کوہلی کی نظریں لارڈز کے میدان پر

ویراٹ کوہلی کیریئر میں پہلی بار کوئی ٹیسٹ مقابلہ کھیلنے کے لیے انگلستان میں موجودہیں۔ بقول ان کے "انگلینڈ میں اچھی کارکردگی دکھانا برصغیر کے ہر بیٹسمین کا خواب ہے" اور وہ نہ صرف اس کی تعبیر حاصل کرنا چاہیں گے بلکہ 2011ء کے زخموں پر مرہم رکھنا بھی ان کی خواہش ہوگی۔

کوہلی تین سال قبل یہاں کلین سویپ شکست کھانے والی بھارتی ٹیم کا حصہ نہیں تھے (تصویر: AFP)

کوہلی تین سال قبل یہاں کلین سویپ شکست کھانے والی بھارتی ٹیم کا حصہ نہیں تھے (تصویر: AFP)

جب 2011ء کے دورۂ انگلستان میں بھارت کو تمام چار ٹیسٹ مقابلوں میں بدترین شکست ہوئی تھی تو ویراٹ کوہلی اپنے گھر میں پیچ و تاب کھا رہے تھے کیونکہ انہیں گزشتہ مقابلوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے دورے سے باہر کردیا گیا تھا۔ لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑی گزشتہ دورے کی بھیانک داستان کو بھلا کر اچھی کارکردگی دکھانے کے خواہاں ہیں۔

ناٹنگھم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ویراٹ نے کہا کہ انگلستان ان چار مقامات میں سے ایک ہے، جہاں برصغیر کا ہر کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھانا چاہتا ہے اور اس لیے میں نے بھی اس سیریز کےلیے کچھ اہداف مقرر کر رکھے ہیں۔ ذاتی طور پر میرے لیے یہ بہت دلچسپ دورہ ہوگا اور خاص طور پر میری نظریں لارڈز پر لگی ہوئی ہیں، جہاں میں نے آج تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا۔

کوہلی نے کہا کہ گزشتہ دورے میں سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والے راہول ڈریوڈ اس وقت گرو کی حیثیت ہمارے ساتھ موجود ہیں اور ہم ان کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ سیریز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اب تین سال کا عرصہ بیت چکا ہے، بھارت کی ٹیم میں کئی تبدیلیاں ہوچکی ہیں اور اب ہمارے لیے یہ دورہ ایک بالکل نئے باب کی طرح ہے۔ گو کہ ہمیں پسند ہو یا نہ ہو لیکن 2011ء کی سیریز تاریخ کے صفحات میں زندہ رہے گی لیکن ہم اس دورے کو ایک بالکل نئی سیریز سمجھ کر پہنچے ہیں اور بالکل مختلف کارکردگی دکھانے کے خواہشمند ہیں۔

انگلستان اور بھارت کے مابین پہلا ٹیسٹ کل یعنی بدھ سے ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں شروع ہوگا۔ یہ کئی دہائیوں کے بعد پہلی بھارت-انگلستان سیریز ہوگی جس میں دونوں ٹیمیں پانچ ٹیسٹ میچز کھیلیں گی۔

Facebook Comments