جان بوجھ کر فکس مقابلہ جاری رہنے دیا، بنگلہ دیش کا آئی سی سی پر سنگین الزام

بنگلہ دیش نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے انسداد بدعنوانی یونٹ کے تفتیش کاروں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ 2013ء کے ایک مقابلے کے فکس ہونے کا علم رکھنے کے باوجود اس سے صرف نظر کیا اور منتظمین کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے اس مقابلے کو منعقد ہونے دیا۔

سابق بنگلہ دیشی کپتان فکسنگ اسکینڈل میں محمد اشرفل اعتراف جرم کرنے والے پہلے کھلاڑی تھے (تصویر: ESPNCricinfo)

سابق بنگلہ دیشی کپتان فکسنگ اسکینڈل میں محمد اشرفل اعتراف جرم کرنے والے پہلے کھلاڑی تھے (تصویر: ESPNCricinfo)

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایک سابق جج کی سربراہی میں قائم کردہ تحقیقاتی ٹریبونل کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہادتیں واضح کرتی ہیں کہ 2 فروری 2013ء کو ڈھاکہ گلیڈی ایٹرز اور چٹاگانگ کنگز کے درمیان کھیلا گیا مقابلہ فکس تھا اور یہ بات تحقیقاتی ٹریبونل کے مطابق آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ کے علم میں تھی، لیکن اس کا تمام زور شہادتیں اکٹھی کرنے پر تھا، فکس مقابلے کو روکنے پر نہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے منتظمین کو بھی اس بارے میں اندھیرے میں رکھا کہ ڈھاکہ کے مالکان میں ایک مقابلے کو فکس کرنا چاہتے ہیں، اور مقابلے کو منعقد ہونے دیا جس میں ڈھاکہ کو بڑی شکست ہوئی۔

گزشتہ ستمبر میں بورڈ کی جانب سے تشکیل کردہ ٹریبونل کی تحقیقات کے دوران تین کھلاڑی بنگلہ دیش کے سابق کپتان محمد اشرفل، نیوزی لینڈ کے لو ونسنٹ اور سری لنکا کے کوشال لوکاراچھی اعتراف جرم کرچکے ہیں جبکہ آئی سی سی نے مجموعی طور پر 9 افراد پر فکسنگ کے الزامات لگائے تھے۔ جس کے بعد منتظمین نے لیگ کو مانیٹر کرنے کے لیے آئی سی سی کی خدمات حاصل کیں اور نتیجہ اب عدالتی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے ہے ۔

ٹریبونل کی رپورٹ میں یہ تک کہا گیا ہے کہ ڈھاکہ کے کوچ این پونٹ نے اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع کیا تھا کہ ٹیم مالکان میں سے ایک کھلاڑیوں سے رابطہ کرکے انہیں مقابلہ فکس کرنے پر اکسا رہے ہیں لیکن انہیں کہا گیا کہ آپ میچ کھیلیں۔

رپورٹ کی ایک نقل گزشتہ ہفتے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو بھی فراہم کی گئی تھی، البتہ آئی سی سی نے ابھی تک رپورٹ میں لگائے گئے الزامات پر تبصرہ نہیں کیا۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ کی اہلیت پر اب بڑا سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

Facebook Comments