ہاشم آملہ اور جنوبی افریقی باؤلرز چھا گئے، سری لنکا پہلا مقابلہ ہار گیا

ہاشم آملہ کی "ایک اور" سنچری اور جنوبی افریقہ کے گیندبازوں کی عمدہ باؤلنگ کے بعد سری لنکا وقت کے ساتھ دوڑ ہار گیا اور یوں ون ڈے سیریز کا پہلا مقابلہ پروٹیز نے باآسانی 75 رنز سے جیت لیا۔ ایک طرف اہم ترین بلے بازوں کے کیچ چھوڑنا سری لنکا کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوا تو دوسری جانب اہم مرحلے پر وکٹیں گرنے سے بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ نتیجہ، ایسی شکست کی صورت میں نکلا، جس کے بعد سری لنکا کے پاس کوئی راہ فرار نہیں، انہیں سیریز بچانے کے لیے باقی دونوں مقابلے لازمی جیتنا ہوں گے۔

ہاشم آملہ نے ون ڈے کیریئر کی 13 ویں سنچری اسکور کی (تصویر: AFP)

ہاشم آملہ نے ون ڈے کیریئر کی 13 ویں سنچری اسکور کی (تصویر: AFP)

کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں ہونے والا سیریز کا پہلا ون ایک روزہ مقابلہ جنوبی افریقہ کے ٹیسٹ اور ون ڈے کپتانوں کی شاندار بیٹنگ کی بدولت مہمان ٹیم کے حق میں رہا ۔ ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کے اوپنرز نے لنکا ڈھانے کے ارادے کو پختہ آغاز فراہم کیا۔ اوپنرز کوئنٹن ڈی کوک اور ہاشم آملہ کی 58 رنز کی محتاط شراکت داری ان عزائم کو ظاہر کررہی تھی۔ ڈی کوک اور سات مہینوں بعد پہلا ون ڈے کھیلنے والے ژاک کیلس یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوئے تو ٹیسٹ کپتان ہاشم آملہ اور ون ڈے کپتان ابراہم ڈی ولیئرز کی شراکت داری نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

دونوں نے تیسری وکٹ پر 151 رنز جوڑکر مجموعے کو 36 اوورز میں 211 رنز تک پہنچا دیا اور 300 رنز کی نفسیاتی حد عبور کرنے لیے بہترین بنیاد فراہم کی۔ ہاشم آملہ کی ون ڈے میچز میں بہترین فارم کا سلسلہ کولمبو میں بھی برقرار رہا۔ گزشتہ پانچ ون ڈے میچز میں بالترتیب 98، 41، 65، 100 اور 13 بنانے کے بعد ہاشم نے یہاں کیریئر کی 13 ویں سنچری اسکور کی اور 130 گیندوں پر 109 نز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے جبکہ ڈی ولیئرز 70 گیندوں پر ایک چھکے اور پانچ چوکوں کی مدد سے 75 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ البتہ دونوں بلے بازوں کو نئی زندگی ضرور ملی، سری لنکا کے فیلڈرز کی نااہلی نے ہاشم آملہ کو 49 اور ڈی ولیئرز کو 17 رنز کے انفرادی اسکور پر سکھ کا سانس فراہم کیا۔

دونوں بلے بازوں کی جانب سے دی گئی مستحکم بنیاد کا آنے والے بیٹسمینوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور آخری پانچ اوورز میں 53 رنز لوٹ کے مجموعے کو 304 رنز تک پہنچا دیا۔ ڈیوڈ ملر 21 گیندوں پر 36 اور راین میک لارن 18 گیندوں پر 22 رنز کے ساتھ ناقابل شکست میدان سے لوٹے۔

سری لنکا کی جانب نے اجنتھا مینڈس نے 3 جبکہ سچیتھرا سینانائیکے اور اینجلو میتھیوز نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ اسٹرائیک باؤلر لاستھ مالنگا بری طرح ناکام رہے جن کے اوورز میں 52 رنز پڑے جبکہ آخری اوور میں آشان پریانجن اور تلکارتنے دلشان سے باؤلنگ کروانے کا فیصلہ بھی بہت مہنگا ثابت ہوا جنہیں مجموعی طور پر 11 اوورز پھینکے اور بالترتیب 47 اور 31 رنز کی مار کھائی۔

ایک بڑے مجموعے کے تعاقب میں سری لنکا کا آغاز تو اچھا تھا۔ اوپنرز کوشال پیریرا اور تلکارتنے دلشان نے 8 اوورز میں 50 رنز کی ابتدائی شراکت داری قائم کی لیکن مڈل آرڈر کی ناکامی نے میزبان ٹیم کو زبردست نقصان پہنچایا۔ 98 رنز پر دلشان کی وکٹ گرنے کے بعد عمران طاہر نے مسلسل دو اوورز میں مہیلا جے وردھنے اور آشان پریانجن کی وکٹیں حاصل کیں اور رہی سہی کسر مورنے مورکل کے ہاتھوں اینجلو میتھیوز کے وکٹوں کے پیچھے کیچ دینے سے پوری ہوگئی۔ سری لنکا صرف 164 رنز پر اپنی آدھی وکٹوں سے محروم تھا اور 21 اوورز کا کھیل بھی باقی نہ بچا تھا۔ امید کی واحد کرن کمار سنگاکارا کی صورت میں کریز پر موجود تھی جنہوں نے لاہیرو تھریمانے کے ساتھ مل کر چھٹی وکٹ پر 52 رنز بنا کر معاملات کو آسان بنانے کی کوشش کی۔ انہیں امنڈتے ہوئے سیاہ بادلوں میں یقینی بنانا تھا کہ سری لنکا کا اسکور ڈک ورتھ لوئس طریقے کے مطابق درکار رنز سے آگے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے راین میک لارن کو تین مسلسل چوکے رسید کرکے اپنے ارادوں کا حقیقی اظہار کیا۔ لیکن میک لارن کے حوصلے نہ ٹوٹے اور انہوں نے ایک ہی اوور میں تھریمانے اور سنگاکارا کی وکٹیں حاصل کرکے درحقیقت میچ کا فیصلہ ہی کردیا۔ کم ہوتی روشنی میں سری لنکا صرف 13 رنز کے آغاز سے اپنی آخری پانچ وکٹیں گنوا بیٹھا اور یوں جنوبی افریقہ 75 رنز سے میچ جیت گیا۔ سنگاکارا 88 رنز بنا کر سری لنکا کے سب سے نمایاں بیٹسمین رہے۔

کیونکہ یہ دن میں کھیلا گیا مقابلہ تھا، اس لیے کم ہوتی روشنی میں برقی قمقمے جلانے کی سرے سے کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی۔ دراصل کرکٹ سری لنکا اپنے اخراجات کو کم کرنے کے لیے صرف دن میں مقابلے کروانا چاہتا ہے تاکہ رات کو خرچ ہونے والی بجلی اور متبادل فراہمی پر ہونے والے اخراجات سے بچت ہوسکے۔ البتہ ان کی یہ بچت سری لنکا کو مہنگی پڑ گئی جو رواں سال ون ڈے میں بہت اچھی کارکردگی دکھارہا تھا لیکن ہوم سیریز پر پہلا ہی میچ ہار گیا۔

میچ کے اختتام پر ہاشم آملہ کو مرد میدان کا اعزاز دیا گیا۔

تین ون ڈے میچز کا دوسرا مقابلہ اب بدھ کو پالی کیلے میں ہوگا، جہاں سیریز میں امکانات برقرار رکھنے کے لیے سری لنکا کا جیتنا ضروری ہوگا۔

Facebook Comments