نوید عارف پر تاحیات پابندی لگا دی گئی

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے فکسنگ کے الزامات کے تحت پاکستانی نژاد نوید عارف پر تاحیات پابندی عائد کردی ہے۔ اب وہ انگلش بورڈ، بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور اس کے تمام رکن ممالک کے تحت ہونے والے کرکٹ مقابلوں میں کسی بھی سطح پر حصہ نہیں لے سکتے، نہ ہی کوچنگ کرسکتے ہیں اور نہ ہی انتظامی لحاظ سے کوئی عہدہ رکھ سکتے ہیں۔

نوید عارف نے اگست 2011ء میں سسیکس کاؤنٹی کی جانب سے کھیلتے ہوئے ایک مقابلے میں جان بوجھ کر ناقص کارکردگي دکھائی تھی (تصویر: Getty Images)

نوید عارف نے اگست 2011ء میں سسیکس کاؤنٹی کی جانب سے کھیلتے ہوئے ایک مقابلے میں جان بوجھ کر ناقص کارکردگي دکھائی تھی (تصویر: Getty Images)

نوید عارف کا نام اس وقت منظرعام پر آیا تھا جب گزشتہ ماہ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے نیوزي لینڈ کے لوو ونسنٹ کے ساتھ مل کر اگست 2011ء میں کھیلے گئے ایک میچ میں جان بوجھ کر ناقص کارکردگی دکھائی تھی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی انگلش بورڈ نے گویا یہ تسلیم کرلیا ہے کہ مذکورہ کاؤنٹی مقابلہ فکس تھا۔

ای سی بی کا کہنا ہے کہ نوید عارف نے بورڈ کے ضابطہ اخلاق کو توڑنے پر اعتراف جرم کرلیا ہے اور اب وہ کسی بھی سطح پر کرکٹ کے کھیل سے وابستگی نہیں رکھ سکتے۔ چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ کولیئر کا کہنا ہے کہ آج کے اعلان سے واضح پیغام گیا ہے کہ ای سی بی کرکٹ میں بدعنوانی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا اور کھیل کی ساکھ کے لیے خطرہ بننے والے ہر شخص کے خلاف بھرپور قدم اٹھائے گا۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے نوید عارف 2009ء میں پاکستان اے کی جانب سے آسٹریلیا کا دورہ کرچکے تھے اور بعد ازاں 2011ء اور 2012ء کے دوران انہوں نے 8 ٹی ٹوئنٹی، 12 فرسٹ کلاس اور 14 ٹسٹ اے مقابلوں میں سسیکس کاؤنٹی کی نمائندگی کی۔ وہ پاکستان میں سیالکوٹ اور سیالکوٹ اسٹالینز کی جانب سے بھی کھیل چکے ہیں اور دسمبر 2012ء میں اسٹالینز کی جانب سے پاکستان میں آخری مقابلہ کھیلا۔

یوں دانش کنیریا کے بعد پاکستان کا ایک اور کھلاڑی انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے تاحیات پابندی کا نشانہ بن گیا ہے اور اب سب کی نظریں لو ونسنٹ کے معاملے پر ہیں کہ آخر ان کے لیے کیا سزا تجویز ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ اس پورے فکسنگ معاملے کے کرتا دھرتا تھے۔

Facebook Comments