بھارت نے 8 سالہ شیڈول طے کرلیا، پاکستان کا فیصلہ حکومت کی اجازت سے مشروط

بھارت نے 2015ء سے 2023ء تک کے لیے دو طرفہ سیریز کے معاہدے طے کرلیے ہیں جس کے مطابق انگلستان، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے ساتھ کھیلنے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ پاکستان کے خلاف 6 سیریز کا معاملہ حکومت ہند کی منظوری سے مشروط کردیا گیا ہے۔

پاکستان و بھارت کے کرکٹ تعلقات گزشتہ کئی سالوں سے منقطع ہیں (تصویر: AFP)

پاکستان و بھارت کے کرکٹ تعلقات گزشتہ کئی سالوں سے منقطع ہیں (تصویر: AFP)

جن دوطرفہ معاہدوں پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے دستخط کیے ہیں ان کے مطابق بھارت آٹھ سالوں کے دوران انگلستان کے خلاف 20 ٹیسٹ، آسٹریلیا کے خلاف 16 اور جنوبی افریقہ کے خلاف 12 ٹیسٹ میچز کھیلے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نجم سیٹھی نے چند روز قبل بتایا تھا کہ دسمبر 2015ء کے بعد اگلے آٹھ سالوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چھ دوطرفہ سیریز کھیلی جائیں گی جن میں سے زیادہ کی میزبانی پاکستان کو ملے گی۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری سنجے پٹیل نے اس امر کی تصدیق تو کی ہے لیکن دو طرفہ سیریز کو بھارتی حکومت کی منظوری سے مشروط کردیا ہے۔ پاک-بھارت کرکٹ تعلقات 2008ء میں ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد سے منقطع ہیں اور 2012ء کے اواخر میں ایک مختصر پاک-بھارت سیریز سے کچھ برف پگھلتی دکھائی دیتی تھی لیکن اس کے بعد سے پھر وہی سردمہری قائم ہے۔

بہرحال، تازہ ترین فیصلوں کے مطابق بھارت نے طے کیا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ اور ایک روزہ سیریز کو دو حصوں میں تقسیم کرے گا اور اب مزید طویل دورے نہیں کیے جائیں گے۔ سنجے پٹیل کے مطابق آسٹریلیا انگلستان کے علاوہ کسی بھی ملک کا چھ ہفتوں سے زیادہ کا دورہ نہیں کرنا چاہتا، اس لیے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف بھارت کو اپنے میدانوں پر کھیلنے کا زیادہ موقع ملے گا بلکہ نشریاتی حقوق کے ضمن میں بھی مزید آمدنی حاصل ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلے آٹھ سالوں میں بھارت کو تین اہم آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی دینے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ بھارت نے 2011ء میں عالمی کپ کی میزبانی کی تھی اور اس سے قبل 1996ء کے عالمی کپ اور 2006ء کی چیمپئنز ٹرافی کی بھی میزبانی کرچکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2015ء سے 2023ء کے عرصے کے دوران کم از کم ایک ورلڈ کپ، ایک چیمپئنز ٹرافی اور ایک ورلڈ ٹی ٹوئنٹی بھارت میں کھیلا جائے گا۔

Article Tags

Facebook Comments