'دوسرا' پھینکنے والے باؤلر مشکل میں، آئی سی سی بھی پیچھے پڑ گیا

جیسے ہی انگلستان سے سعید اجمل اور سچیتھرا سینانائیکے کے باؤلنگ ایکشن پر شکوک کا اظہار سامنے آیا، بین الاقوامی کرکٹ کونسل 'اچھے بچوں' کی طرح ہر بات پر آمنا و صدقنا کہہ رہا ہے۔

انگلینڈ سے حالیہ دنوں میں سعید اجمل کے ایکشن پر اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں (تصویر: AP)

انگلینڈ سے حالیہ دنوں میں سعید اجمل کے ایکشن پر اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں (تصویر: AP)

گیندبازوں کے باؤلنگ ایکشن کو قانونی پیمانوں پر جانچنے کے لیے جو کڑے معیارات آئی سی سی نے خود مقرر کر رکھے ہیں، اسی کی کرکٹ کمیٹی تک ان طریقوں سے مطمئن نہیں۔ گزشتہ دنوں بنگلور میں منعقدہ آئی سی سی کرکٹ کمیٹی کے دو روزہ اجلاس میں یہ تک کہا گیا ہے کہ متعدد باؤلرز مشتبہ ایکشن کے ساتھ باؤلنگ کرتے پھر رہے ہیں اور ان کے ایکشن کو رپورٹ کرنے اور جانچنے کا موجودہ طریقہ کار ان کی درست پڑتال نہیں کر پارہا۔

بہرحال، مذکورہ اجلاس میں سفارش کی گئی ہے کہ امپائروں اور میچ ریفریز کو مشتبہ باؤلنگ ایکشن کے حامل گیندبازوں کو شناخت کرنے کے لیے موجودہ طریقے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ انہیں زیادہ اعتماد حاصل ہو۔ یہ سفارشات اسی ماہ چیف ایگزیکٹوز کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔

علاوہ ازیں اجلاس میں غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کی جانچ کے لیے مزید مراکز کھولنے کا بھی فیصلہ کیا گیا اس وقت تمام باؤلرز کو اپنے ایکشن کی پڑتال کے لیے آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں واقع یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں جانا پڑتا ہے لیکن کمیٹی سمجھتی ہے کہ آسٹریلیا کے علاوہ بھارت، انگلستان اور جنوبی افریقہ میں مزید لیبارٹریاں قائم کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ سری لنکا اور انگلستان کے مابین سیریز میں امپائروں نے سینانائیکے کے باؤلنگ ایکشن کو رپورٹ کیا ہے جنہیں 21 دن کے اندر اندر لیبارٹری میں اپنے ایکشن کی جانچ کروانا ہوگی جس سے اندازہ ہوسکے گا کہ وہ آئی سی سی کی مقررہ حد یعنی کہنی میں 15 درجے کے گھماؤ سے زیادہ تو نہیں ہے۔

دوسری جانب وارسسٹرشائر کی جانب سے کھیلنے والے سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن پر بھی سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے تنقید کی تھی جبکہ موجودہ ٹی ٹوئنٹی کپتان اسٹورٹ براڈ بھی ٹوئٹر پر ان کی ہاں میں ہاں ملاتے دکھائی دیے۔ اس پر سعید اجمل نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ذریعے برآڈ سے وضاحت بھی طلب کی تھی۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب باؤلرز، بالخصوص 'دوسرا گیند پھینکنے کی صلاحیت رکھنے والوں کے لیے حالات آسان نہ ہوں گے۔ جب تک کہ انگلستان سے بھی 'دوسرا' گیند کرانے والے باؤلر نہ سامنے آئیں۔ ماضی میں ریورس سوئنگ پر پاکستان کے باؤلرز کو بے ایمان قرار دینے اور ان کے خلاف ذرائع ابلاغ میں ایک ہنگامہ کھڑا کرنے کے بعد 2005ء میں اسی 'بے ایمانی' کے ذریعے آسٹریلیا کو شکست دینے والے انگریز کھلاڑیوں کو اب یہ بات زیب نہیں دیتی۔ خیر، دیکھتے ہیں کب کوئی انگلش باؤلر 'دوسرا' گیند پھینکنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے؟ جس دن یہ کام ہوگیا، تب سے ریورس سوئنگ پر تنقید کی طرح یہ باب بھی ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔

Facebook Comments