[باؤنسرز] حفیظ کو قومی ٹیم سے دور کرنے کی کوششیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورۂ سری لنکا کے لیے ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل نہیں۔ دراصل چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کے درمیان ملاقات میں ہی یہ ’’اصولی‘‘ موقف سامنے آیا تھا کہ حفیظ کو اس دورے کے لیے ٹیسٹ ٹیم کا حصہ نہ بنایا جائے اور یہی وجہ ہے کہ سنٹرل کانٹریکٹس سے محروم رہنے والے عمران نذیر، شعیب ملک، سہیل تنویر کے ساتھ ساتھ محمد حفیظ کو بھی کیریبیئن پریمیئر لیگ کھیلنے کی اجازت دے دی گئی، جس کا واضح مطلب تھا کہ حفیظ سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں قومی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔

حفیظ کی تکنیک یا کپتانی پر اعتراض کیا جاسکتا ہے مگر ’’پروفیسر‘‘ کی حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی (تصویر: AFP)

حفیظ کی تکنیک یا کپتانی پر اعتراض کیا جاسکتا ہے مگر ’’پروفیسر‘‘ کی حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی (تصویر: AFP)

گو کہ حفیظ کی عدم شمولیت کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ان کے لیے پچھلا سال ناکامیوں سے عبارت رہا۔ آخری 13اننگز میں حفیظ نے صرف 135رنز بنائے ۔حفیظ نے اپنے آخری ٹیسٹ میں بھی محض 21اورایک رن بنائے جبکہ سری لنکا کے خلاف شارجہ کے اگلے ٹیسٹ میں اظہر علی کی فتح گر سنچری نے نہ صرف پاکستان کو کامیابی دلوائی بلکہ قومی ٹیم میں اپنی جگہ بھی واپس حاصل کرلی۔ یوں اظہر علی کی اس کارکردگی نے محمد حفیظ کو ٹیسٹ ٹیم سے آؤٹ کردیا ہے کیونکہ اوپننگ پوزیشن پر خرم منظور، احمد شہزاد اور شان مسعود کی موجودگی میں محمد حفیظ ٹاپ آرڈر میں جگہ نہیں بنا پارہے اور ون ڈاؤن پوزیشن پر اظہر علی کی واپسی نے محمد حفیظ سے سفید یونیفارم چھین لیا ہے۔

اس کے باوجود حفیظ کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ محض کارکردگی سے مشروط نہیں دکھائی دے رہا کیونکہ ماضی قریب میں جب سب کچھ محمد حفیظ کے حق میں تھا، تو اُس وقت تمام تر ناکامیوں کے باوجود وہ نہ صرف ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنتے رہے بلکہ کسی حد تک دوسروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے ’’پروفیسر‘‘کو فائنل الیون میں بھی شامل کیا جاتا رہا مگر اب محمد حفیظ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ’’بڑوں ‘‘کی ’’گڈ بک‘‘ سے نکل چکے ہیں۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کا پہلی مرتبہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کرپانا شاید اس کا بنیادی سبب تھا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف اہم مقابلے میں شکست کسی سے ہضم نہیں ہوئی اور ٹورنامنٹ کے بد بعد محمد حفیظ سے استعفیٰ دلوایا گیا حالانکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست کا سبب حفیظ کی قیادت سے زیادہ بیٹسمینوں کی غیر ذمہ داری کا عنصر تھا ۔

قیادت سے مستعفی ہونے کے بعد حفیظ نے متعدد بار اشاروں کنایوں میں میچ فکسنگ پر سخت سزائیں دینے کا مشورہ دیا ہے ۔محمد حفیظ کا اپنا ماضی صاف ستھرا ہے جنہوں نے قومی ٹیم سے تین سال دور رہنے کے باوجود آئی سی ایل جیسی باغی لیگ میں شمولیت اختیار نہیں کی بلکہ پاکستان کی نمائندگی کے لیے انتظار کیا ۔محمد حفیظ کی تکنیک یا کپتانی پر اعتراض کیا جاسکتا ہے مگر ’’پروفیسر‘‘ کی حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی اور اگر محمد حفیظ دبے لفظوں میں میچ فکسنگ کی بات کررہے ہیں تو پی سی بی کو اس کے خلاف کاروائی کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے ایسے عناصر کو بے نقاب کرنا چاہیے تو پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

چند دن پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ پی سی بی انتظامیہ نے جواریوں کو بورڈ میں رکھ لیا ہے اور غالباً اسی لیے ’’پروفیسر‘‘ کو آہستہ آہستہ قومی ٹیم سے دور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جو ممکنہ طور پر کچھ اہم عہدیداروں اور کھلاڑیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے!

Facebook Comments