[آج کا دن] ون ڈے کرکٹ کی بہترین اننگز

وریندر سہواگ، سچن تنڈولکر اور روہیت شرما کی ڈبل سنچریاں اور سعید انور اور چارلس کوونٹری کی 194رنز کی باریاں ون ڈے کرکٹ تاریخ کی سب سے طویل اننگز شمار کی جاتی ہیں، لیکن جس اننگز کو لافانی حیثیت حاصل ہے وہ 1984ء میں کھیلی گئی ویوین رچرڈز کی وہ اننگز ہے جسے وزڈن نے 'ایک روزہ تاریخ کی سب سے بہترین اننگز' قرار دیا اور بلاشبہ آج بھی کوئی دوسری ون ڈے اس شاہکار کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

وزڈن نے ویو رچرڈز کی اس باری کو تاریخ کی بہترین ون ڈے اننگز قرار دیا (تصویر: Getty Images)

وزڈن نے ویو رچرڈز کی اس باری کو تاریخ کی بہترین ون ڈے اننگز قرار دیا (تصویر: Getty Images)

جس زمانے میں نہ "بارود" سے بھرے بیٹ تھے، نہ ہی پاور پلے جیسے بیٹسمین دوست قوانین تھے، نہ بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹیں بنتی تھیں اور نہ ہی گیند صرف 25 اوورز پرانی ہوا کرتی تھی، تب ویو نے 170 گیندوں پر 189 رنز کی وہ شاندار اننگز کھیلی، جبکہ ٹیم کے کل رنز 272 بنے تھے۔

یہ 1984ء میں آج یعنی 31 مئی ہی کا دن تھا جب انگلستان کے باؤلرز دوسرے اینڈ سے 9 وکٹیں گرانے کے باوجود ویوین رچرڈز پرقابو نہ پا سکے۔ صرف 11 رنز کے مجموعے پر ڈیسمنڈ ہینز اور گورڈن گرینج کی وکٹیں گرنے کے بعد ویو میدان میں اترے تو انگلش گیندباز مقابلے پر حاوی ہوچکے تھے۔ صرف 102 رنز تک پہنچتے پہنچتے انہوں نے ویسٹ انڈیز کی 7 وکٹیں ہتھیا لی تھیں۔ ٹیکساکو ٹرافی کا یہ پہلا مقابلہ دیکھنے کے لیے اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر میں ہزاروں تماشائیوں میدان میں موجود تھے۔ بلامبالغہ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور جب انگلستان اتنے مضبوط مقام تک پہنچ گیا تو کسی نے بھی تصور نہ کیا تھا کہ وہ آج انگلستان کو جیتنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک تاریخی اننگز دیکھنے کے لیے یہاں لائے گئے ہیں۔

ویو کھیلے، کیا خوب کھیلے، انگلش باؤلرز کے ہاتھوں کے طوطے، کوے ، کبوتر سب اڑا دیے اور یہ کارنامہ انہوں نے اس طرح انجام دیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ ویسے ہی چیونگم چباتے رہے اور پراعتماد انداز میں جس باؤلرز کو جہاں چاہا، کھیلا۔ باب ولس اور این بوتھم بھی ایک اینڈ سے رنز کے سیلاب کو نہیں روک پائے۔ ویوین رچرڈز کی باری میں 5 شاندار چھکے اور 21 چوکے شامل تھے۔

اس باری کے دوران رچرڈز اور مائیکل ہولڈنگ کے درمیان آخری وکٹ پر 106 رنز کی ناقابل شکست رفاقت قائم ہوئی، جس میں ہولڈنگ کا حصہ محض 12 رنز کا تھا۔

یہ ویو کے کیریئر کی ساتویں اور سب سے یادگار سنچری تھی، بلکہ ایسی باری جو مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ کم از کم اولڈ ٹریفرڈ میں یہ مقابلہ دیکھنے والے تماشائیوں کے ذہنوں میں تو یہ مقابلہ ہمیشہ تازہ رہے گا۔

55 اوورز کے اس مقابلے میں ویسٹ انڈیز 272 تک پہنچنے میں کامیاب ہوا اور پھر جوئیل گارنر اور مائیکل ہولڈنگ کے سامنے انگلستان محض 168 رنز بنا پایا یعنی تقریباً وہی رنز فیصلہ کن ثابت ہوئے جو آخری وکٹ پر ویو اور ہولڈنگ نے بنائے تھے۔

ویو نے باؤلنگ میں بھی دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور اپنے لیے مرد میدان کا اعزاز حاصل کیا۔

اس مقابلے نے دورے کا جھکاؤ مکمل طور پر ویسٹ انڈیز کے حق میں کردیا، جس نے نہ صرف ایک روزہ سیریز جیتی بلکہ اس کے بعد ٹیسٹ سیریز میں تاریخی 'بلیک واش' کیا۔

Facebook Comments