آئی پی ایل اور اس کے منفی اثرات

آئی پی یل کا چوتھا ایڈیشن نصف سے زائد مرحلہ طے کر چکا ہے۔ 28 مئی کے فائنل کے ساتھ ہی اس ٹورنامنٹ کی چکاچوند بھی ختم ہو جائے گی۔ آئی پی ایل کا ہر گزرتا سیزن کرکٹ کے سنجیدہ حلقوں میں نہایت اہم سوالات چھوڑتا جا رہا ہے۔ سن 2008ء میں فلمی ستاروں اور کھلاڑیوں کے انضمام کے ساتھ اس جدید طرز کی کرکٹ کی شروعات ہوئی جس نے اپنے ابتدائی مرحلہ میں ہی قومی کرکٹ کو خطرہ میں مبتلا کر دیا۔ کھلاڑیوں کو ضرورت سے زیادہ پیسہ اور عیش فراہم کرنے کا عمل،غلاموں کی طرز پر اُن کی خریدو فروخت، چیئر لیڈرز کے ذریعہ کرکٹ کو 'فروغ' دیئے جانے کی بات اور اس جیسے کئی اہم موضوعات تھے جس کے سبب ناقدین کے ایک طبقہ نے آئی پی ایل کی پر زور مذمت کی۔

اپنے پہلے ہی سیزن میں آئی پی ایل نے کھلاڑیوں کو ڈالروں سے مالا مال کر ڈالا۔ لیکن اس کے دوسرے ہی سیزن یعنی 2009ء سے ہی اس کے خطرات رفتہ رفتہ دنیا کے سامنے عیاں ہونے لگے۔ ممبئی بم دھماکہ کو بہانہ بنا کر اس سیزن میں پاکستانی کھلاڑیوں سے کیا گیا معاہدہ منسوخ کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان 26/11 سے پیدا شدہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ کرکٹ جو دونوں ملکوں کو قریب لانے کا ایک واحد ذریعہ تھا، سرحد کے دونوں اطراف عوام کے درمیان تلخی پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔

آئی پی ایل کے دوسرے سیزن سے ہی اس کے خطرات زور پکڑتے گئے۔ ان دو سیزنوں میں بین الاقوامی سطح سے نیچے کا کھلاڑی بھی اس قدر پیسہ جمع کر چکا تھا کہ اسے قومی کرکٹ میں کھیلنے کی تگ و دو سے نجات مل چکی تھی۔ اسے محض اگلے سیزن میں اپنی نیلامی کا بندو بست کرنا تھا۔ آئی پی ایل نے ان نو عمر اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو ایسا نوازا تھا جیسا انہیں بین الاقوامی کرکٹ بھی نوازنے سے قاصر تھی۔ انہیں پیسہ، شہرت، عیش، نائٹ پارٹیز غرض یہ کہ ہر وہ شے فراہم کی گئی جس کا یہ کھلاڑی قومی کرکٹ میں رہ کر کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

انگریزی کے ایک مقولے کے مطابق جب تک کوئی چیز اپنے حد کو تجاوز نہیں کرتی اس کے نقصانات پورے طور پر ظاہر نہیں ہوتے۔ آئی پی ایل کے تیسرے ایڈیشن میں جو تنازع کھڑا ہوا اس نے دنیا کے سامنے یہ صاف ظاہر کر دیا کہ آئی پی ایل جتنا بڑا برانڈ ہے اس میں اسی تناسب سے بدعنوانی کی گنجائش بھی موجود ہے۔ اس بدعنوانی میں کوئی ایسا ویسا شخص ملوث نہیں تھا بلکہ خود اس کے بانی اور چیئر پرسن شامل تھے۔ اس بدعنوانی کے سد باب کی یہ سبیل نکالی گئی کہ بورڈ نے جناب للت مودی کو ان کے عہدے سے بر طرف کر دیا۔ لیکن اب تک بورڈ نے صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ آئی پی ایل سے پیدہ شدہ دیگر مسائل کا کوئی حل نہیں تجویز کیا۔

اس طرح یہ مرحلہ بڑھتے بڑھتے اپنے چوتھے سیزن تک پہنچ گیا۔ جہاں پہنچ کر اس کے خطرات اپنے اصل روپ میں ظاہر ہونے لگے۔ عالمی کپ کی طویل مصروفیت کے بعد کھلاڑیوں کو آرام کرنے کا موقع بھی میسر نہ ہوا تھا کہ انہیں آئی پی ایل کے ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچوں کی ہنگامہ خیزی کیلئے کمر کس لینی پڑی۔ اس درمیان دو بین الاقوامی سیریزوں کا آئی پی ایل کے میچوں کے ساتھ ایسا تصادم ہوا کہ چند کھلاڑیوں کو اپنا قومی مفاد ہی قربان کر دینا پڑا۔ پاکستان کے خلاف کھیلی گئی سیریز میں ویسٹ انڈیز کے کئی اہم کھلاڑی قومی ٹیم میں شریک نہ ہو سکے ۔وہیں سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلی جانے والی سیریز کیلئے بھی چند سری لنکائی کھلاڑیوں نے آئی پی ایل کو قومی ٹیم میں اپنی عدم موجودگی کے عذر کے طور پر پیش کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ آئی پی ایل میں کھیلنے والے کچھ کھلاڑی ایسے بھی تھے جنہیں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی بے جا غذا نے ٹیسٹ کرکٹ سے ہی بیزار کر دیا۔ آئی پی ایل نے جو جراثیم کھلاڑیوں میں ڈالے تھے اس نے رفتہ رفتہ اپنے اثرات مرتب کرنے شروع کر دئے۔ اس کے انجام کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جن کی نگاہیں مستقبل کے نقصانات پر ہیں۔وہ لوگ جو کرکٹ کے حقیقی بہی خواہ ہیں اور جو کرکٹ کو ا س کی اصل روح کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں، آئی پی ایل کے ان نقصانات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ آئی پی ایل کو انہی لوگوں کے ذریعہ فروغ دیا جا رہا ہے جو ملک میں قومی کرکٹ کے روح رواں ہیں۔آئی پی ایل کے چوتھے ایڈیشن کے آغاز سے قبل بورڈ کی مستقل پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نے کھلاڑیوں کی خریدو فروخت اورچیئر لیڈرز کے استعمال جیسے مسئلوں پر سوالات تو اٹھائے لیکن اس کے حل کی کوئی صورت نہیں تجویز کی گئی۔ اس طرح آئی پی ایل کا چوتھا سیزن بھی پورے آب و تاب کے ساتھ چل رہا ہے اوراس کی چکا چوند سے دن بدن لوگوں کی آنکھیں خیرہ ہی ہوتی جا رہی ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments