکستان پر روی رام پال کے تباہ کن اسپیل کے باعث شکست کے بادل چھا گئے تھے لیکن مصباح کی 62 رنز کی انتہائی ذمہ دارانہ اور ناقابل شکست اننگ نے پاکستان کو مسلسل دوسری ایک روزہ سیریز میں فتح سے ہمکنار کر دیا۔

پاکستان عالمی کپ 2011ء سے قبل دورۂ نیوزی لینڈ میں میزبان ٹیم کو ایک روزہ سیریز میں شکست دے چکا ہے اور اب ویسٹ انڈیز کے خلاف 5 ایک روزہ میچز کی سیریز کے ابتدائی تینوں مقابلے جیت کر وہ مسلسل دوسری سیریز اپنے نام کر چکا ہے۔ یہ 2008ء کے بعد پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے مسلسل دو ایک روزہ سیریز میں فتوحات حاصل کی ہوں۔ 2008ء میں پاکستان نے پہلے بنگلہ دیش کو ہوم سیریز میں 5-0 سے شکست دی اور پھر ویسٹ انڈیز کے خلاف متحدہ عرب امارات میں 3-0 سے کلین سویپ کر کے مسلسل دو ایک روزہ سیریز اپنے نام کی تھیں۔

مصباح الحق کا ایک اور فتح گر اننگ کے دوران مردانہ وار انداز

ویسٹ انڈیز کو محض 171 پر زیر کرنے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر زیادہ وکٹوں کا نقصان اٹھائے بغیر ہدف کو حاصل کر لے گا لیکن رام پال نے اپنے پہلے ہی اوور میں دو مسلسل گیندوں پر احمد شہزاد اور اسد شفیق کو صفر پر پویلین کا راستہ دکھا کر تہلکہ مچا دیا۔ گزشتہ میچ کے سنچورین احمد شہزاد روی کی ایک اٹھتی ہوئی گیند کو پل کرنے کی کوشش میں گیند کو ہوا میں اچھال بیٹھے اور عارضی وکٹ کیپر لینڈل سیمنز نے ان کا کیچ لے کر انہیں واپسی کا پروانہ تھما دیا۔ اگلی ہی گیند پر روی نے اسد شفیق کو کپتان ڈیرن سیمی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا تو پاکستان کے دو کھلاڑی محض 9 رنز پر پویلین لوٹ چکے تھے۔ اپنے اگلے اوور میں روی رام پال نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی جب محمد حفیظ (5 رنز) ایک شارٹ گیند کو باؤنڈری کا راستہ دکھانے کی کوشش میں دیوندر بشو کے ہاتھ کیچ تھما بیٹھے۔ یوں 12 پر پاکستان کی ابتدائی تینوں وکٹیں گر چکی تھیں۔

ایک مختصر ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بلے بازوں کی غیر ذمہ داری انہیں میچ میں شکست کے دہانے پر لے جا سکتی تھی لیکن اس موقع پر مصباح الحق ایک اینڈ پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے اور دوسرے اینڈ سے عمر اکمل، حماد اعظم اور وہاب ریاض نےان کا ساتھ دے کر پاکستان کو فتح تک پہنچا دیا۔ تاہم منزل اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آئی۔ عمر اکمل نے روایتی تیز رفتار کھیل پیش کرتے ہوئے اسکور کو 49 تک پہنچایا تو روی رام پال کی ایک اٹھتی ہوئی خوبصورت گیند ان کے بلے کے کنارے کو چھوتی ہوئی وکٹ کیپر تک جا پہنچی اور پاکستان کو چوتھی وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔

اس نازک صورتحال میں اپنا تیسرا ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلنے والے حماد اعظم میدان میں اترے اور یہ ان کے لیے اپنی اہلیت و اہمیت کو آزمانے کا شاندار موقع تھا جسے انہوں نے ضایع نہیں کیا۔ انہوں نے انتہائی نپے تلے اسٹروکس کھیلے اور ایک مرتبہ فری ہٹ پر گیند کو میدان سے باہر بھی پھینکا۔ انہوں نے مصباح الحق کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ پر 78 رنز کی فتح گر شراکت داری قائم کی۔ وہ بدقسمتی سے ناقص امپائرنگ کا نشانہ بن گئے اور بلے کا اندرونی کنارہ لگنے کے باوجود انہیں دیوندر بشو کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا۔ یوں اپنے ناقص فیصلوں کے باعث شہرت رکھنے والے امپائر اشوکا ڈی سلوا نے حماد اعظم کو آؤٹ قرار دے کر اپنے کارناموں میں ایک اور اضافہ کر لیا۔

اس موقع پر جب پاکستان کی پوزیشن کافی مضبوط نظر آ رہی تھی، ضرورت اس امر کی تھی کہ سینئر بلے باز مصباح الحق کا بھرپور ساتھ دیتے اور میچ کو آخر تک پہنچاتے لیکن کپتان شاہد آفریدی ایک مرتبہ پھر غیر ذمہ دارانہ انداز میں کھیلے اور محض 11 رنز بنا کر بشو کی ایک گیند کو لانگ آف باؤنڈری کی راہ دکھانے کی کوشش میں اسمتھ کو کیچ تھما بیٹھے۔ اس وقت جبکہ پاکستان فتح سے محض 28 رنز کی دوری پر تھا دیوندر بشو نے پاکستان کو ایک اور دھچکا لگا کر میچ میں سنسنی پھیلا دی۔ وکٹ کیپنگ میں اچھی کارکردگی دکھانے والے محمد سلمان اپنی بلے بازی سے متاثر نہ کر پائے اور بشو کی گیند کو لیٹ کٹ کرنے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ انہوں نے محض 3 رنز بنائے۔

اب سیریز میں اپنی گیند بازی کے جوہر دکھانے والے وہاب ریاض پہلی مرتبہ بلے بازی کے لیے میدان میں اترے۔ میچ سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ پاکستان کو فتح کے لیے 23 اور ویسٹ انڈیز کو صرف 3 وکٹیں درکار تھیں۔ لیکن وہاب ریاض نے مصباح کی اننگ کو ضایع نہ ہونے دیا اور 41 ویں اوور کی پہلی گیند پر ایک شاندار چھکا لگا کر پاکستان کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔ وہاب ریاض 16 گیندوں پر 2 چھکوں کی مدد سے 17 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ دوسرے اینڈ پر مصباح الحق فتح گر 62 رنز کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ناقابل شکست رہے۔ انہوں نے 109 گیندوں پر 1 چھکے او 4 چوکوں کی مدد سے یہ یادگار اننگ کھیلی۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے روی رام پال نے 4 جبکہ دیوندر بشو نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

قبل ازیں بارش کے باعث میچ کا آغاز تاخیر سے ہوا۔ امپائرز نے مقابلے کو 45 اوورز فی اننگ تک محدود کر دیا۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر ایک مرتبہ پھر ویسٹ انڈیز کو بلے بازی کا موقع دیا۔

محمد حفیظ نے اپنے پہلے ہی اوور میں خطرناک بلے باز ڈیوون اسمتھ کو ٹھکانے لگایا تو لگتا تھا کہ ویسٹ انڈین ٹاپ آرڈر پاکستانی باؤلنگ کے سامنے ڈھیر ہو جائے گا لیکن دوسری وکٹ پر ڈیرن براوو (47 رنز) اور لینڈل سیمنز (51 رنز) نے 86 رنز کی شاندار شراکت قائم کر کے پاکستانی باؤلرز کے ہوش ٹھکانے لگا دیے۔ ان کے شاندار انداز سے ایسا لگتا تھا کہ اگر مڈل اور لوئر مڈل آرڈر چل گیا تو ویسٹ انڈیز مقررہ 45 اوورز میں 230 سے زیادہ کا مجموعہ اکٹھا کر لے گا۔ اسمتھ سیریز میں مسلسل تیسری مرتبہ حفیظ کا شکار بنے اور صفر پر پویلین لوٹے۔

لیکن ویسٹ انڈیز کی آخری 8 وکٹیں اسکور میں محض 58 رنز کا اضافہ کر سکیں اور یوں ایک مرتبہ پھر ویسٹ انڈین مڈل آرڈر پاکستانی باؤلنگ کے سامنے ڈھیر ہو گیا۔ اس میچ میں بھی پاکستانی فیلڈرز کی کارکردگی تسلی بخش رہی اور محمد سلمان بھی گزشتہ میچز کی طرح وکٹوں کے پیچھے بہت زیادہ متحرک نظر آئے۔ پاکستان کے اچھے فیلڈرز میں شمار ہونے والے عمر اکمل نے اس مرتبہ بھی ڈائریکٹ ہٹ پر ایک حریف کھلاڑی کو ٹھکانے لگایا۔ ویسٹ انڈین بلے باز سعید اجمل کے سامنے ایک مرتبہ پھر اسکول میں کھیلنے والے بچے دکھائی دیے اور وہ ان کی گیندوں کو بالکل نہیں سمجھ پا رہے تھے۔ پوری ٹیم مقررہ 45 اوورز میں محض 171 رنز بنا سکی۔

پاکستان کی جانب سے سعید اجمل اور وہاب ریاض نے تین، تین جبکہ محمد حفیظ نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ جنید خان کو مارلون سیموئلز کی صورت میں کیریئر کی پہلی وکٹ ملی۔

مصباح الحق کو میچ بچاؤ اننگ کھیلنے پر بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

سینٹ لوشیا میں دومقابلوں کے بعد یہ برج ٹاؤن، بارباڈوس میں کھیلا گیا سیریز کا پہلا مقابلہ تھا۔ اب چوتھا ایک روزہ میچ بھی برج ٹاؤن ہی کے خوبصورت اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

ویسٹ انڈیز 1988ء میں اپنی سرزمین پر پاکستان کے خلاف 5-0 سے وائٹ واش کرنے کے بعد سےاب پاکستان کے خلاف ہوم سیریز نہیں جیت پایا۔ 1993ء میں ہونے والی سیریز 2-2 سے برابر رہی تھی جبکہ 2000ء اور 2005ء دونوں میں فتح پاکستان کے نام رہی۔

Facebook Comments