پی سی بی کی ’’چھپڑ پھاڑ ‘‘آفر!

پاکستان کرکٹ بورڈ کا حال اس وقت کسی بے آسرا مگر ’’امیر بیوہ‘‘ جیسا ہے جس کے ساتھ ہر کوئی ہمدردی کے دو بول کر اس سے رقم اینٹھ رہا ہے۔ بورڈ نوازنے پر آرہا ہے تو کسی بھی شخص کو ’’دہری ذمہ داریاں‘‘ دے کر اس پر خزانوں کے منہ کھول رہا ہے اور جس پر نظر کرم نہيں، اس چھوٹے ملازم کے لیے گھر کا چولہا جلانا بھی مشکل ہے ۔ لاہور میں ایک ماہ طویل کیمپ پر لاکھوں کے اخراجات کیے گئے، کھلاڑیوں کو بھی خطیر رقوم دی گئیں لیکن ان میں سے اکثر کو مرکزی معاہدوں کی فہرست میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔

کیا جنید خان کو ترقی دینے کے لیے ضروری تھا کہ یونس خان کو کیٹگری اے سے نکال دیا جاتا (تصویر: WICB)

کیا جنید خان کو ترقی دینے کے لیے ضروری تھا کہ یونس خان کو کیٹگری اے سے نکال دیا جاتا (تصویر: WICB)

زیر معاہدہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں پچھلے دو برسوں کے دوران مجموعی طور پر 40فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب پی سی بی نے اپنی ’’چھپڑ پھاڑ‘‘ آفر کے تحت کھلاڑیوں کی تنخواہوں کو مزید 25فیصد بڑھادیا ہے ۔اے کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو 15ہزار روپے روزانہ ملاکریں گے اور اس کے باوجود اگر یہ کھلاڑی منہ لٹکا کر میدان سے باہر آکر ’’مخالف ٹیم اچھا کھیلی، آج ہمارا دن نہیں تھا، اگلے میچ میں خامیوں پر قابو پائیں گے، میڈیا ہمیں سپورٹ کرے‘‘ جیسے بیانات دیں تو پھر محض افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔2009ء میں پاکستانی ٹیم نے ورلڈ ٹی20میں ٹائٹل کامیابی حاصل کی تو یہ اتفاق تھا کہ اسی سال مرکزی معاہدے پانے والے کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیاجس کے بعد پاکستانی ٹیم کو ئی بڑا ٹائٹل جیتنے میں ناکام رہی ہے مگر اس کے باوجود گزشتہ تین برسوں میں کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں 65فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

پی سی بی نے اس مرتبہ سنٹرل کانٹریکٹس کے لیے فارم اور کارکردگی، فٹنس لیول اور مستقبل کو بنیاد بنایا ہے جبکہ اس میں سے دو پیمانوں پر سو فیصدی کھرا اترنے والے یونس خان کو اے کیٹیگری سے نکال کر ’’درجہ دوئم‘‘ کا کھلاڑی بنا دیا ہے ۔پی سی بی کی نظر میں یونس خان کا مستقبل ’’روشن‘‘ نہیں ہے لیکن مصباح الحق، سعید اجمل کو شاہد آفریدی کو سنٹرل کانٹریکٹ دیتے ہوئے اس بات کو مد نظر نہیں رکھا گیاجبکہ انگلش کاؤنٹی میں مصروف سعید اجمل اور جنید خان کا فٹنس ٹیسٹ بھی نہیں لیا گیا اور شاہد آفریدی کو کم تر کارکردگی کے باوجود اے کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔اگر پی سی بی نے جنید خان کو عمدہ کارکردگی کا صلہ دے کر سرفہرست درجہ بندی کا حصہ بنانا تھا تو اس کے لیے یونس کی قربانی دینا ضروری نہیں تھا کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اے کیٹیگری میں صرف پانچ کھلاڑیوں کو ہی شامل کیا جائے گا۔یونس خان کی بی کیٹیگری میں تنزلی اس بات کا اشارہ ہے کہ سابق کپتان پی سی بی کی ’’گڈ بکس‘‘ میں سے نکل چکا ہے اور چند خراب ٹیسٹ میچز یونس خان کو قومی ٹیم سے باہر بھی کرواسکتے ہیں اس لیے سری لنکا کا دورہ یونس خان کے مستقبل کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہوگا۔

جنید خان کو اے کیٹیگری میں شامل کرکے گزشتہ سال عمدہ پرفارمنس کا صلہ دیا گیا ہے جبکہ اسی طرح احمد شہزاد کو بھی سی سے بی کیٹیگری میں ترقی دی گئی ہے مگر 2013ء کے 12 مہینوں میں دو ٹیسٹ سنچریاں اسکور کرنے والے اسدشفیق کو تنزلی کا شکار کرکے سی کیٹیگری میں ڈال کر نوجوان بیٹسمین کو اعتماد دینے کی بجائے مزید بے حوصلہ کرنے کی کوشش کی گی ہے۔ سنٹرل کانٹریکٹس میں پی سی بی کو دوہرا معیار متعدد مرتبہ دکھائی دیا جس نے یونس خان اور اسد شفیق کو زیادتی کا شکار بنایا مگر خرم منظور اور بلاول بھٹی کو براہ راست سی کیٹیگری میں شامل کرلیا لیکن ون ڈے فارمیٹ میں 38 اور ٹیسٹ کرکٹ میں 10وکٹیں لینے والے فاسٹ بالر محمد عرفان کو سب سے آخری درجے میں پھینک دیا گیا ہے۔وہاب ریاض اور عمر امین پر خصوصی نوازش کا سلسلہ جاری ہے جنہیں اوسط درجے کی کارکردگی کے باوجود ڈی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ توفیق عمر، عمران فرحت، فیصل اقبال، یاسر حمید، اعزاز چیمہ، محمد سمیع،اورسہیل تنویر جیسے کھلاڑیوں کو سمر کیمپ میں بلا کر دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کی امید جگائی گئی مگر سنٹرل کانٹریکٹس میں ان کھلاڑیوں کو شامل نہ کرکے پی سی بی نے ان کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے۔

بورڈ کے جس سیٹ اپ میں متعدد افراد دو عہدوں پر فائز ہوں، اگر کھلاڑیوں کو بھی ’’چھپڑ پھاڑ‘‘آفر کے ذریعے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع مل رہا ہے تو کوئی بری بات نہیں ہے مگر سنٹرل کانٹریکٹس کی فہرست مرتب کرتے ہوئے میرٹ کو مدنظر نہیں رکھا گیا ۔

Facebook Comments