عمران خان کی آمد کا حقیقی اعلان

آسٹریلیا میں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پاکستان کے لیے ویسا ہی ہے جیسا کہ انگلینڈ میں اوول کا میدان۔ ان دونوں ممالک کے خلاف انہی کے میدانوں پر پاکستان نے اولین فتوحات یہیں حاصل کیں اور پھر کئی یادگار مقابلے ان خوبصورت میدانوں میں پاکستان کی جیت پر منتج ہوئے۔ آج ہم پاکستان کی یادگار فتوحات کے سلسلے میں جنوری 1977ء میں کھیلے گئے سڈنی ٹیسٹ کی یادیں تازہ کریں گے جو کینگروؤں کی سرزمین پر پاکستان کی اولین جیت تھی۔

فضل محمود کی زیر قیادت ڈھاکہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شاندار فتح کا احوال تو آپ نے پڑھ ہی لیا ہوگا لیکن اس کے بعد پاکستان کو اپنا اگلا ٹیسٹ جیتنے کے لیے چھ سال کا طویل انتظار کرنا پڑا۔ ان چھ سالوں میں پاکستان نے 21 ٹیسٹ مقابلے کھیلے، 14 مقابلے بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوئے اور باقی 7 مقابلوں میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بالفاظ دیگر کہ پاکستان ایک مقابلہ بھی نہ جیت پایا۔

اگر ان 6 سالوں کا موازنہ ابتدائی چھ سالوں سے کریں تو زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان نے 1952ء سے 1958ء کے دوران 26 ٹیسٹ کھیلے، 11 ڈرا ہوئے، 7 ہارے اور 8 میں شاندار فتوحات حاصل کیں۔ لیکن اس کے بعد آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز میں شکست، دورۂ بھارت میں تمام مقابلے ڈرا ہونے، انگلستان کے پہلے دورۂ پاکستان میں ملنے والی شکست اور پھر دورۂ انگلستان میں چار-صفر کی مایوس کن ہار۔ جس کے ساتھ ہی فضل محمود دنیائے کرکٹ کو خیرباد کہہ گئے۔ 1965ء میں آسٹریلیا کے خلاف مہمان اور میزبان کی حیثیت سے کھیلے گئے دو مقابلے بے نتیجہ ثابت ہوئے جبکہ دورۂ نیوزی لینڈ میں تین مقابلوں کی سیریز بھی بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوئی۔ نیوزی لینڈ کا جوابی دورہ پاکستان کے لیے صفر-دو سے فتح کی نوید لے کر آیا لیکن اس سے ہرگز پاکستان کی زوال پذیر کارکردگی کو سہارا نہیں ملا۔

اگلے 13 سال تک پاکستان 28 ٹیسٹ مقابلوں میں نے صرف 3 جیت پایا۔ 6 میچز میں اسے شکست ہوئی اور 19 بغیر کسی نتیجے پہنچے تمام ہوئی۔ پاکستان یہ تینوں فتوحات نیوزی لینڈ جیسے کمزور حریف کے خلاف تھی۔ وجہ صاف ظاہر تھی، فضل محمود، خان محمد اور محمود حسین جیسے کھلاڑیوں کے کرکٹ کو الوداع کہہ جانے کے بعد پاکستان کے پاس اسٹرائیک باؤلرز کی کمی تھی جو طویل عرصے تک خراب کارکردگی کی بنیاد بنی۔ تیز باؤلرز کی جامع تلاش جاری رہے اور عارف بٹ، سلیم الطاف، محمد فاروق او رآصف مسعود کی صورت میں اچھے گیندباز بھی ملے لیکن کسی نہ کسی وجہ سے یہ باؤلر ناکام ٹھہرے اور لمبے عرصے تک پاکستان کی نمائندگی نہ کرسکے۔ یہ تو آج تک معمہ ہے کہ آخر عارف بٹ کیوں زیادہ عرصے تک پاکستان کے لیے نہ کھیل سکے۔ پھر مارچ 1969ء میں سرفراز نواز اور جون 1971ء میں عمران خان نے عالمی کرکٹ میں قدم رکھا۔ سرفراز تو جگہ مضبوط کرنے میں فوراً کامیاب ہوگئے لیکن عمران خان کو اس میں پانچ سال کا طویل عرصہ لگ گیا۔ ایک درمیانی رفتار کے حامل باؤلر سے ایک طوفانی گیندباز میں تبدیل ہونے کے بعد عمران خان نے سرفراز نواز کے ساتھ مل کر اسٹرائیک باؤلرز کا دیرینہ مسئلہ حل کردیا۔

اس لمحے کے لیے پاکستان نے 15 سال کا طویل انتظار کیا تھا۔ 1976ء میں نیوزی لینڈ سے تین مقابلوں کی سیریزدو-صفر سے جیتنے کے بعد سال کے آخری ایام میں مشتاق محمد کی قیادت میں پاکستان تین ٹیسٹ کھیلنے کے لیے سرزمین آسٹریلیا پہنچا۔ ایڈیلیڈ پر سیریز کا پہلا مقابلہ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر اختتام کو پہنچا تو ملبورن میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ آسٹریلیا 348 رنز کے بڑے فرق سے جیت کر سیریز میں برتری حاصل کرگیا۔

جب 14 جنوری 1977ء کو پاکستان اور آسٹریلیا کے دستے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں اترے تو ایک ٹیم کے لیے ہدف سیریز جیتنا تھا اور دوسرے کے مطمع نظر تھا سیریز بچانا۔ آسٹریلیا کی قیادت گریگ چیپل کے ہاتھوں میں تھی جنہوں نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور این ڈیوس اور ایلن ٹرنر کی جوڑی کھیل کا آغاز کرنے کے لیے میدان میں اتری۔ لیکن ابتدائی دو گھنٹوں ہی میں اسکور بورڈ پر آسٹریلیا کے مجموعی اسکور 38 رنز کے سامنے وکٹوں کے زمرے میں 4 کا ہندسہ نظر آ رہا تھا۔ سرفراز نے ڈیوس اور ٹرنر کو جبکہ عمران نے رک میک کوسکر اور ڈوگ والٹرز کو ٹھکانے لگا دیا تھا۔

گمبھیر صورتحال میں کپتان گریگ چیپل نے گیری کوزیئر کے ساتھ تگ و دو شروع کردی اور اسکور کو تہرے ہندسے یعنی 100 رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن عین اسی مرحلے پر عمران نے چیپل کو ظہیر عباس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔ وکٹ کیپر روڈنی مارش کوزیئر کے ساتھ مل کر ابھی 25 رنز ہی کا اضافہ کرپائے تھے کہ عمران نے پہلے کوزیئر کو وکٹوں کے پیچھے آؤٹ کرایا اور کچھ ہی دیر بعد مارش کا کیچ خود تھام کر کیریئر میں دوسری بار اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرلیں۔

محض 138 رنز پر 6 کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد اننگز کی بساط کسی بھی وقت لپیٹی جاسکتی تھی لیکن آسٹریلیا کے آخری بلے بازوں نے پاکستان کو توقعات سے زیادہ پریشان کیا اور مجموعے میں 65 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔ لیکن آسٹریلیا جیسی ٹیم کو 211 رنز پر آؤٹ کردینا پاکستانی گیندبازوں بالخصوص عمران خان کا کارنامہ تھا جنہوں نے 26 اوورز پھینکے اور 102 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔ سرفراز نواز کو 3 وکٹیں ملیں۔ کوزیئر 50 اور میکس واکر اور گیری گلمور بالترتیب 34 اور 32 رنز کے ساتھ نمایاں آسٹریلوی بلے باز رہے۔

پاکستان نے پہلی اننگز میں 42 رنز کا اچھا آغاز حاصل کیا لیکن میکس واکر اور ڈینس للی کے ہاتھوں تین وکٹیں جلد ہی گنوا بیٹھا جبکہ اسکور ابھی 77 تک ہی پہنچا تھا۔ ماجد خان نے پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ہارون رشید کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن 48 کے انفرادی اسکور پر واکر نے ان کو آؤٹ کردیا۔ اس وقت پاکستان نیلسن یعنی 111 رنز پر کھڑا تھا۔ لیکن ہارون رشید کی آصف اقبال کے ساتھ عمدہ شراکت داری نے پاکستان کو بہترین پوزیشن پر پہنچا دیا۔ دونوں نے 94 رنز کا اضافہ کرکے پاکستان کو آسٹریلیا کے اسکور کے بہت قریب پہنچا دیا۔ ہارون رشید 57 رنز بنا کر میدان سے لوٹے تو جاوید میانداد کی صورت میں آصف اقبال کو ایک اور قابل اعتماد ساتھی میسر آ گیا۔

آصف اقبال اور میانداد نے چھٹی وکٹ پر 115 رنز کا اضافہ کرکے آسٹریلیا کو مکمل طور پر پچھلے قدموں پر دھکیل دیا۔ اس دوران آصف اقبال نے کیریئر کی ساتویں اور سیریز کی دوسری سنچری مکمل کی۔ وہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں 152 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل چکے تھے۔ سڈنی میں ان کی 120 رنز کی اننگز 320 کے مجموعے پر تمام ہوئی اور باقی 4 بلے باز اسکور میں 40 رنز کا اضافہ ہی کرپائے او رپاکستان کی پہلی اننگز 360 رنز پر مکمل ہوگئی یعنی 149 رنز کی شاندار برتری۔ جاوید میانداد 64 رنز کے ساتھ پاکستان کے دوسرے بہترین بیٹسمین رہے۔

اب آسٹریلیا کے بلے بازوں کا ایک اور انتہائی سخت امتحان شروع ہوا۔ 149 رنز کے خسارے کا بھاری بوجھ اور سامنے عمران اور سرفراز کی آگ اگلتی سوئنگ گیندیں، میزبان بیٹسمینوں کا جینا حرام کیے ہوئے تھیں۔ نتیجہ بالکل بھی مختلف نہیں نکلا۔ 32 رنز کا افتتاحی آغاز ملنے کے بعد جیسے ہی سرفراز نواز نے ٹرنر کو آؤٹ کیا، دوسرے اینڈ سے عمران خان بیٹنگ لائن اپ پر پل پڑے۔ انہوں نے کچھ دیر میں میک کوسکر کو آؤٹ کردیا اور پھر این ڈیوس سرفراز کے ہتھے چڑھ گئے۔ 75 رنز تک پہنچتے پہنچتے آسٹریلیا اپنے آدھے بیٹسمینوں سے محروم ہوچکا تھا۔ آسٹریلیا کو میچ جیتنا تو درکنار اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے بھی کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔

والٹرز اور گلمور کے عمران خان کے ہاتھوں پے در پے آؤٹ ہوجانے کے بعد آسٹریلیا 99 رنز پر 7 وکٹوں سے محروم تھا جب ڈوگ والٹرز اور روڈ مارش کی مزاحمت نے اننگز سے شکست کی ہزیمت سے بچانے کے لیے سفر کا آغاز کیا۔ عمران ان دو وکٹوں کے حصول کے ساتھ ٹیسٹ کیریئر میں پہلی بار میچ میں 10 یا زیادہ وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے۔ 115 رنز تک اسکور پہنچتے ہی ڈیبیوٹنٹ ہارون رشید نے بھی ایک وکٹ حاصل کرلی تھی اور یوں پاکستان اننگز کی فتح سے محض دو وکٹوں کے فاصلے پر آ گیا۔ اس مرحلے پر روڈ مارش اور ڈینس للی نے مزاحمت پر اتر آئے اور پاکستان کے گیندبازوں کو خوب پریشان کیا۔ نویں وکٹ پر 62 رنز کی شراکت داری کا خاتمہ مارش کے رن آؤٹ کے ساتھ ہوا اور کچھ ہی دیر میں للی بھی عمران کے ہاتھوں میدان بدر ہوئے۔ یوں آسٹریلیا کی دوسری اننگز 180 رنز پر ختم ہوگئی۔ اننگز کی شکست سے تو بچ گیا لیکن صرف پاکستان کو صرف 51 رنز کا ہدف دے سکا جو پاکستان نے صرف دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

عرصے تک بڑی فتوحات سے محرومی کے بعد یہ ایک بڑے سفر کا شاندار آغاز تھا۔ اس جیت کا سہرا آصف اقبال کے ساتھ ساتھ عمران خان کے سر بھی بندھتا ہے جنہوں نے میچ میں 165 رنز دے کر 12 وکٹیں حاصل کیں اور پھر ایک نئے عمران کی روپ میں جلوہ گر ہوئے۔ ایک ایسا باؤلر، جس کو دیکھ کر آنے والی کئی نسلوں میں تیز باؤلنگ کا جنون جاگا۔

Facebook Comments