بھارت کے خلاف پہلا ٹیسٹ، انگلستان نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

ٹیسٹ میں پے در پے شکستیں کھانے کے بعد اب انگلستان کو ایک اور موقع میسر آیا ہے کہ وہ جدوجہد کرتے ہوئے بھارت کے خلاف اپنی گزشتہ دو یادگار فتوحات کو دہرائے اور خود کو شکست کی دلدل میں مزید پھنسنے سے بچائے۔ اس مقصد کے لیے اس نے آج 12 رکنی دستے کا اعلان کیا ہے جو 9 جون سے ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں شرکت کرے گا۔

بین اسٹوکس کو حالیہ کاؤنٹی کارکردگی پر ٹیم میں واپس بلایا گیا ہے (تصویر: Getty Images)

بین اسٹوکس کو حالیہ کاؤنٹی کارکردگی پر ٹیم میں واپس بلایا گیا ہے (تصویر: Getty Images)

سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل حالیہ سیریز میں انتہائی سنسنی خیز مقابلوں کے بعد ایک-صفر سے شکست نے انگلینڈ کو خاصا مایوس کیا ہے لیکن جس بے جگری کے ساتھ نوجوان کھلاڑیوں نے اس سیریز میں مقابلہ کیا، وہ ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل تاریک نہیں ہے۔ اب یہی کھلاڑی بھارت کے خلاف بھی ایکشن میں دکھائی دیں گے، جیساکہ معین علی، کرس جارڈن، گیری بیلنس، کرس ووکس اور سیریز کے لیے طلب کیے گئے بین اسٹوکس۔

رواں سال کے اوائل میں آسٹریلیا کے خلاف ایشیز میں بدترین شکست کے باوجود جو کھلاڑی انگلستان کی جانب سے نمایاں رہا، وہ بین اسٹوکس تھا۔ محض اپنے دوسرے ٹیسٹ میں سنچری اور پھر سیریز کے پانچویں ٹیسٹ میں 99 رنز دے کر 6 وکٹوں گی کارکردگی نے اس کھلاڑی کو کافی شہرت بخشی لیکن دورۂ ویسٹ انڈیز میں ناکامی نے اس کے لیے ٹیم سے باہر کا دروازہ کھول دیا۔ اب کاؤنٹی میں عمدہ کارکردگی دکھانے پر اسٹوکس کو بھارت کے خلاف طلب کیا گیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کیا وہ حتمی الیون میں شامل ہو بھی پائیں گے یا نہیں؟ اگر ایس اہوتا ہے تو انہیں خود کو "ترپ کا پتہ" ثابت کرنا ہوگا۔

انگلستان-بھارت سیریز میں مجموعی طور پر پانچ ٹیسٹ مقابلے کھیلے جائیں گے، جن 9 جون سے 19 اگست تک جاری رہیں گے۔ اس کے پہلے ٹیسٹ کے لیے مندرجہ ذیل دستے کا اعلان کیا گیا ہے:

ایلسٹر کک (کپتان)، اسٹورٹ براڈ، این بیل، بین اسٹوکس، جو روٹ، جیمز اینڈرسن، سام روبسن، کرس جارڈن، کرس ووکس، گیری بیلنس، لیام پلنکٹ، معین علی اور میٹ پرائیر۔

Facebook Comments