اولمپکس میں عدم شرکت، آئی سی سی کی خفت مٹانے کی کوشش

کرکٹ کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے دنیا کے سب سے بڑے کھیل "اولمپکس" سے بہتر موقع کون سا ہوسکتا تھا؟ لیکن بھارت اور انگلستان کی ہٹ دھرمی نے کرکٹ کو گرمائی اولمپکس میں شامل کروانے کا موقع ضائع کروا دیا۔ یہی نہیں بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے نئے صدر مصطفیٰ کمال بھی اب ان 'بڑوں' کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

اجلاس میں اولمپکس میں شرکت کی حمایت کرنے والا آئی سی سی اب خفت مٹانے کی کوشش کررہا ہے (تصویر: Getty Images)

اجلاس میں اولمپکس میں شرکت کی حمایت کرنے والا آئی سی سی اب خفت مٹانے کی کوشش کررہا ہے (تصویر: Getty Images)

آئی سی سی سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس آنے والے مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ اگر کرکٹ کو اولمپکس میں شامل کروالیا جاتا تو اس کی قدر و اہمیت گھٹ جاتی۔ یعنی جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

کرکٹ ان 33 کھیلوں میں شامل ہے جنہیں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے گرمائی اولمپکس میں شامل کرنے کے لیے تسلیم کیا ہے۔ اس ضمن میں آئی سی سی سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اولمپکس میں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ایک ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کے انعقاد کی درخواست دے۔ درخواست جمع کروائے جانے کے بعد اس پر 2017ء میں فیصلہ متوقع ہوتا اور اگر کرکٹ کو منظور کرلیا جاتا تو 2024ء سے کرکٹ بھی اولمپک کھیلوں میں شامل ہوجاتی لیکن بھارت اور انگلستان نے اعتراض کی تان ہمیشہ کی طرح 'پیسے' پر جاکر ہی ٹوٹی جن کا کہنا ہے کہ اولمپکس میں کرکٹ کی شمولیت مالی لحاظ سے فائدہ مند نہیں ہوگی۔ کیونکہ اگست کے مہینے میں انگلستان ہر سال اپنے ہوم گراؤنڈ پر سال کا اہم ترین سیزن کھیلتا ہے اور اس کا شیڈول متاثر ہونے کی صورت میں انہیں بڑا مالی نقصان ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ اجلاس میں آئی سی سی کی خواہش تھی لیکن انگلستان اور بھارت کے اعتراضات کے سامنے اس کی ایک نہ چلی۔ اب وہ انہی کے موقف کی حمایت کرکے اپنی خفت مٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ مصطفیٰ کمال سمجھتے ہیں کہ اگر فٹ بال کی طرح اولمپکس میں بھی دوسرے یا تیسرے درجے کی کرکٹ ٹیم بھیجی جائے گی تو اس سے کھیل کی اہمیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ہم نے کافی غور کیا ہے۔ جیسا کہ فٹ بال میں دوسرے، تیسرے یا چوتھے درجے کی ٹیمیں اولمپکس میں شرکت کے لیے جاتی ہیں، اگر ویسی ہی ٹیمیں بھیجنی ہیں تو کرکٹ کو کچھ نہيں ملنے والا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے کرکٹ کی اہمیت گھٹے گی۔ کرکٹ ایک عظیم ورثہ ہے اور ہمارے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ کرکٹ وقت طلب کھیل ہے۔ 100 میٹرز کی دوڑ نو، دس سیکنڈز میں ختم ہوجاتی ہے ، تو کس طرح اتنے زیادہ ممالک کو اولمپکس میں کرکٹ جیسا طویل کھیل کھلا سکتے ہیں۔

کرکٹ سن 1900ء کے پیرس میں ہونے والے اولمپکس کھیلوں کا حصہ رہا ہے جہاں برطانیہ نے فرانس کو شکست دے کر سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ البتہ دور جدید میں کرکٹ 1998ء کے دولت مشترکہ گیمز اور 2010ء کے ایشینز گیمز میں کھیلا جاچکا ہے۔ اول الذکر میں جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو ہرا کر جبکہ ایشین گیمز میں افغانسان نے بنگلہ دیش کو شکست دے کر سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

Article Tags

Facebook Comments