قیادت کے ساتھ ’’چھیڑ چھاڑ‘‘ کیوں؟

جنوبی افریقہ نے ہاشم آملہ کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنا دیا ہے جو ایشول پرنس کے بعد پروٹیز کے دوسرے ’’غیر-سفیدفام‘‘اور پہلے مسلمان کھلاڑی ہوں گے جنہیں قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت کا اعزاز ملے گا۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہاشم آملہ پروٹیز ٹیم کے اسپانسر شراب ساز ادارے کا لوگو اپنی شرٹ پر نہیں لگاتے تھے اور کپتان بننے کے بعد بھی وہ بغیر لوگو والی شرٹ ہی پہنیں گے۔کرکٹ ساؤتھ افریقہ کی اتنی بنیادی شرط کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود یہ ہاشم آملہ کی مستقل مزاجی کے ساتھ پیش کی گئی کارکردگی ہے جس نے انہیں تمام تر رکاوٹوں کے باوجود قیادت کے منصب تک پہنچا دیا ہے۔ ون ڈے کپتان ابراہم ڈی ولیئرز بھی ٹیسٹ قیادت کے امیدوار تھے اور انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا مگر اب وہ نائب کپتان کی حیثیت سے ہاشم آملہ کی مدد کریں گے اور یہی فریضہ ہاشم ون ڈے ٹیم میں انجام دیں گے۔

ورلڈ کپ 2015ء سے پہلے کپتان کی تبدیلی اپنے پیروں پر کلہاڑا مارنے کے مترادف ہوگی (تصویر: AFP)

ورلڈ کپ 2015ء سے پہلے کپتان کی تبدیلی اپنے پیروں پر کلہاڑا مارنے کے مترادف ہوگی (تصویر: AFP)

اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے یہ سوال ذہن میں آٹھتا ہے کہ آخر پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ آئے دن کپتان کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں۔ کبھی مصباح الحق کی زائد العمری کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی مبینہ سست روی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور کبھی تو یہ گلہ تک کیا جاتا ہے کہ مصباح نے اگلا کپتان تیار نہیں کیا۔

مصباح کو جب قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی تو حالات ہرگز ان کے حق میں نہ تھے۔ وہ ٹیم سے عرصے سے باہر تھے، لیکن کپتان کی حیثیت سے واپس آئے۔ بڑھتی ہوئی عمر کو بھی کپتان کی راہ میں رکاوٹ بنانے کی کوشش کی گئی مگر مصباح تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے کامیاب کپتان ثابت ہوئے۔ گزشتہ چار سالوں کی قیادت کے فرائض عمدگی کے ساتھ نبھانے والے مصباح کو اب عین ورلڈ کپ سے چند ماہ قبل سہارا دینے کے بجائے ان کی ٹانگیں کھینچنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے جس میں کچھ سابق کھلاڑی بھی شامل ہیں اور وہ بھی کہ جن کے کپتان بننے کا شوق ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے چند حلقے بھی مصباح الحق کو ناکام ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ہمیشہ ان کے لبوں پر یہی سوال ہوتا ہے کہ مصباح ریٹائر کب ہو رہے ہیں؟ یا فلاں کھلاڑی نے کپتانی کی خواہش ظآہر کی ہے۔

درحقیقت مستقبل کے لیے کپتان تیار کرنا مصباح الحق کا کام ہے ہی نہیں، یہ تو پاکستان کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی ایک کھلاڑی پر اظہار اعتماد کرتے ہوئے اسے نائب کپتان بنائے اور پھر وہ مصباح کی زیر نگرانی قیادت کے اسرار و رموز سیکھے۔ گزشتہ روز لاہور میں مصباح الحق نے نوجوان اظہر علی اور عمر اکمل کو کپتانی کے لیے موزوں قرار دیا تو گویا ہنگامہ کھڑا ہوگیا کہ مصباح نے عمر اور اظہر کے نام کپتانی کے لیے ’’تجویز‘‘ کیے ہیں حالانکہ ان دونوں کھلاڑیوں کے نام لینے کی وجہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کپتانی کا تجربہ ہے۔ کچھ حلقے نئے ٹی20کپتان کے لیے احمد شہزاد کا نام لے رہے ہیں جبکہ عمر گل سے بھی یہ بات اگلوائی جارہی ہے کہ وہ خود کو کپتان کے طور پر پیش کریں مگر احمد شہزاد کو کپتانی کا بالکل بھی تجربہ نہیں ہے جبکہ گل نے بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں محدود پیمانے پر کپتانی کی ہے اور اگر انہیں ٹی 20 ٹیم کی کپتانی مل بھی جائے تو ان دونوں کھلاڑیوں کو سیکھنے کے لیے کافی وقت درکار ہوگا۔اس سے قبل پی سی بی سعید اجمل کو بھی کپتانی کی ’’پیشکش‘‘ کرچکا ہے جن کا تجربہ بھی صفر ہے ۔

پی سی بی کو چاہیے کہ وہ مستقبل کے کپتان کو قومی ٹیم کی کپتانی دے کر غلطیاں کرتا دیکھنے کی بجائے ڈومیسٹک کرکٹ میں کپتانی کے گر سکھائے تاکہ اگلے چند برسوں کے لیے پاکستان کو مصباح الحق جیسا منجھا ہوا کپتان میسر آسکے۔ ماضی میں معین خان جونیئر اور 'اے' ٹیموں کے علاوہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کپتانی کرنے کے بعد پاکستانی ٹیم کی قیادت تک پہنچے تھے جس کے بعد مصباح الحق ہی ایسے کپتان ہیں جنہیں ڈومیسٹک کرکٹ کے علاوہ اور پاکستان 'اے' کی کپتانی کاتجربہ حاصل ہے۔

پاکستان کو مستقبل کے لیے بھی ایسے ہی کپتان کی ضرورت ہے جسے ڈومیسٹک کرکٹ کا تجربہ حاصل ہو۔پی سی بی مختلف ڈپارٹمنٹس کو یہ ہدایت کرسکتا ہے کہ وہ اگلے ڈومیسٹک سیزن میں اظہر علی،عمر اکمل، احمد شہزاد اور عمر امین کو کپتانی کا موقع دیں تاکہ یہ کھلاڑی مستقبل کے لیے گروم ہوسکیں۔

ورلڈ کپ سے قبل کپتانی کی تبدیلی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگی، اس لیے جن کھلاڑیوں کے دل میں کپتانی کی خواہش انگڑائیاں لے رہی ہے انہیں چاہیے کہ اس خواہش کو دبا کر ڈی ویلیئرز کی طرح ملکی مفاد کی خاطر کپتان کو سپورٹ کریں۔

Facebook Comments