بگ تھری پر بھارت کی مضحکہ خیز دھمکی کو سنجیدہ لیا گیا: احسان مانی

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے حالیہ بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 'بگ تھری' سفارشات تسلیم نہ کرنے پر بھارت نے آئی سی سی کے متبادل ادارہ قائم کرنے کی دھمکی دی تھی۔

سمجھ نہیں آتی کہ بگ تھری معاملے پر فیصلہ اتنی عجلت اور افراتفری میں کیوں کیا گیا؟ سابق صدر آئی سی سی (تصویر: Getty Images)

سمجھ نہیں آتی کہ بگ تھری معاملے پر فیصلہ اتنی عجلت اور افراتفری میں کیوں کیا گیا؟ سابق صدر آئی سی سی (تصویر: Getty Images)

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان سے تعلق رکھنے والے احسان مانی نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری سنجے پٹیل کا یہ بیان انتہائی مضحکہ خیز ہے اور مجھے سخت حیرت ہے کہ آئی سی سی نے اس معاملے کو اتنا سنجیدگی سے لیا اور ایسے اقدامات اٹھائے۔

2003ء سے 2006ء تک بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سربراہ رہنے والے مانی نے بتایا کہ ان کے عہد میں ایک مکمل رکن نے آئی سی سی ایونٹس سے علیحدگی کی دھمکی دی تھی لیکن دیگر اراکین کے اتحاد نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ "میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر بتاؤں کہ جب میں آئی سی سی کا صدر تھا تو ایک ملک نے دھمکی دی تھی کہ وہ آئی سی سی کے ایونٹس میں شرکت نہیں کرے گا۔ میں نے تمام دیگر بورڈز سے بات کی، جس میں انگلستان، آسٹریلیا، پاکستان اور ویسٹ انڈیز شامل تھے اور انہوں نے یکجہتی اختیار کی، نتیجہ یہ نکلا کہ یہ دھمکی کارگر ثابت نہ ہوسکی۔" گو کہ احسان مانی نے اس ملک کا نام نہیں لیا لیکن دیگر بورڈز کے نام لینے کے بعد یہ بات ظاہر ہے کہ اس وقت یہ دھمکی بھارت ہی نے دی ہوگی۔

احسان مانی نے کہا کہ اگر میں آئی سی سی کا صدر ہوتا تو سب سے پہلے بھارت سے تحریری طور پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کا کہتا، اس کے بعد دیگر تمام اراکین کے قدم مضبوط کرتا تاکہ وہ اس معاملے پر ڈٹ جائيں اور متحد ہوکر بی سی سی آئی کو پیغام دیں۔

بگ تھری معاملے پر دیگر بورڈز کے رویے پراحسان مانی نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ آئی سی سی کی قیادت کے علاوہ انگلستان اور آسٹریلیا بھی بی سی سی آئی کی دھمکی پر افراتفری کا شکار ہوئے۔ انہیں کھیل کے بہتر مفاد میں سوچنا چاہیے تھا لیکن اب جو حرکت ان سے سرزد ہوچکی ہے اس نے عالمی کرکٹ کے طرز حکمرانی کو بہت خطرناک بنا دیا ہے۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ اتنی عجلت دکھانے اور بھگدڑ میں فیصلے کرنے کی ضرورت کیا تھی؟

احسان مانی نے کہا کہ بھارت کے عوام بھی اپنے بورڈ کے ان اقدامات کی حمایت نہیں کرتے، لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کہ بھارت اچھا کھیلے۔ بلاشبہ عالمی کرکٹ میں کے لیے بھارت آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن یہ بات اسے عالمی کرکٹ کی آمدنی کا مالک نہیں بنا دیتی۔ دوسری بات یہ کہ بھارت کے ان دعوؤں کی آزادانہ تحقیق کی ضرورت تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عالمی کرکٹ کی 70 سے 80 فیصد آمدنی بھارت دیتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے بگ تھری کی باتوں پر آمنا و صدقنا کہا گیا۔

حال ہی میں تسلیم کی گئی سفارشات کے مطابق بھارت کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی آمدنی میں بہت بڑا حصہ ملے گا جو پہلے تمام مکمل اراکین میں برابر کی بنیاد پر تقسیم ہوتا تھا۔ نتیجے میں چھوٹی ٹیموں کی آمدنی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

Facebook Comments