بھارت-بنگلہ دیش سیریز، کوئی بھارتی ٹی وی براہ راست دکھانے کو تیار نہیں

جب بین الاقوامی کرکٹ میں 'بگ تھری' کا غلغلہ اٹھا تو بنگلہ دیش ان ممالک میں شامل تھا جو بہت جلد بھارت، انگلستان اور آسٹریلیا کے حق میں جھک گیا اور اس کا مقصد ان تین بڑی ٹیموں سے اپنے مفادات حاصل کرنا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصے میں بھارت اس کے خلاف ایک روزہ مقابلوں کی مختصر سیریز کھیلنے پر راضی ہوگیا۔ حمایت کے بدلے میں چھوٹا سا انعام تو بنگلہ دیش کو ملا لیکن بھارت نے دوسرے درجے کی ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کرکے بنگلہ دیش کو نہ صرف اس کی حیثیت یاد دلائی بلکہ اب براہ راست نشریات کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ چکا ہے جس سے سیریز کے نشریاتی حقوق رکھنے والے بنگلہ دیشی ٹیلی وژن چینل کو فوری طور پر اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو مستقبل میں بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔

نشریات کے معاملے پر لاکھوں ڈالرز کے خسارے کا سوچ کر ہی بنگلہ دیش کے پسینے چھوٹ رہے ہیں (تصویر: BCB)

نشریات کے معاملے پر لاکھوں ڈالرز کے خسارے کا سوچ کر ہی بنگلہ دیش کے پسینے چھوٹ رہے ہیں (تصویر: BCB)

بھارت کے اخبار 'ممبئی مرر' کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ بھارت میں سیریز کی براہ راست نشریات کون پیش کرے گا۔ سیریز کے نشریاتی حقوق بنگلہ دیش کے غازی ٹی وی کے پاس ہیں اور وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے کرتوتوں کی سزا بھگت رہا ہے۔ بی سی سی آئی ٹین اسپورٹس اور نیو اسپورٹس کے خلاف عدالت میں ہے، اس لیے یہ دونوں ٹیلی وژن چینل تو سیریز دکھانے سے رہے۔ دوسری جانب سونی نے بھی یہ کہہ کر بھارت-بنگلہ دیش ون ڈے مقابلے دکھانے سے انکار کردیا ہے کہ وہ فٹ بال ورلڈ کپ 2014ء کے مقابلے براہ راست نشر کررہا ہے اور کرکٹ کے مقابلے نشر نہیں کرنا چاہتا۔ اسٹار اسپورٹس نے پیشکش ضرور کی ہے لیکن وہ اتنی کم رقم دینے پر راضی ہے کہ غازی ٹی وی کے پسینے چھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔

غازی گروپ کے سی ایف او صلاح الدین نے بتایا کہ اسٹار نے تین مقابلوں کے لیے ایک ملین ڈالرز سے بھی کم کی رقم پیش کی ہے جو حقوق کی قیمت کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ ہم نیو اور ٹین کو بھی حقوق نہیں بیچ سکتے اس لیے اگر فوری طور پر کوئی ڈرامائی پیشرفت ہوئی تو ٹھیک، ورنہ بھارت میں سیریز نشر ہونے کی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔ اب بنگلہ دیشی ٹی وی کے لیے ایک ہی امید باقی رہ گئے ہے کہ بھارت کا سرکاری ٹیلی وژن دور درشن سیریز کے نشریاتی حقوق خریدے، بصورت دیگر یہ سیریز بنگلہ دیش کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوگی۔ یعنی بنگلہ دیش عالمی کرکٹ میں بھارت کی دشمنی کا متحمل بھی نہیں ہوسکتا تھا اور اب اسے دوستی بھی راس نہیں آ رہی۔ بگ تھری معاملے پر سب بھارت کو اس لیے رام کرنا چاہتے تھے کہ اس کے خلاف کھیل کر وہ بھاری آمدنی حاصل کریں گے، لیکن بنگلہ دیش کے ساتھ تو معاملہ الٹا ہونے جارہا ہے۔

Facebook Comments