لارڈز میں ڈرامہ، انگلستان-سری لنکا ٹیسٹ اعصاب شکن مقابلے کے بعد ڈرا

آخری پانچ گیندوں پر صرف ایک وکٹ کو حاصل کرنے میں ناکامی نے انگلستان کو سری لنکا کے خلاف لارڈز میں فتح سے محروم کردیا۔ سنسنی خیزی کی آخری حدوں تک پہنچنے والا لارڈز ٹیسٹ اس صورت میں بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوا کہ سری لنکا کی محض ایک وکٹ باقی تھی۔ میچ کی پہلی اننگز میں بری طرح وکٹوں پر گر کر اپنی وکٹ گنوانے والے آخری بلے باز نووان پردیپ میچ کے فیصلہ کن مرحلے میں نہ صرف اپنی وکٹ بچا گئے بلکہ ایک مرتبہ آؤٹ قرار دیے جانے کے بعد کامیاب ریویو بھی لے کر سری لنکا کو یقینی شکست سے بچایا۔

آخری گیند پر سری لنکا کے آخری بیٹسمین کا بال بال بچنا، انگلش کھلاڑیوں کے چہرے کے تاثرات (تصویر: PA Photos)

آخری گیند پر سری لنکا کے آخری بیٹسمین کا بال بال بچنا، انگلش کھلاڑیوں کے چہرے کے تاثرات (تصویر: PA Photos)

ابر آلود موسم، کم روشنی، نئی گیند اور جمی اینڈرسن و ہمنوا گیند بازوں کی ہوا میں جھولتی ہوئی گیندیں، سری لنکا کے لیے حالات ہرگز اچھے نہ تھے۔ جب آخری اوور کا آغاز ہوا تو اس کی دو وکٹیں باقی تھی لیکن پہلی ہی گیند پر رنگانا ہیراتھ کا اسٹورٹ براڈ کے ہاتھوں آؤٹ ہوجانا معاملے کو صرف ایک وکٹ تک پہنچا گیا۔ سری لنکا صرف 42 رنز کے اضافے سے اپنی 7 وکٹیں گنوا چکا تھا، جب نووان پردیپ میدان میں آئے اور انہوں نے کسی نہ کسی طرح، بچتے بچاتے، کودتے پھاندتے، لڑھکتے پڑھکتے ہوئے یہ پانچوں گیندیں کھیل ہی ڈالیں۔ جن میں ایک مرتبہ وہ ایل بی ڈبلیو آؤٹ بھی قرار دے دیے گئے لیکن تیسرے امپائر سے رجوع کرنے کے بعد ظاہر ہوا کہ گیند ان کے بلے کا اندرونی کنارہ لیتی ہوئی گئی تھی اور یوں ڈی آر ایس نے پردیپ اور سری لنکا کو بچا لیا۔ میچ کی آخری گیند ان کے بلے کا باہری کنارہ لیتی ہوئی دوسری سلپ کی جانب گئی لیکن کرس جارڈن کے ہاتھوں سے محض چند انچوں کے فاصلے پر گرگئی اور یوں یہ مقابلہ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوا۔ ایک ایسا مقابلہ جو لندن کے ان ہزاروں باسیوں کو تاعمر یاد رہے گا، جنہوں نے لارڈز کے تاریخی میدان پر اسے براہ راست دیکھا۔

اس مقابلے کو اگر انگلستان کی شکست قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ دونوں اننگز میں بڑے مجموعے اکٹھے کرنے اور بہترین باؤلنگ کے باوجود وہ مقابلہ نہ جیت پایا۔ گو کہ آخری دن امیدیں کم تھیں اور اینڈرسن، اسٹورٹ براڈ اور کرس جارڈن کی تباہ کن باؤلنگ مقابلے میں اسے فاتحانہ پوزیشن پر لائی، لیکن آخری لمحات میں قسمت نے میزبان کا ساتھ نہ دیا۔ مقابلہ ختم ہونے کے بعد سری لنکا کا جشن اور انگلش کھلاڑیوں کے مایوسی سے لٹکے ہوئے چہرے ظاہر کرنے کے لیے کافی تھے کہ کون درحقیقت جیتا ہے اور کس کے لیے یہ نتیجہ شکست ہے؟

390 رنز کے ریکارڈ ہدف کے تعاقب میں سری لنکا نے کوشال سلوا اور کمار سنگاکارا کی بدولت دن کا خاصا حصہ گزار لیا تھا اور ابتدائی سیشن میں سوائے دیموتھ کرونارتنے کے کسی بلے باز کی وکٹ نہیں گنوائی۔ حالات چائے کے وقفے تک بھی سری لنکا کے ہاتھوں سے نکلے نہ تھے جب 164رنز پر اس کی محض 3 ہی وکٹیں گری تھیں اور سنگاکارا کریز پر موجود تھے لیکن آخری سیشن کے آغاز کے ساتھ ہی بازی یکدم پلٹا کھاگئی۔ سنگاکارا 61 رنز بنانے کے بعد اینڈرسن کے ہاتھوں بولڈ ہوئے تو انگلستان آہستہ آہستہ مقابلے پر حاوی ہوتا چلا گیا۔ اس میں جمی کی باؤلنگ کا کردار بہت اہم تھا جنہوں نے پورے مڈل پر ہی ہاتھ صاف کردیا تھا۔ پہلے مہیلا اور پھر سنگاکارا کو آؤٹ کرنے کے بعد انہوں نے لاہیرو تھریمانے اور اینجلو میتھیوز کی قیمتی وکٹیں بھی ہتھیائیں۔ البتہ وقت کی کمی کی وجہ سے انگلستان آخری و فیصلہ کن وار نہ لگا سکا۔

مقابلے کا آغاز سری لنکا کے ٹاس جیت کر انگلستان کو بیٹنگ دینے کے ناقص فیصلے سے ہوا۔ ناقص اس لیے کہ انگلستان نے جو روٹ کی شاندار ڈبل سنچری کی بدولت 575 رنز کا بھاری مجموعہ کھڑا کر ڈالا اور اس پر بھی سری لنکا اسے آل آؤٹ نہیں کر پایا بلکہ روٹ کی یادگار اننگز مکمل ہوتے ہی اس نے اننگز ڈکلیئر کی۔ روٹ، جو گزشتہ سال ایشیز میں 180 رنز کی باری کھیل چکے تھے، اس مرتبہ 200 رنز کے سنگ میل تک پہنچنے میں کوئی غلطی نہیں کی۔ انہیں اس مقام تک پہنچانے میں آخری بلے باز جیمز اینڈرسن کا بھی خاصا کردار رہا، جنہوں نے 15 گیندوں تک اپنی وکٹ بچائی اور روٹ کو درکار آخری 19 رنز بنانے میں مدد دی۔ 500 منٹ تک کریز پر قیام کے دوران روٹ نے 298 گیندیں کھیلیں اور 16 چوکے بھی لگائے۔ اس باری کے دوران این بیل نے 56 رنز، معین علی نے 48، میٹ پرائیر نے 86، اسٹورٹ براڈ نے 47 اور لیام پلنکٹ نے 39 رنز کے ساتھ ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ایک بھاری بھرکم مجموعہ اکٹھا کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔

سری لنکا نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور کمار سنگاکارا کے شاندار 147 اور اینجلو میتھیوز کی بہترین سنچری اننگز کی بدولت 453 رنز جوڑ ڈالے۔ سنگا، جو اس مقابلےسے قبل کبھی لارڈز میں سنچری نہیں بنا پائے تھے، بالآخر اس میدان پر غالباً اپنے آخری ٹیسٹ میں یہ کارنامہ سر انجام دینے میں کامیاب ہو ہی گئے۔ 258 گیندوں پر 16 چوکوں سے مزین اس اننگز کے ساتھ اب سنگا لارڈز کے بورڈ کا حصہ بن گئے ہیں۔ میتھیوز نے 172 گیندوں پر 102 رنز بنائے۔

مرد میدان جو روٹ 24 سال کی عمر میں ڈبل سنچری بنانے والے محض چوتھے بیٹسمین بنے (تصویر: Getty Images)

مرد میدان جو روٹ 24 سال کی عمر میں ڈبل سنچری بنانے والے محض چوتھے بیٹسمین بنے (تصویر: Getty Images)

انگلستان دوسری اننگز میں صرف 121 رنز پر چھ وکٹیں گنوا بیٹھا تھا، گو کہ پہلی اننگز کی 122 رنز کی برتری کی وجہ سے اس کے خیمے میں افراتفری نہیں پھیلی، لیکن ٹاپ اور مڈل آرڈر کی بری طرح ناکامی نے انجانے خوف میں ضرور مبتلا کیاہوگا۔ لیکن اس کے ازالے کے لیے گیری بیلنس موجود تھے۔ 188 گیندوں پر 104 رنز بنانے والے بیلنس نے ساتویں وکٹ پر کرس جارڈن کے ساتھ 78 اور آٹھویں پراسٹورٹ براڈ کے ساتھ 57 رنز جوڑ کر انگلستان کو بہترین مقام تک پہنچایا۔ بیلنس کے چھکے کے ذریعے اپنی سنچری مکمل کرنے کے بعد انگلستان نے دوسری اننگز 267 رنز 8 آؤٹ پر ڈکلیئر کردی اور یوں سری لنکا کو جیتنے کے لیے 390 رنز کا ایسا ہدف ملا، جو ناممکن تو نہیں لیکن بہت بہت مشکل ضرور تھا، بالخصوص اس صورتحال میں کہ محض ایک دن کا کھیل باقی رہ گیا تھا۔

پھر انگلستان کے باؤلرز، سری لنکا کے بیٹسمین اور قسمت کے درمیان آنکھ مچولی کا وہ کھیل شروع ہوا جو بالآخر مقابلے کے ڈرا ہونے پر مکمل ہوا۔یہ سنسنی خیز مقابلہ گو کہ ریکارڈ بک میں ڈرا کہلائے گا لیکن اگر اسے انگلستان کی شکست کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ دونوں اننگز میں شاندار بیٹنگ کے باوجود مقابلہ جیتنے میں ناکامی کا ازالہ کرنے کے لیے میزبان کے پاس اب صرف ایک موقع ہے، 20 جون سے ہیڈنگلے میں شروع ہونے والا دوسرا و آخری ٹیسٹ۔

Facebook Comments